Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
37 verses
1اُسکے بعد ایسا ہوا کہ بنی موآب اور بنی عمون اور اُن کے ساتھ بعض عمونیوں نے یہوسفط سے لڑنے کو چڑھائی کی۔
2تب چند لوگوں نے آکر یہوسفط کو خبر دی کہ دریا کے پار ارام کی طرف سے ایک بڑا انبوہ تیرے مقابلہ کو آرہا ہے اور دیکھ وہ حصاصُون تمر میں ہیں جو عین جدی ہے۔
3اور یہوسفط ڈر کر دل سے خُداوند کا طالب ہوا اور سارے یہوداہ میں روزہ کی منادی کرائی ۔
4اور بنی یہوداہ خُداوند سے مدد مانگنے کو اکٹھے ہوئے بلکہ یہوداہ کے سب شہروں میں سے خُداوند سے مدد مانگنے کو آئے۔
5اور یہوسفط یہوداہ اور یروشلیم کی جماعت کے درمیان خُداوند کے گھر میں نئے صحن کے آگے کھڑا ہوا ۔
6اور کہا اَے خُداوند ہمارے باپ دادا کے خُدا کیا تُو ہی آسمان میں خُدا نہیں؟اور کیا قوموں کی سب مملکتوں پر حُکومت کرنے والا تُو ہی نہیں؟زور اور قُدرت تیرے ہاتھ میں ہے ایسا کہ کوئی تیرا سامنا نہیں کر سکتا۔
7اے ہمارے خُدا ! کیا تُو ہی نے اس سر زمین کے باشندوں کو اپنی قوم اسرائیل کے آگے سے نکال کر اسے اپنے دوست ابرہام کی نسل کو ہمیشہ کے لیئے نہیں دیا؟۔
8چُنانچہ وہ اس میں بس گئے اور اُنہوں نے تیرے نام کے لیئے اُس میں ایک مقدس بنایا ہے اور کہتے ہیں کہ۔
9اگر کوئی بلا ہم پر آپڑے جیسے تلوار یا آفت یا دبا یا کال تو ہم اس گھر کے آگے اور تیرے حضور کھڑے ہونگے (کیونکہ تیرا نام اس گھر میں ہے(اور ہم اپنی مُصیبت میں تُجھ سے فریاد کرئینگے اور تُو سُنیگا اور بچا لیگا۔
10سو اب دیکھ امون اور موآب اور کوہِ شعیر کے لوگ جن پر تُو نے بنی اسرائیل کو جب وہ مُلک مصر سے نکل کر آ رہے تھے حملہ کرنے نہ دیا بلکہ وہ اُن کی طرف سے مُڑ گئے اور اُن کو ہلاک نہ کیا۔
11دیکھ ہم کو کیسا بدلہ دیتے ہیں کہ ہم کو تیری میراث سے جس کا تو نے ہم کو مالک بنایا ہے نکالنے کو آرہے ہیں۔
12اے ہمارے خُدا کیا تُو اُن کی عدالت نہیں کریگا ؟کیونکہ اس بڑے انبوہ کے مقابل جو ہم پر چڑھا آتا ہے ہم کُچھ طاقت نہیں رکھتے اور نہ ہم یہ جانتے ہیں کہ کیا کریں بلکہ ہماری آنکھیں تُجھ پر لگی ہیں۔
13اور سارا یہودا ہ اپنے بچوں اور بیویوں اور لڑکوں سمیت خُداوند کے حضور کھڑا رہا۔
14تب جماعت کے بیچ یحزی ایل بن زکریاہ بن بنایاہ بن یعی ایل بن متنیاہ ایک لاوی پر جو بنی آسف میں سے تھا خُداوند کی روح نازل ہوئی۔
15اور کہنے لگا اَے تمام یہوداہ اور یروشلیم کے باشندو اور اے بادشاہ یہوسفط تُم سب سُنو۔خُداوند تُم کو یوں فرماتا کہ تُم اس بڑے انبوہ کی وجہ سے نہ تو ڈرو نہ گھبراؤ کیونکہ یہ جنگ تمہاری نہیں بلکہ خُدا کی ہے۔
16تُم کل اُن کا سامنا کرنے کو جانا۔ دیکھو وہ صیص کی چڑھائی سے آرہے ہیں اور دشت یروئیل کے سامنے وادی کے سرے پر تُم کو ملینگے۔
17تُم کو اس جگہ میں لڑنا نہیں پڑیگا ۔اے یہوداہ اور یروشلیم! تُم قطار باندھکر چُپ چاپ کھڑے رہنا اور خُداوند کی نجات جو تمہارے ساتھ ہے دیکھنا۔خوف نہ کرو اور ہراسان نہ ہو۔کل اُن کے مقابلہ کو نکلنا کیونکہ خُداوند تمہارے ساتھ ہے۔
18اور یہوسفط سر نگُون ہو کر زمین تک جھُکا اور تمام یہوداہ اور یروشلیم کے رہنے والوں نے خُدا کے آگے گھر کر اُس کو سجدہ کیا۔
19اور بنی قہات اور بنی قورح کے لاوی بُلند آواز خُدا وند اسرائیل کے خُدا کی حمد کرنے کو کھڑے ہوگئے۔
