Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
31 verses
1حزقیاہ پچیس پرس کا تھاجب وہ سلطنت کرنے لگا اور اُس نے اُنتیس برس یروشلیم میں سلطنت کی۔اُس کی ماں کا نام ابیاہ تھا جو زکریاہ کئی بیٹی تھی۔
2اُس نے وہ کام جو خُداوند کی نظر میں درست ہے ٹھیک اُسی کے مُطابق جو اُس کے باپ دادا نے کیا ۔
3اُس نے اپنی سلطنت کے پہلے برس کے پہلے مہینے میں خُداوند کے دروازوں کو کھولا اور اُن کی مرمت کی اور وہ کاہنوں اور لاویوں کو لے آیا اور اُن کو مشرق کی طرف میدان میں اکٹھا کیا اور اُن سے کہا اے لاویو میری سُنو تُم اب اپنے آپ کو پاک کر اور خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کے گھر کو پاک کرو اور پاک مقام میں سے ساری نجاست کو نکال دو ۔
6کیونکہ ہمارے باپ دادا نے گناہ کیا اور جو خُداوند ہمارے خُدا کی نظر میں بُرا ہے وہی کیا اور خُدا کو چھوڑ دیا اور خُداوند کے مسکن سے منہ پیرلیا اور اپنی پیٹھ اُس کی طرف کر دی۔
7اور اوسارے کے دروازے کو بند کر دیا اور چراغ بُجھا دئے اور اسرائیل کے خُدا کے مقدس میں نہ تو بخور جلایا اور نہ ختنی قربانیاں چڑھائیں اس سبب سے خُداوند کا قہر یہوداہ اور یروشلیم پر نازل ہوا اور اُس نے اُن کو ایسا حوالہ کیا کہ مارے مارے پھریں اور حیرت اور سسکار کا باعث ہوں جیسا تُم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو۔
9دیکھو اسی سبب سے ہمارے باپ دادا تلوار سے مارے گئے اور ہمارے بیٹے بیٹیاں اور بیویاں اسیری میں ہیں۔
10اب میرے دل میں ہے کہ خُداوند اسرائیل کے خُدا کے ساتھ عہد باندھوں تاکہ اُس کا قہر شدید ہم پر سے ٹل جائے۔
11اے میرے فرزندوں تُم اب غافل نہ رہو کیونکہ خُداوند نے تُم کو چُن لیا ہے کہ اُس کے حضور کھڑے ہو اور اُسکی خدمت کرو اور اُس کے خادم بنو اور بخور جلاؤ۔
12تب یہ لاوی اُٹھے یعنی بنی قہات میں سے محت بن عماسی اور یوایل بن عُزریاہ اور بنی مراری میں سے قیس بن عبدی اور عُزریاہ بن یہللئیل اور جیرسونیوں میں سے یوآخ بن زمہ اور عدن بن یوآخ۔
13اور بنی الیصفن میں سے سمری اور یعوایل اور بنی آسف میں سے زکریاہ اور متنیاہ۔
14اور بنی ہیمان میں سے یحی ایل اور سمعی اور بنی یدوتون میں سے سمعیاہ اور عُزی ایل۔
15اور اُنہوں نے پنے بھائیوں کو اکٹھا کر کے اپنے آپ کو پاک کیا اور بادشا کے حُکم کے مُوافق جو خُداوند کے کلام کے مُطابق تھا خُداوند کے گھر کو پاک کرنے کے لیئے اندرگئے ۔
16اور کاہن خُداوند کے گھر کے ندرونی حصہ میں اُسے پاک صاف کرنے کو داخل ہوئے اور ساری نجاست کو جو خُداوند کی ہیکل میں اُن کو ملی نکال کر باہر خُداوند کے گھرکے صحن میں لے آئے اور لاویوں نے اُسے اٹھا لیا کہ اُسے باہر قدرون کے نال میں پُہنچا دیں۔
17اور پہلے مہینے کی پہلی تاریخ کو اُنہوں نے تقدیس کا کام شوع کیا اور اُس مہینے کی اٹھارھویں تاریخ کو اوسارے تک پُہنچے اور اُنہوں نے آٹھ دن میں خُداوند کے گھر کا پاک کیا سو پہلے مہینے کی سولھویں تاریخ کو اُسے تمام کیا تب اُنہوں نے محل کے انر حزقیاہ بادشاہ کے پاس جا کر کہا کہ ہم خُداوند کے سارے گھر کو اور وختنی قربانی کے مذبح کو اور اُس کے سب ظروف کو اور نظر کی روٹیوں کی میز کو اور اُس کے سب ظروف کو پاک صاف کردیا۔
