Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
33 verses
1ان باتوں اور اس ایمانداری کے بعد شاہِ اسور سخیرب چڑھ آیا اور یہوداہ میں داخل ہوا اور فصیل دار شہروں کے مقابل خیمہ زن ہوا اور اُن کو اپنے قبضہ میں لانا چاہا۔
2جب حزقیاہ نے دیکھا کہ سخیرب آیا ہے اور اُس کا ارادہ ہے کہ یروشلیم سے لڑے۔
3تو اُس نے اپنے سرداروں اور بھادروں کے ساتھ مشورت کی اور اُن چشموں کے پانی کو جو شہر سے باہر تھے بند کر دے اور اُنہوں نے اُس کی مدد کی۔
4اور بُہت لوگ جمع ہوئے اور سب چشموں کو اور اُس ندی کو جو اُس سر زمین کے بیچ بہتی تھی بند کرد یا کہ اسور کے بادشاہ آکر بُہت سا پانی کیوں پائیں؟۔
5اور اُس نے ہمت باندھی اور ساری دیوار کو جو ٹُوٹی تھی بنایا اور اُسے بُرجوں کے برابر اُونچا کیا اور باہر سے ایک دوسری دیوار اُٹھائی اور داؤد کے شہر میں ملو کو مضبوط کیا اور بُہت سے ہتھیار اور ڈھالیں بنائیں۔
6اور اُس نے لوگوں پر سر لشکر ٹھہرائے اور شہر کے پھاٹک کے پاس کے میدان میں اُن کواپنے پاس اکٹھا کیا اور اُن سے ہمت افزائی کی باتیں کیں اور کہا۔
7ہمت باندھو اور حوصلہ رکھو اور اسور ککے بادشاہ اور اُس کے ساتھ کے سارے انبوہ کے سبب سے نہ ڈرو نہ ہراسان ہو کیونکہ وہ جو ہمارے ساتھ ہے اُس سے بڑا ہے جو اُس کے ساتھ ہے۔
8اُس کے ساتھ بشر کا ہاتھ ہے لیکن ہمارے ساتھ خُداوند ہمارا خُدا ہے کہ ہماری مدد کرے اور ہماری لڑائیاں لڑے۔سو لوگوں نے شاہِ یہوداہ حزقیاہ کی باتوں پر تکیہ کیا۔
9اُس کے بعد شاہِ اسور سخیرب نے جو اپنے سارے لشکر کے ساتھ لکیس کے مقابل پڑا تھا اپنے نوکر یروشلیم کو شاہِ یہوداہ حزقیاہ کے پاس اور تمام یہوداہ کے پاس جو یروشلیم میں تھے یہ کہنے کو بھیجے کہ۔
10شاہِ سخیرب یوں فرماتا ہے کہ تمہارا کس پر بھروسہ ہے کہ تُم یروشلیم میں مُحارصرہ کو جھیل رہے ہو؟۔
11کیا حزقیاہ تُم کو قحط اور پیاس کی موت کے حوالہ کرنے کو تُم کو نہیں بہکارہا ہے کہ خُداوند ہمارا خُدا ہم کو شاہِ اسور کے ہاتھ سے بچالیگا؟۔
12کیا اسی حزقیاہ نے اُس کے اُونچے مقاموں اور مذبحوں کو دور کر کے یہوداہ اور یروشلیم کو حُکم نہیں دیا کہ تُم ایک ہی مذبح کے آگے سجدہ کرنا اور اُسی پر بخور جلانا ؟۔
13کیا تُم نہیں جانتے کہ میں نے اور میرے باپ دادا نے اور مُلکوں کے سب لوگوں سے کیا کیا کیا ہے ؟کیا اُن مُمالک کی قوموں کے معبود اپنے مُلک کو کسی طرح سے میرے ہاتھ سے بچا سکے؟۔
14جن قوموں کو میرے باپ دادا نے بالکل ہلاک کر ڈالا اُن کے معبودوں میں کون ایسا نکلا جو اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے بچا سکا کہ تمہارا معبود تُم کو میرے ہاتھ سے بچا سکے گا؟۔
15پس حزقیاہ تُم کو فریب نہ دینے پائے اور نہ اس طور پر بہکائے اور نہ تُم اس کا یقین کرو کیونکہ کسی قوم یا مملکت کا دیوتا اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے بچا نہیں سکا تو کتنا کم تمہارا معبود تُم کو میرے ہاتھ سے بچا سے گا۔
16اور اُس کے نوکروں نے خُداوند خُدا کے خلاف اور اُس کے بندہ حزقیاہ کے خلاف بُہت سی اور باتیں کہیں۔
