Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
28 verses
1امصیاہ پچیس برس تھا جب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اُنتیس برس یروشلیم میں سلطنت کی اُس کی ماں کا نام یہوعدان تھاجو یروشلیم کی تھی۔
2اور اُس نے وہی کیا جو خُداوند کی نظر میں ٹھیک ہے پر کامل دل سے نہیں۔
3اور جب وہ سلطنت پر جم گیا تو اُس نے اپنے اُن ملازموں کو جنہوں نے اُس کے باپ بادشاہ ن کو مار ڈالا تھا قتل کیا ۔
4پر اُن کی اولاد کو جان سے نہیں مارا بلکہ اُسی کے مُطابق کیا جو موسیٰ کی کتاب توریت میں لکھا ہے جیساخُداوند نے فرمایا کہ بیٹوں کے بدلے باپ دادا نے مارے جائیں بلکہ ہر آدمی اپنے ہی گناہ کے لیئے مارا جائے۔
5اس کے سوا امصیاہ نے یہوداہ کو اکٹھا کیا اور اُن کو اُن کے آبائی خاندانوں کے مُوافق تمام مُلک یہوداہ اور بنیمین میں ہزار ہزار کے سرداروں اور سَو سَو کے سرداروں کے نیچے ٹھہرایا اور اُن میں سے جن کی عُمر بیس برس یا اُس سے اُوپر تھی اُنکو شمار کیا او ر اُن کو تین لاکھ چُنے ہوئے مرد پایا جو جنگ میں جانے کے قابل اور برچھی اور ڈھال سے کام لے سکتے تھے۔
6اور اُس نے سَو قنطار چاندی دے کر اسرائیل میں سے ایک لاکھ زبردست سُورما نوکر رکھے۔
7لیکن ایک مردِ خُدا نے اُس کے پاس آ کر کہا اَے بادشاہ اسرائیل کی فوج تیرے ساتھ جانے نہ پائے کیونکہ خُداوند اسرائیل یعنی سب بنی افرائیم کے ساتھ نہیں ہے۔
8پر اگر تُو جانا ہی چاہتا ہے تو جا اور لڑائی کے لیئیمضبوط ہو۔خُدا تُجھے دشمنوں کے آگے گرائیگا کیونکہ خُدا میں سنبھالنے اور گرانے کی طاقت ہے۔
9امصیاہ نے اُس مردِ خُدا سے کہا لیکن سَو قنطاروں کے لیئے جو میں نے اسرائیل لشکر کو دئے ہم کیا کریں؟اُس مردِ خُدا نے جواب دیا خُداوند تُجھے اس سے بُۃت زیادہ دے سکتا ہے۔
10تب امصیاہ نے اُس لشکر کو جو افرائیم میں سے اُسکے پاس آیا تھا جُدا کیا تاکہ وہ پھر اپنے گھر جائیں۔اس سبب سے اُن کا غصہ یہوداہ پر بُہت بھڑکا اور وہ نہایت غصہ میں گھر کو لوٹے۔
11اور امصیاہ نے حوصلہ باندھا اور اپنے لوگوں کو لے کر وادی شور کو گیا اور بنی شعیر میں سے دس ہزار کو ماردیا۔
12اور دس ہزار کو بند یہوداہ جیتا پکڑ کر لے گئے اور اُن کو ایک چٹان کی چوٹی پر پُہنچایا اور اُس چٹان کی چوٹی پر سے اپن کو نیچے گرادیا ایسا کے سب کے سب ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے۔
13پر اُس لشکر کے لوگ جن کو امصیاہ نے لوٹا دیا تھا کہ اُس کے ساتھ جنگ میں نہ جائیں سامریہ سے بیت حورُون تک یہوداہ کے شہر پر ٹوٹ پڑے اور اُن میں سے تین ہزار جوانوں کو مار ڈالا اور بُہت سی لوٹ لے گئے۔
14جب امصیاہ ادومیوں کے قتال سے لوٹا تو بنی شعیر کے دیوتاؤں کو لیتا آیااور اُن کو نصب کیا تا کہ وہ اُس کے معبود ہوں اور اُن کے آگے سجدہ کیا اور اُن کے آگے بخور جلائے۔