19اس کے سوا ہم نے اُن سب طروفوں کو جن کوآخز بادشاہ نے اپنے دورِ سلطنت میں خطا کر کے رد کر دیا تھا پھر تیار کر کے اُن کو مُقدس کیا ہے اور دیکھ وہ خُداوند کے مذبح کے سامنے ہیں۔
20تب حزقیاہ سویرے اُٹھ کر اور شہر کے رئیسوں کو فراہم کر کے خُداوند کے گھر کو گیا ۔
21اور وہ سات بیل اور سات مینڈھے اور سات برے اور سات بکرے ملکیت کے لیئے اور مُقدس کے لیئے اور یہوداہ کے لیئے خطا کی قربانی کے واسطے لے آئے اور اُس نے کاہنوں یعنی بنی ہاروں کو حُکم کیا کہ اُن خُداوند کے مذبح پر چڑھائیں ۔
22سو اُنہوں نے بیلوں کو ذبح کیا اور کاہنوں نے خون کو لے کر اُسے مذبح پر چھڑکا پھر اُنہوں نے مینڈھوں کو ذبح کی اور خون کو مذبح پر چھڑکا اور بروں کو بھی ذبح کی اور خون مذبح پر چھڑکا۔
23اور وہ خطا کی قربانی کے بکروں کو بادشاہ اور جماعت کے نزدیک لے آئے اور اُنہوں نے اپنے ہاتھ اُن پر رکھے۔
24پھر کاہنوں نے اپں کو ذبح کی اور اُنکے خُون کو مذبح پر چھڑ کر خطا کی قربانی کی تاکہ سارے اسرائیل کے لیئے کفارہ ہو کیونکہ بادشاہ نے فرمایا تھا کہ سوختنی قربانی اور خطا کی قربانی سار اسرائیل کے لیئے چڑھائی جائے ۔
25اور اُس نے داؤد اور بادشاہ کی غیب بین جاد اور ناتن نبی کے حُکم کے مُطابق خُدا کے گھر میں لاویوں کو جھانج اور ستار اور بربط کے ساتھ مقرر کیا کیونکہ یہ نبیوں کی معرفت خُداوند کا حُکم تھا۔
26اور لاوی داؤدکے باجوں کو اور کاہن نرسنگوں کو لے کر کھڑے ہوئے ۔
27اور حزقیاہ نے مذبح پر سوختنی قربانی چڑھانے کا حُکم دیا اور جب سوختنی قربانی شروع ہوئی تو خُداوند کا گیت بھی نرسنگوں اور شاہِ اسرائیل داؤد کے باجوں کے ساتھ شروع ہوا ۔
28اور ساری جماعت نے سجدہ کیا اور گانے والے گانے اور نرسنگے والے نرسنگے پھونکنے لگیجب تک سوں تی قربانی جل نہ چُکی یہ سب ہوتا رہا۔
29اور جب وہ قربانی چڑھا چُُکے تو بادشاہ اور اُس کے سب حاضرین نے جُھک کر سجدہ کیا۔
30پھر حزقیاہ بادشاہ اور رئیسوں نے لاویوں کو حُکم کیا کہ داؤد اور آسف غیب بین کے گیت گا کر خُداوند کی حمد کریں اور اُنہوں نے خوشی سے مدح سرائی کی اور سر جھُکائے اور سجدہ کیا۔
31اور حزقیاہ کہنے لگا کے اب تُن نے اپنے آپ کو خُداوند کے لیئے پاک کر لیا ہے سو نزدیک آؤ اور خُداوند کے گھر میں ذبیحے اور شُکرگزاری کی قربانیاں لاؤ تب جماعت ذبیحے اور شُکرگزاری کی قربانیاں لائی اور جتنے دل سر راضی تھے سوختنی قربانیاں لائے ۔
32اور سوختنی قربانیوں کا شمار یہ تھا جو جماعت لائی یہ تھا ستر بیل سو مینڈے دو سو برے یہ سب خُداوند کی سوختنی قربانی کے لیئے تھے اور مُقدس کیئے ہوئے جانوار یہ تھے چھ سو بیل تین ہزار بھیڑ بکریاں۔
34مگر کاہن ایسے تھوڑے تھے کہ وہ ساری سوختنی قربانی کے جانوروں کی کھالیں اُتار نہ سکے اس لیئے اُن کے بھائی لاویوں نے اُن کی مدد کی جب تک کام تمام نہ ہوگیا اور کاہنون نے اپنے کو پاک نہ کر لیا کیونکہ لاوی اپنے آپ کو پاک کرنے میں کاہنوں سے زیادہ راست دل تھے۔
35اور سوں تنی قربانیاں بھی کثرت سے تھیں اور اُن کے ساتھ سلامتی کی قربانیوں کی چربی اور سوختنی قربانیوں کے تپاون یوں خُداوند کے گھر کی خدمت کی ترتیب درسُت ہوئی ۔
36اور حزقیاہ اور سب لوگ اُس کام کے سبب سے جو خُدا نے لوگوں کے لیئے تیار کیا تھا باغ باغ ہوئے کیونکہ وہ کا یکبار گی کیا گیا تھا۔