Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
27 verses
1اور حزقیاہ نے سارے اسرائیل کو اور یہوداہ کو کہلا بھیجا اور افرائیم اور منسی کے پاس بھی خط لکھ بھیجے کہ وہ خُداوند کے گھر میں یروشلیم کو خُداوند اسرائیل خُدا کے لیئے عید فسح کرنے کو آئیں۔
2کیونکہ بادشاہو اور سرداروں اور یروشلیم کی ساری جماعت نے دوسرے مہینے میں عید فسح منانے کو مشورہ کر لیا تھا۔
3کیونکہ وہ اُس وقت اُسے اس لیئے نہیں منا سکے کہ کاہنوں نے کافی تعداد میں اپنے آپ کو پاک نہیں کیا تھا اور لوگ بھی یروشلیم میں اکٹھے نہیں ہوئے تھے ۔
4اور یہ بات بادشاہ اور ساری جماعت کی نظر میں اچھی تھی ۔
5سو اُنہوں نے حُکم جاری کیا کہ بیرسبع سے دان تک سارے اسرائیل میں منادی کی جائے کہ لوگ یروشلیم میں آکر خُداوند اسرائیل کہ خُدا کے لیئے عید فسح کریں کیونکہ اُنہوں نے ایسی بڑی تعداد میں اُس کو نہیں منایا تھا جیسے لکھا ہے۔
6سو ہر کارے بادشاہ اور اُس کے سرداروں سے خط لے کر بادشاہ کے حُکم کے مُوافق سارے اسرائیل اور یہوداہ میں پھرے اور کہتے گئے اَے بنی اسرائیل ابرہام اور اضحاق اور اسرائیل کے خُداوند خُدا کی طرف رجوع لاؤ تاکہ وہ تمہارے باقی لوگوں کی طرف جو اسور کے بادشاہوں کے ہاتھ سے بچ رہے ہیں پھر متوجہ ہو۔
7اور تُم اپنے باپ دادا اور اپنے بھائیوں کی مانند مت ہو جنہوں نے خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کی نا فرمانی کی یہاں تک کہ اُس نے اُن کو چھوڑ دیا کہ برباد ہوجائیں جیسا تُم دیکھتے ہو۔
8پس تُم اپنے باپ دادا کی مانندگردن کش نہ بنو بلکہ خُداوند کے بابع ہو جاؤ اور اُس کے مقدس میں آؤ جسے اُس نے ہمیشہ کے لیئے مقدس کیا ہے اور خُداوند اپنے خُدا کی عبادت کرؤ تاکہ اُس کا قہر شدید تُم پر ٹل جائے۔
9کیونکہ اگر تُم خُداوند کی طرف پھر رجوع لاؤ تو تمہارے بھائی اور تمہارے بیٹے اپنے اسیر کرنے والوں کی نظر میں قابل رحم ٹھہرینگے اور اس مُلک میں پھر آینگے کیونکہ خُداوند تمہارا خُدا غفور و رحیم ہے اور اگر تُم اُس کی طرف پھرو تو وہ تُم سے اپنا مُنہ پھیر نہ لیگا۔
10سو ہر کارے افرائیم اور منسی کے مُلک میں شہر بہ شہر ہوتے ہوئے زبولون تک گئے پر اُنہوں نے اُن کا تمسخر کیا اور اُن کو ٹھٹھوں میں اُڑایا ۔
11پھر بھی آشر اور منسی اور زبولون میں سے بعض لوگوں نے فروتنی کی اور یروشلیم کو آئے۔
12اور یہوداہ پر بھی خُداوند کا ہاتھ کہ اُن کو یکدل بنادے تاکہ وہ خُداوند کے کلام کے مُطابق بادشاہ اور سرداروں کے حُکم پر اعمل کریں۔
13سو بُہت سے لوگ یروشلیم میں جمع ہوئے کہ دوسرے مہینے میں فطیری روٹی کی عید کریں۔یوں بُہت بڑی جماعت ہو گئی۔