15اس لیئے خُداوند کا غضب امصیاہ پر بھڑکا اور اُس نے ایک نبی کو اُس کے پاس بھیجا جس نے اُس سے کہا تُواُن لوگوں کے دیوتاؤں کا طالب کیوں ہوا جنہوں نے اپنے ہی لوگوں کو تیرے ہاتھ سے نہ چھُڑایا؟۔
16وہ اُن سے باتیں کر ہی رہا تھا کہ اپس نے اُس سے کہا کہ کیا ہم نے تُجھے بادشاہ کا مُشِربنایا ہے ؟چُپ تُو کیوں مار کھائے؟ تب وہ نبی یہ کہہ کر چُپ ہو گیا کہ میں جانتا ہوں کہ خُدا کا ارادہ یہ ہے کہ تُجھے ہلاک کرے اس لیئے کہ تُو نے یہ کیا ہے اور میری مشورت نہیں مانی۔
17تب یہوداہ کے بادشاہ امصیاہ نے مشورہ کر کے اسرائیل کے بادشاہ یوآس بن یہو آخز بن یا ہو کے پس کہلا بھیجا کہ ذرا آ تو ہم ایک دوسرے کا مُقابلہ کریں۔
18سو اسرائیل کے بادشاہ یوآس نے یہوداہ کے بادشاہ امصیاہ کو کہلا بھیجا کہ لُبنان کے اُونٹکٹارے نے لُبنان کے دیوار کو پیغام بھیجا کہ اپنی بیٹی میرے بیٹے کو بیاہ دے ۔اتنے میں ایک جنگلی درندہ جو لُبنان میں رہتا تھا گُزرا اور اُس نے اُونٹکٹارے کو روند ڈالا۔
19تو کہتا ہے دیکھ میں نے ادومیون کو مارا سو تیرے دل میں گھمنڈ سما یا ہے کہ فخر کرے۔گھر ہی میں بیٹھا رہ تُو کیوں اپنے نقصان کے لیئے سدت اندازی کرتا ہے کہ تُو بھی گرے اور تیرے ساتھ یہوداہ بھی؟۔
20لیکن امصیاہ نے نہ مانا کیونکہ یہ خُدا کی طرف سے تھا کہ وہ اُن کو اُن کے دشمن کے ہاتھ میں کردے اس لیئے کہ ادومیوں کے معبودوں کے طالب ہوئے تھے۔
21سو اسرائیل کا بادشاہ یوآس چڑھ آیا اور وہ اور شاہِ یہوداہ امصیا ہ یہوداہ کے بیت شمس میں ایک دوسرے کے مقابل ہوئے۔
22اور یہوداہ نے اسرائیل کے مُقابلہ میں شکست کھائی اور اُن میں سے ہر ایک اپنے ڈیرے کو بھاگا۔
23اور شاہِ اسرائیل یوآس نے شاہِ یہوداہ امصیاہ بن یوآس بن یہو آخز کو بیت شمس میں پکڑ لیا اور اُسے یروشلیم میں لایا اور یروشلیم کی دیوار افرائیم کے پھاٹک سے کونے کے پھاٹک تک چار سو ہاتھ ڈھادی۔
24اور سارے سونے اور چاندی اور سب برتنوں کو جو عوبیدادوم کے پاس خُدا کے گھر میں ملے اور شاہی محل کے خزانوں کو اور کفیلوں کو بھی لے کر سامریہ کو لوٹا۔
25اور شاہِ یہوداہ امصیاہ بن یوآس شاہِ اسرائیل یوآس بن یہو آخز کے مرنے کے بعد پندرہ برس جیتا رہا۔
26اور امصیاہ کے باقی کام شروع سے آخر تک یا وہ یہوداہ اور اسرائیل کے بادشاہوں کی کتاب میں قلمبند نہیں ہیں؟۔
27اور جب سے امصیاہ خُداوند کی پیروی سے پھر اتب ہی ے یرولیم کے لوگوں نے اُس کیخلاف سازش کی ۔سو وہ لکیس کو بھاگ گیا پر اُنہوں نے لکیس میں اُسکے پیچھے لوگ بھیجکر اُسے وہاں قتل کیا۔
28اور وہ اُسے گھوڑوں پر لے آئے اور یہوداہ کے شہر میں اُس کے باپ دادا کے ساتھ اپسے دفن کیا۔