17اور اُس نے خُداوند اسرائیل کے خُدا کی اہانت کرنے اور اُس کے حق میں کُفر بکنے کے لیئے اس مضمون کے خط بھی لکھے کہ جیسے اور مُلکوں کی قوموں کے معبودوں نے اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے نہیں بچایا ہے ویسے ہی حزقیاہ کا معبود بھی اپنے لوگوں کو میرے ہاتھ سے نہیں بچا سکیگا۔
18اور اُنہوں نے بڑی آواز سے پُکار کر یہودیوں کی زُبان میںیروشلیم کے لوگوں کو جو دیوار پر تھے یہ باتیں کہہ سُنائیں تاکہ اُن کو ڈرائیں اور پریشان کریں اور شہر کو لے لیں ۔
19اور اُنہوں نے یروشلیم کے خُداکا ذکر زمین کی قوموں کے معبودوں کی طرح کیا جو آدیوں کے ہاتھ کی صنعت ہیں۔
20اُسی سبب سے حزقیاہ بادشاہ اور آمُوص کے بیٹے یسعیاہ نبی نے دُعا کی اور آسمان کی طرف چلائے۔
21اور خُداوند نے ایک فرشتہ کو بھیجا جس نے شاہِ اسور کے لشکر میں سب زبردست سُورماؤں اور پیشواؤں اور سرداروں کو ہلاک کر ڈالا ۔پس وہ شرمندہ ہو کر اپنے شہر کو لوٹا اور جب وہ اپنے دیوتا کے مندر میں گیا تو اُن ہی نے و اُس کے صُلب میں سے نکلے تھے اُس وہیں تلوار سے قتل کیا۔
22یوں خُداوند نے حزقیاہ اور یروشلیم کے باشندوں کو شاہِ اسور سخیرب کے ہاتھ سے اور اور سبھوں کے ہاتھ سے بچا یا اور ہر طرف اُن کی راہنمائی کی ۔
23اوربُہت لوگ یروشلیم میں خُداوند کے لیئے ہدیے اور شاہِ یہوداہ حزقیاہ کے لیئے قیمتی چیزیں لائے یہاں تک کہ وہ اُس وقت سے سب قوموں کی نظر میں ممتاز ہوگیا۔
24اُن دنوں میں حزقیاہ ایسا بیمار پڑا کہ مرنے کے قریب ہو گیا اور اُس نے خُداوند سے دُعا کی تب اُس نے اُس سے باتیں کیں اور اُسے ایک نشان دیا۔
25لیکن حزقیاہ نے اُس احسان کے لائق جو اُس پر کیا گیا عمل نہ کیا کیونکہ اُس کے دل میں گھمنڈ سما گیااس لیئے اُس پر اور یہوداہ پر اور یروشلیم پر غضب بھڑکا۔
26تب حزقیاہ اور یروشلیم کے باشندوں نے اپنے دل کے غرور کے بدلے خاکساری اختیار کی۔سو حزقیاہ کے دنوں میں خُداوند کا غضب اُن پر نازل نہ ہوا ۔
27اور حزقیاہ کی دولت اور عزت نہایت فراوان تھی اور اُس نے چاندی اور سونے ار جواہر اور مصالح اور ڈھالوں اور سب طرح کی قیمتی چیزوں کے لیئے خزانے۔
28اور مے اور تیل کے لیئے انبار خانے اور سب قسم کے جانوروں کے لیئے اور بھیڑ بکریوں کے لیئے باڑے بنائے۔
29اُس کے علاوہ اُس نے اپنے لیئے شہر بسائے اور بھیڑ بکریوں اور گائے بیلوں کو کثرت سے مہیا کیاکیونکہ خُدا نے اُسے بُہت مال بخشا تھا ۔
30اسی حزقیاہ نے جیحون اور پانی کے اُوپر کے سوتے کو بند کردیا اور اُسے داؤد کے شہر کے مغرب کی طرف سیدھا پُہنچایا حزقیاہ اپنے سارے کام میں کامیاب ہوا ۔
31تو بھی بابل کے امیروں کے مُعاملہ میں جنہوں نے اپنی ایلچی اُس کے پاس بھیجے تاکہ اُس مُعجزہ کا حال جو اُس مُلک میں کیا گیا تھا دریافت کریں خُدا نے اُسے آزمانے کے لیے چھوڑ دیا تاکہ معلوم کرے کہ اُس کے دل میں کیا ہے۔
32اور حزقیاہ کے باقی کام اُس کے نیک اعمال آمُوص کے بیٹے یسعیاہ نبی کی رویا میں اور یہوداہ اور اسرائیل کی کتاب میں قلمبند ہیں۔
33اور حزقیاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے بنی داؤد کی قبروں کی چڑھائی پر دفن کیا اور سارے یہوداہ اور یروشلیم کے ساب باشندوں نے اُس کی موت پر اُس کی تعظیم کی اور اُس کا بیٹا منسی اُس کی جگہ بادشاہ ہوا۔