14اور وہ اُٹھے اور اُن مذبحوں کو جو یروشلیم میں تھے اور بخور کی سب قربان گاہوں کو دُور کیا اور اُن کو قدرُون کے نالے میں ڈال دیا ۔
15پھر دوسرے مہینے کی چودھویں تاریخ کو اُنہوں نے فسح کو ذبح کیا اور کاہنوں اور لاویوں نے شرمندہ ہو کر اپنے آپ کو پاک کیا او خُداوند کے گھر میں سوختنی قربانیاں لائے۔
16اور وہ اپنے دستور پر مردِ خُدا موسیٰ کی شریعت کے مُطابق اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوئیاور کاہنوں نے لاویوں کے ہاتھ سے خون لے کر چھڑکا۔
17جماعت میں بُہتیرے ایسے تھے جنہوں نے اپنے آپ کو پاک نہیں کیا تھا اس لیئے یہ کام لاویوں کے سپُرد ہوا کہ وہ سب ناپاک شخصوں کے لئے فسح کے بروں کو ذبح کریں تا کہ وہ خُداوند کے لیئے مُقدس ہوں۔
18کیونکہ افرائیم اور منسی اور اشکور اور زبولون میں بُہت سے لوگوں نے اپنے آپ کو پاک نہیں کیا تھا تو بھی اُنہوں نے فسح کو جس طرح لکھا ہے اُس طرح سے نہ کھایا کیونکہ حزقیاہ نے اُن کے لیئے یہ دُعا کی تھی کہ خُداوند جو نیک ہے ہر ایک کو۔
19جس نے خُداوند خُدا اپنے باپ دادا کے خُدا کی طلب میں دل لگایا ہے مُعاف کرے گو وہ مُقدس کی طہارت کے مُطابق پاک نہ ہوا ہو۔
20اور خُداوند نے حزقیاہ کی سُنی اور لوگوں کو شفا دی۔
21اور جو بنی اسرائیل یروشلیم میں حاضر تھیاُنہوں نے بڑی خوشی سے سات دن تک عید فطیر منائی اور لاوی اور کاہن بُلند آواز کے باجوں کے ساتھ خُداوند کے حضور گا گا کر ہر روز خُدا کی حمد کرتے رہے۔
22اور حزقیاہ نے سب لاویوں سے جو خُداوند کی خدمت میں ماہر تھے تسلی بخش باتیں کیں سو وہ عید کے ساتوں دن تک کھاتے اور سلامتی کے ذبیحوں کی قربانیاں چڑھاتے اور خُداوند اپنے باپ دادا کے خُدا کے حضور اقرار کرتے رہے۔
23پھر ساری جماعت نے اور سات دن ماننے کا مشورہ کیا اور خوشی سے اور سات دن مانے۔
24کیونکہ شاہِ یہوداہ حزقیاہ نے جماعت کو قربانیوں کے لیئے ایک ہزار بچھڑے اور سات ہزار بھیڑیں عنایت کیں اور سرداروں نے جماعت کو ایک ہزار بچھڑے اور دس ہزار بھیڑیں دیں اور بُہت سے کاہنوں نے اپنے آپ کو پاک کیا۔
25اور یہوداہ کی ساری جماعت نے کاہنوں اور لاویوں سمیت اور اُس ساری جماعت نے جو اسرائیل میں سے آئی تھی اور اُن پردیسیوں نے جو اسرائیل کے مُلک سے آئے تھے اور جو یہوداہ میں رہتے تھے خوشی منائی۔
26سو یروشلیم میں بڑی خوشی ہوئی کیونکہ شاہِ اسرائیل سلیمان بن داؤد کے زمانہ سے یروشلیم میں ایسا نہیں ہوا تھا۔
27تب لاوی کاہنوں نے اُٹھ کر لوگوں کو برکت دی اور اُنکی سُنی گئی اور اُس کی دُعا اُس کے مُقدس مکان آسمان تک پُہنچی۔