Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
34 verses
1اور یہو سفط کی دولت اور عزت فراوان تھی اور اُس نے اخی اب کے ساتھ ناتا جوڑا۔
2اور چند برسوں کے بعد وہ اخی اب کے پاس سامریہ کو گیا اور اخی اب نے اُس کے اور اُس کے ساتھیوں کے لیئے بھیڑ بکریاں اور بیل کثرت سے ذبح کیے اور اُسے اپنے ساتھ رامات جلعاد پر چڑھائی کرنے کی ترغیب دی۔
3اور اسرائیل کے بادشاہ اخی اب نے یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط سے کہا کیا تُو میرے ساتھ رامات جلعاد کو چلیگا؟اُس نے جواب دیا میں ویسا ہی ہوں جیسا تُو ہے اور میرے لوگ ایسے ہیں جیسے تیرے لوگ سو ہم لڑائی میں تیرے ساتھ ہونگے۔
4اور یہو سفط نے شاہِ اسرائیل سے کہا آج ذرا خُداوند کی بات درہافت کرے۔
5تب اسرائیل نے نبیوں کو جو چار سو مرد تھے اکٹھا کیا اور اُن سے پُوچھا ہم رامات جلعاد کو جائیں یا میں بعض رہوں؟اُنہوں نے کہا چڑھائی کر کیونکہ خُدا اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دیگا۔
6پر یہو سفط نے اُن سے کہا کیا یہاں اِنکے سوا خُداوند کاکوئی نبی نہیں تاکہ ہم اُس سے پُوچھیں؟۔
7شاہِ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا ایک شخص ہے تو سہی جس کے ذریعہ سے ہم خُدا وند سے پُوچھ سکتے ہیں لیکن مُجھے اُس سے نفرت ہے کیونکہ وہ میرے حق میں کبھی نیکی کی نہیں بلکہ ہمیشہ بدی کی پشیینگوئی کرتا ہے۔وہ شخص میکا یاہ بن اِملہ ہے یہوسفط نے کہا بادشاہ ایسا نہ کہے۔
8تب شاہِاسرائیل نے ایک عُہدہ دار کو بُلا کر حُکم کیا کہ میکا یاہ بن اِملہ کو جلد لے آ۔
9اور شاہِ اسرائیل اور شاہِ یہوداہ یہوسفط اپنے اپنے تخت پر اپنا اپنا لباس پہنے بیٹھے تھے اور سب انبیا اُنکے حضور نبوت کر رہے تھے۔
10اور صدقیاہ بن کنعنہ مے اپنے لیئے لوہے کے سینگ بنائے اور کہا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ تُو ان سے دھکیلیگا جب تک کہ وہ فنا نہ ہوجائیں۔
11اور سب نبیوں نے ایسی ہی نبوت کی اور کہتے رہے کہ رامات جلعاد کو جا اور کامیاب ہو کیونکہ خُداوند اُسے بادشاہ کے قبضہ میں کر دیگا ۔
12اور اُس قاصد نے کو میکایاہ کو بُلانے گیا تھا اُس سے یہ کہا دیکھ سب انبیا ایک زُبان ہو کر بادشاہ کو وشخبری دے رہے ہیں ۔سو تیری بات بھی ذرا اُن کی بات کی طرح ہوااور تُو خوشخبری ہی دینا۔
13میکایاہ نے کہا خُداوندکی حیات کی قسم جو کُچھ میرا خُدا فرمائیگا میں وہی کہونگا۔
14جب وہ بادشاہ ے پاس پُہنچا تو بادشا نے اُس سے کہا میکایاہ ہم رامات جلعاد کو جنگ کے لیئے جائیں یا میں بعض رہوں؟ اُس نے کہا تُم چڑھائی کرو اور کامیاب ہو اور وہ تمہارے ہاتھ میں کردئے جائینگے۔
15بادشاہ نے اُس سے کہا میں تُجھے کتنی بار قسم دیکر کہوں کہ تُو مُجھے خُداوندکے نام سے حق کے سوا اور کُچھ نہ بتائے۔
16اُس نے کہا میں نے سب بنی اسرائیل کو پہاڑوں پر اُن بھیڑوں کی مانند پراگندہ دیکھا جنکا کوئی چرواہا نہ ہو اور خُدا نے کہا ان کا کوئی مالک نہیں۔سو ان میں سے ہر شخص اپنے گھر سلامت لوٹ جائے۔