20اور وہ سُبح سویرے اُٹھکر دشت تقوع میں نکل گئے اور اُن کے چلتے وقت یہوسفط نے کھڑے ہو کر کہا اے یہوداہ اور یروشلیم کے باشندو !میری سُنو۔خُداوند اپنے خُدا پر ایمان رکھو تو تُم قائیم کیے جاؤ گے ۔اُس کے نبیوں کا یقین کرو تو تُم کامیاب ہو گے۔
21اور جب اُس نے قوم سے مشورہ کر لیا تو اُن لوگوں کو مُقرر کیا جو لشکر کے آگے آگے چلتے ہوئے خُداوند کے لیئے گائیں اور حُسن تقدس کے ساتھ اُسکی حمد کریں اور کہیں کہ خُداوند کی شُُکر گزاری کرو کیونکہ اُس کی رحمت ابد تک ہے ۔
22جب وہ گانے اور حمد کرنے لگے تو خُداوند نے بنی عمون اور موآب اور کوہِ شعیر کے باشندوں پر جو یہوداہ پر چڑھے آرہے تھے کمین والوں کو بیٹھا دیا۔سو وہ مارے گئے۔
23کیونکہ بنی عمون اور موآب اور کوہِ شعیر کے باشندوں کے مقابلہ میں کھڑے ہو ئے کہ اُن کو بالکل تہِ تیغ اور ہلاک کریں اور جب وہ شعیر کے باشندوں کا خاتمہ کر چُکے تو آپس میں ایک دوسرے کو ہلاک کرنے لگے۔
24اور جب یہواہ نے دید بانوں کے بُرج پر جو بیابان میں تھا پُہنچکر اُس انبوہ پر نظر کی تو کیا دیکھا کہ اُن کی لاشیں زمین پر پڑی ہیں اور کوئی نہ بچا۔
25جب یہوسفط اور اُس کے لوگ اُن کا مال لوٹنے آئے تو اُنکو اس کثرت سے دولت اور لاشیں اور قیمتی جواہر جنکو اُنہوں نے اپنے لیئے اُتار لیا ملے کہ وہ اُنکو لے جا بھی نہ سکے اور مال غنیمت اتنا تھا کہ وہ تین دن تک اس کے بٹورنے میں لگے رہے۔
26اور چوتھے دن وہ براکاہ کی وادی میں اکٹھے ہوئے کیونکہ اُنہوں نے وہاں خُداوند کو مُبارک کہا اس لیئے کہ اُس مقام کا نام آج تک براکاہ کی وادی ہے۔
27تب وہ لوٹے یعنی یہوداہ اور یروشلیم کا ہر شخص اور اُن کے آگے آگے یہوسفط تاکہ وہ خوشی خوشی یروشلیم کو واپس جائیں کیونکہ خُداوند نے اُن کو اُن کے دشمنوں پر شادمان کیاتھا۔
28سو وہ ستار اور بربط اور نرسنگے لیئے یروشلیم میں خُداوند کے گھر میں آئے۔
29اور خُدا کا خوف اُن مُلکوں کی سب سلطنتوں پر چھاگیا جب اُنہوں نے سُنو کہ اسرائیل کے دشمنوں سے خُداوند کی لڑائی ہے۔
30سو یہوسفط کی سلطنت میں امن رہا کیونکہ اُس کے خُدا نے اپسے کو چاروں طرف سے امان بخشی ۔
31یہوسفط یہوداہ پر سلطنت کرتا رہا ۔جب وہ سلطنت کرنے لگا تو پینییس برس کا تھا اور اُس نے یروشلیم میں پچیس برس سلطنت کی اور اُس کی ماں کا نام عُزبہ تھا جو سلحی کی بیٹی تھی۔
32اور وہ اپنے باپ آسا کی راہ پر چلا اور اُس سے نہ مُڑا یعنی وہی کیا جو خُدا کی نظر میں ٹھیک ہے ۔
33تو بھی اُونچے مقام دور نہ کیے گئے تھے اور اب تک لوگوں نے اپنے باپ دادا کے خُدا سے دل نہیں لگایا تھا ۔
34اور یہوسفط کے باقی کام شروع سے آخر تک یا ہو بن حنانی کی تاریخ میں درج ہیں جو اسرائیل کے سلاطین کی کتاب میں شامل ہے۔
35اس کے بعد یہوداہ کے بادشاہ یہوسفط نے اسرائیل کے بادشاہ اخزیاہ سے جو بڑابدکار تھا۔اتحاد کیا۔
36اور اس لیئے اُس سے اتحاد کیا کہ ترسیس جانے کو جہاز بنائے اور اُنہوں نے عصیون جابر میں جہاز بنائے۔
37تب الیعزر بن داؤد واہو نے جو مریسہ کا تھا یہوسفط کے برخلاف نبوت کی اور کہا اس لیئے کہ تُو نے اخزیاہ سے اتحاد کر لیا ہے خُداوند نے تیرے بنائے کو توڑ دیا۔ پس وہ جہاز ایسے ٹوٹے کہ ترسیس کو نہ جا سکے۔