Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
21 verses
1جب یہ ہو چُکا تو سب اسرائیلی جو حاضر تھے یہوداہ کے شہروں میں گئے اور سارے یہوداہ اور بنیمین کے بلکہ افرائیم اور منسی کے بھی ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کیا اور یسیرتوں کو کاٹ ڈالا اور اُنچے مقاموں اور مذبحوں کو ڈھا دیا یہاں تک کہ اُن سبھوں کو نابود کر دیا ۔تب سب بنی اسرائیل اپنے اپنے شہر میں اپنی اپنی ملکیت کو لَوٹ گئے۔
2اور حزقیاہ نے کاہنوں کے فریقوں کو اور لاویوں کو اُنکے فریقوں کے مُوافق یعنی کاہنوں اور لاویوں دونوں کے ہر شخص کو اُسکی خدمت کے مُطابق خُداوند کی خیمہ گاہ کے پھاٹکوں کے اندر سوختنی قربانیوں اور سلامتی کی قربانیوں کے لیئے اور عبادت اور شُکر گزاری اور ستایش کرنے کے لیئے مقرر کیا ۔
3اور اُس نے اپنے مال میں سے بادشاہی حصہ سوختنی قربانیوں کے لیئے اور سبتوں اور نئے چاندوں اور مُقررہ عیدوں کی سوختنی قربانیوں کے لیئے ٹھہرایا جیسا خُداوند کی شریعت میں لکھا ہے۔
4اور اُس نے اُن لوگوں کو جو یروشلیم میں رہتے تھے حُکم کیا کہ کاہنوں اور لاویوں کا حصہ دیں تاکہ وہ خُداوند کی شریعت میں لگے رہیں۔
5اس فرمان کے جاری ہوتے ہی بنی اسرائیل اناج اور مے اور تیل اور شہد اور کھیت کی سب پیداوار کے پہلے پھل بہتات سے دینے اور سب چیزوں کا دسواں حصہ کثرت سے لانے لگے۔
6اور بنی اسرائیل اور یہوداہ جو یہوداہ کے شہروں میں رہتے تھے وہ بھی بیلوں اور بھیڑ بکریوں کا دسواں حصہ اور اُن مُقدس چیزوں کا دسواں حصہ جو خُداوند اُن کے خُدا کے لیئے مُقدس کی گئی تھیں لائے اور اُنکو ڈھیر ڈھیر کر کے لگ دیا۔
7اُنہوں نے تیسرے مہینے میں ڈھیر لگانا شروع کیا اور ساتویں مہینے میں تمام کیا ۔
8جب حزقیاہ اور سرداروں نے آ کر ڈھیروں کو دیکھا تو خُداوند کو اور اُس کی قوم اسرائیل کو مُبارک کہا ۔
9اور حزقیاہ نے کاہنوں اور اور لاویوں سے اُن ڈھیروں کے بارے میں پوچھا۔
10تب سردار کاہن عزریاہ نے جو صدُدق کے خاندان کا تھا اُسے جواب دیا کہ جب سے لوگوں نے خُداوند کے گھر میں ہدئے لانا شروع کیا تب سے ہم کھاتے رہیاور ہم کو کافی ملا اور بُہت بچ رہا ہے کیونکہ خُداوند نے اپنے لوگوں کو برکت بخشی ہے اور وہی بچا ہوا یہ بڑا انبار ہے۔
11تب حزقیاہ نے حُکم کیا کہ خُداوند کے گھر میں کوٹھریاں تیار کریں ۔سو اُنہوں نے اُن کو تیار کیا ۔
12اور وہ ہدئے اور وہ دہ یکیاں اور مُقدس کی ہوئی چیزیں دیانت داری سے لاتے رہے اور اُن پر کصنیاہ لاوی ۔مُختار تھا اور اُس کا بھائی سمِعی نائب تھا۔
13اور یمیئیل اور عزریاہ اور نحات اور عساہیل اور یریموت اوریُوزبد اور ایی ایل اور اسماکیاہ اور محت اور بنایاہ حزقیاہ بادشاہ اور خُدا کے گھر کے سردار عزریاہ کے حُُکم سے کنعنیاہ اور اُس کے بھائی سمعی کے ماتحت پیشکار تھے۔
14مشرتی پھاٹک کا دربان یمنہ لاوی کا بیٹا قورے خُدا کی رضا کی قربانیوں پر مُقرر تھا تاکہ خُداوند کیک ہدیوں اور پاکترین چیزوں کو بانٹ دیا کرے۔
15اور اُس کے ماتحت عدن اور بنیمین یور یشوع اور سمعیاہ اور امریاہ اور سکنیاہ کاہنوں ے شہروں میں اس عُہد ہ پر مُقرر تھے کہ اپنے بھائیوں کو کیا بڑے کیا چھوٹے اُنکے ف��یقوں کے مُوافق حصہ دیا کریں۔
16اور اُن کے علاوہ اُن کو بھی دیں جو تین برس کی عُمر سے اور اُس سے اُوپر اُوپر مردوں کے نسب نامہ میں شمار کیے گئے یعنی اُن کو جو اپنے اپنے فریق کی باریوں پر اپنے اپنے ذمہ کی خدمت کر ہر روز کے فرض کے مُطابق انجام دینے کو خُداوند کے گھر میں جاتے تھے۔
17اور اُن کو بھی جو اپنے اپنے آبائی خاندان کے مُوافق کاہنوں کے نسب نامہ میں شمار کیے گئے اور اُن لاویوں کو جو بیس برس کے اور اُس سے اُوپر تھے اور اپنے اپنے فریق کی باری پر خدمت کرتے تھے۔
18اور اُن کو جو ساری جماعت میں سے اپنے اپنے بال بچوں اور بیویوں اور بیٹوں اور بیٹیوں کے نسب نامہ کے مُطابق مار کیے گئے کیونکہ اپنے اپنے مُقررہ کام پر وہ اپنے آپ کو تقدس کے لیئے پاک کرتے تھے۔
19اور بنی ہارون کے کاہنوں کے لیئے بھی جو شہر بہ شہر اپنے شہروں کے گرد و نواح کے کھیتوں میں تھے کئی مرد جن کے نام بتا دئے گئے تھے مُقرر ہوئے کہ کاہنوں کے سب مردوں کو اور اُن سبھوں کو جو لاویوں کے درمیان نسب نامہ کے مُطابق شمار کیے گئے تھے حصہ دیں۔
20سو حزقیاہ نے سارے یہوداہ میں ایسا ہی کیا اور جو کُچھ خُداوند اُس کے خُدا کی نظر میں بھلا اور درست اور حق تھا وہی کیا۔
21اور خُدا کے گھر کی خدمت اور شریعت اور احکام کے اعتبار سے جس جس کام کو اُس نے اپنے خُدا کا طلب ہونے کے لیئے کیا اُسے اپنے سارے دل سے کیا اور کامیاب ہوا۔