17تب شاہِ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا کیا میں نے تُجھ سے کہا نہ تھا کہ وہ میرے حق میں نیکی کی نہیں بلکہ بدی کی پشینگوئی کرے گا؟۔
18تب وہ بول اُٹھا اچھا تُم خُداوند کے سخن کو سنو ۔میں نے دیکھا کہ خُداوند اپنے تخت پر بیٹھا ہے اور سارا آسمانی لشکر اُس کے داہنے اور بائیں ہاتھ کھڑا ہے۔
19اور خُداوند نے فرمایا کہ شاہِ اسرائیل اخی اب کو کون بہکایگا تاکہ وہ چڑھائی کرے اور رامات جلعاد میں مقتول ہو ؟اور کسی نے کُچھ اور کسی نے کُچھ کہا۔
20تب ایک روح نکل کر خُداوند کے سامنے کھڑی ہوئی اور کہنے لگی میں اُسے بہکاؤنگی۔خُداوند نے اُس سے پُوچھا کس طرح؟۔
21خُداوند نے اُس سے پُوچھا کس طرح اُس نے کہا میں جاؤنگی اور اُس کے نبیوں کے منہ میں جھوٹ بولنے والی روح بن جاؤنگی ۔خُدانو نے اُسے کہا تُو اُسے بہکائے گی اور غالب بھی ہو گی۔جا اور ایسا ہی کر۔
22سو دیکھ خُداوند نے تیرے ان سب نبیوں کے منہ میں جھوٹ بولنے والی روح ڈالی ہے اور خُداوند نے تیرے حق میں بدی کا حُکم دیا ہے۔
23تب صدقیاہ بن کنعنہ نے پاس آ کر میکایاہ کے گال پر مارا اور کہنے لگا خُداوند کی روح تُجھ سے کلام کرنے کو کس راستے میرے پاس سے نکل کر گئی؟۔
24میکایاہ نے کہا اُس دن دیکھا لے گا جب تُو اندر کی کوٹھری میں چھُپنے کو گُھسیگا۔
25اور شاہِ اسرائیل نے کہا میکایاہ کو پکڑ کر اُسے شہر کے ناظم امون اور یوآس شہزادہ کے پاس لوٹا لے جاؤ۔
26اور کہنا کہ بادشاہ یوں فرماتا ہے کہ جب تک میں سلامت واپس نہ آجاؤں اس آدمی کو قید خانہ میں رکھو اور اُسے مصیبت کی روٹی کھلانا اور مُصیبت کا پانی پلانا۔
27میکایاہ نے کہا اگر تُو کبھی سلامت واپسآئے تو خُداوند نے میری معرفت کلام ہی نہیں کیا اور اُس نے کہا اَے لوگو تُم سے کے سب سُن لو۔
28سو شاہِ اسرائیل اور شاۃ، یہوداہ یہوسفط نے رامات جلعاد پر چڑھائی کی۔
29اور شاہِ اسرائیل نے یہوسفط سے کہا پنا بھیس بدل کر لڑائی میں جاؤنگا پر تُو اپنا لباس پہنے رہ۔سو شاہِ اسرائیل نے بھی بدل لیا اور لڑائی میں گئے ۔
30ادھر شاہِ ارام نے اپنے رتھوں کے سرداروں کو حُکم دیا تھا کہ اسرائیل کہ سوا کسی چھوٹے یا بڑے سے جنگ نہ کرنا۔
31اور ایسا ہوا کہ جب رتھوں کے سرداروں نے یہوسفط کو دیکھا تو کہنے لگے شاہِ اسرائیل یہی ۔سو وہ اُس سے لڑے کو مُڑے لیکن یہوسفط چلا اُٹھا اور خُداوند نے اُس کی مدد کی اور خُدا نے اُن کو اُس کے پاس سے لوٹا دیا۔
32جب رتھوں کے سرداروں نے دیکھا کہ شاہِ اسرائیل نہیں ہے تو اُس کا پیچھا چھوڑ کر لوٹ گئے۔
33اور کسی شخص نے یوں ہی کمان کھینچی اور شاہِ اسرائیل کو جوشن کے بندوں کے بیچ مارا۔تب اُس نے اپنے ساتھی سے کہا باگ موڑ اور مُجھے لشکر سے نکال لے چل کیونکہ میں بُہت زخمی ہوگیا ہوں۔
34اور اُس دن جنگ خوب ہی ہوئی تھی تو بھی شاہِ اسرائیل ارامیوں کے مقابل اپنے کو اپنے رتھ پر سنبھالے رہا اور سورج ڈوبنے کے قریب مر گیا۔