Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
17 verses
1اور سُلیمان بن داؤد اپنی مملکت میں مُستحکم ہوا اور خُداوند اُس کا خُدا اُس کے ساتھ رہا اور اُسے نہایت سرفراز کیا۔
2اور سلیمان نے سارے اسرائیل یعنی ہزاروں اور سیکڑوں کے سرداروں اور قاضیوں اور سب اسرائیلیوں کے رئیسوں سے جو آبائی خاندانوں کے سردار تھے باتیں کیں۔
3اور سلیمان ساری جماعت سمیت جِبعُون کے اُونچے مقام کو گیا کیونکہ خُدا کا خیمہ اجتماع جسے خُداوند کے بندے موسیٰ نے بیابان میں بنایا تھا وہیں تھا۔
4لیکن خُدا نے صندُوق کو داؤد قریت یعریم سے اُس مقام میں اُٹھا لایا تھا جو اُس نے اُس کے لیئے تیار کیا تھا کیونکہ اُس نے اُس کے لیئے یروشلیم میں ایک خیمہ کھڑا کیا تھا۔
5پر پیتل کا وہ مذبح جسے بضلی ایل بِن اوری بِن حُور نے بنایا تھا وہیں خُداوند کے مسکن کے آگے تھا ۔ پس سلیمان اُس جماعت سمیت وہیں گیا۔
6اور سلیمان وہاں پیتل کے مذبح کے پاس جو خُداوند کے آگے خیمہ اجتماع میں تھا گیا ار اُس پر ایک ہزار سوختنی قربانیاں چڑھائیں۔
7اُسی رات خُدا سلیمان کو دِکھائی دیا اور اُس سے کہا مانگ میں تُجھے کیا دوں؟۔
8سلیمان نے خُدا سے کہا تُو نے میرے باپ داؤد پر بڑی مہربانی کی اور مُجھے اُس کی جگہ بادشاہ بنایا ۔
9اب اے خُداوند خُدا جو وعدہ تُو نے میرے باپ داؤد سے کیا وہ برقرار رہے کیونکہ تُو نے مُجھے ایک ایسی قوم کا بادشاہ بنایا ہے جو کثرت میں زمین کی خاک کے ذروں کی مانند ہے ۔
10سو مُجھے حکمت و معرفت عنایت کر تاکہ میں ان لوگوں کے آگے اندر باہر آیا جایا کرؤں کیونکہ تیری اس بڑی قوم کا انصاف کون کر سکتا ہے ۔
11تب خُداوند نے سلیمان سے کہا چونکہ تیرے دل میں یہ بات تھی اور تُو نے نہ تو دولت نہ مال نہ عزت نہ اپنے دشمنوں کی موت مانگی اور نہ عمر کی درازی طلب کی بلکہ اپنے لیئے حکمت و معرفت کی درخواست کی تاکہ میرے لوگوں کا جن پر میں نے تُجھے بادشاہ بنایا ہے انصاف کرے۔
12سو حکمت و معرفت تُجھے عطا ہوئی اور میں تُجھے اس قدر دولت اور مال اور عزت بخشوں گا کہ نہ تو اُن بادشاہوں میں سے جو تُجھ سے پہلے ہوئے کسی کو نصیب ہوئی اور نہ کسی کو تیرے بعد نصیب ہو گی۔
13چنانچہ سلیمان جِبعوُن کے اونچے مقام سے یعنی خیمہ اجتماع کے آگے سے یروشلیم کو لوٹ آیا اور بنی اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا۔
14اور سلیمان نے رتھ اور سوار اکٹھے کر لیئے اور اُس کے پاس ایک ہزا ر چار سو رتھ اور بارہ ہزار سوار تھے جن کو اُس نے رتھوں کے شہروں میں اور یروشلیم میں بادشاہ کے پاس رکھا ۔
15اور بادشاہ نے یروشلیم میں چاندی اور سونے کو کثرت کی وجہ سے پتھروں کی مانند اور دیواروں کو نشیب کی زمین کے گُولر کے درختوں کی مانند بنادیا۔
16اور سلیمان کے گھوڑے مصر سے آتے تھیاور بادشاہ کے سوداگر اُنکے جُھنڈ کے جُھنڈ یعنی ہر جُھنڈ کا مول کر کے اُن کو لیتے تھے۔
17اور وہ ایک رتھ چھو سو مِثقال چاندی اور ایک گھوڑا ڈیڑھ سو مِثقال میں لیتیاور مصر سے لے آتے تھے اور اسی طرح حِتیوں کے سب بادشاہوں اور ارام کے بادشاہوں لیئے اُن ہی کے وسیلے سے اُن کو لاتے تھے ۔