Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
27 verses
1اور یوسیاہ نے یروشلیم میں خُداوند کے لیئے عید فسح کی اور اُنہوں نے فسح کو پہلے مہینے کی چودھویں تاریخ کو ذبح کیا۔
2اور اُس نے کاہنوں کو اُن کی خدمت پر مُقرر کیا اور اُن کو خُداوند کے گھر کی خدمت کی ترغیب دی۔
3اور اُن لاویوں سے جو خُداوند کے لیئے مُقدس ہو کر تمام اسرائیل کو تعلیم دیتے تھے کہا کہ پاک صندوق کو اُس گھر میں جسے شاہ اسرائیل سلیمان بن د اؤد نے بنایا تھا رکھو۔آگے کو تمہارے کندھوں پر کوئی بوجھ نہ ہوگا۔سو اب تُم خُداوند اپنے خُدا کی اور اُس کی قوم اسرائیل کی خدمت کرؤ۔
4اور اپنے آبائی خاندانوں اور فریقوں کے مُطابق جیسا شاہِ اسرائیل داؤد نے لکھا اور جیسا اُس کے بیٹے سلیمان نے لکھا ہے اپنے آپ کو تیار کر لو۔
5اور تُم مقدس میں اپنے بھائیوں یعنی قوم کے فرزندوں کے آبائی خاندانوں کی تقسیم کے مُطاق کھڑے ہو تاکہ اُن میں سے ہر ایک کے لیئے لاویوں کے کسی نہ کسی آبائی خاندان کی کوئی شاخ ہو۔
6اور فسح کو ذبح کرو اور خُداون کے کلام کے مُطابق جو موسیٰ کی معرفت ملا عمل کرنے کے لیئے اپنے آپ کو پاک کرے اپنے بھائیوں کے لیئے تیار ہو۔
7اور یوسیاہ نے لوگوں کے لیئے جتنے وہاں موجود تھے ریوڑوں میں سے برے اور حلوان سن کے سب فسح کی قربانیوں کے لیئے دئے جو گنتی میں تیس ہزار تھے اور تین ہزار بچھڑے تھے ۔یہ سب بادشاہی مال مین سے دئے گئے۔
8اور اُس کے سرداروں نے رضا کی قربانی کے طور پر لوگوں کو اور کاہنوں کو اور لاویوں کو دیا۔ خلقیاہ اور زکریا ہ یحیٹیل نے جو خُدا کے گھر کے ناظم تھے کاہنوں کو فسح کی قربانی کے لیئے دو ہزار چھ سو بھیڑ بکری اور تیس سو بیل دئے۔
9اور کنعنیاہ نے اور اُس کے بھائیوں سمعیاہ اور نتنیئیل نے اور یعی ایل اور یوزبد نے جو لاویوں کے سردار تھے لویوں کو فسح کی قربانی کے لیئے پانچ ہزار بھیڑ بکری اور پانچ سو بیل دئے ۔
10یوں عبادت کی تیاری ہوئی اور بادشاہ کے حُکم کے مُطابق کاہن اپنی اپنی جگہ پر اور لاوی اپنے اپنے فریقے کے مُطابق کھڑے ہوئے۔
11انہوں نے فسح کو ذبح کیا اور کاہنوں نے اُن کے ہاتھ سے خون لے کر چھڑکا اور لاوی کھال کھینچتے گئے۔
12پھر اُنہوں نے سوختنی قربانیاں الگ کیں تاکہ وہ لوگوں کے آبائی خاندانوں کی تقسیم کے مُطابق خُداوند کے حضور چڑھانے کو اُن کو دیں جیسا موسیٰ کی کتاب میں لکھا ہے اور بیلوں سے بھی اُنہوں نے ایسا ہی کیا۔
13اور اُنہوں نے دستور کے مُوافق فسح کو آگ پر بھونا اور پاک ہڈیوں کو دیگوں اور ہنڈوں اور کڑاہیوں میں پکایا اور اُن کو جلد لوگوں کو پُہنچادیا۔
14اُس نے بعد اُنہوں نے اپنے لیئے اور کاہنوں کے لیئے تیار کیا کیونکہ کاہن یعنی بنی ہارون سوختنی قربانیوں اور چربی کے چڑھانے میں رات تک مشغول رہے۔ سو لاویوں نے اپنے لیئے اور کاہنوں کے لیئے جو بنی ہارون تھے تیار کیا۔
15اور گانے والے جو بنی آسف تھے داؤد اور آسف اور ہیمان اور بادشاہ کے غیب بین یدُوتون کے حُکم کے مُوافق اپنی اپنی جگہ میں تھے اور ہر دروازہ پر دربان تھے ۔اُن کو اپنا اپنا کام چھوڑنا نہ پڑا کیونکہ اُن کے بھائی لاویوں نے اُن کے لیئے تیار کیا ۔
16سو اُسی دن یوسیاہ بادشاہ کے حُکم کے مُوافق فسح ماننے اور خُداوند کے مذبح پر سوختنی قربانیاں چڑھانے کے لیئے خُداوند کی پُوری عبادت کی تیاری کی گئی۔
17بنی اسرائیل نے جو حاضر تھے فسح کو اُس وقت اور فطیری روٹی کی عید کو سات دن تک منایا۔
18اُس کی مانند کوئی فسح سموئیل نبی کے دنوں سے اسرائیل میں نہیں منایا گیا تھا اور نہ شاہان اسرائیل میں سے کسی نے ایسی عید فسح کی جیسی یوسیاہ اور کاہنوں اور لاویوں اور سارے یہوداہ اور اسرائیل نے جو حاضر تھے اور یروشلیم کے باشندوں نے کی۔
19فسح یوسیاہ کے سلطنت کے اٹھارھویں میں منایا گیا ۔
20اس سب کے بعد جب یوسیاہ ہیکل کو تیار کر چُکا تو شاہِ مصر نکوہ نے کر کمیس سے جو فرات کے کنارے ہے لڑنے کے لیئے چڑھائی کی اور یوسیاہ اُس کے مقابلہ کو نکلا۔
21لیکن اُس نے اُس کے پاس ایلچیوں سے کہلا بھیجا کہ اَے یہوداہ کے بادشاہ تُجھ سے میرا کیا کام؟ میں آج دب تُجھ پر نہیں بلکہ اُس خاندان پر چڑھائی کر رہا ہوں جس سے میری جنگ ہے اور خُدا نے مُجھ کو جلدی کرنے کا حُکم دیا ہے سو تُو خُدا سے جو میرے ساتھ ہے مزاحم نہ ہوا ۔ایسا نہ ہو کہ وہ تُجھے ہلاک کر دے۔
22لیکن یوسیاہ نے اُس نے منہ نہ موڑا بلکہ اُس سے لڑنے کے لیئے اپنا بھیس بدلا ر نکوہ کی بات جو خُدا کے مُنہ سے نکلی تھی نہ مانی اور مجدو کی وادی میں لڑنے کو گیا ۔
23اور تیر اندازوں نے یوسیاہ بادشاہ کو تیر مارا اور بادشاہ نے اپنے نوکروں سے کہا کہ مُجھے لے چلو کیونکہ میں بُہت زخمی ہوگیا ہوں۔
24سو اُس کے نوکروں نے اُسے اُس رتھ پر سے اُتار کر اُس کے دوسرے رتھ پر چڑھایا اور اُسے یرشلیم کو لے گئے اور وہ مرگیا اور اپنے باپ دادا کی قبروں میں دفن ہوا اور سارے یہوداہ اور یروشلیم نے یوسیاہ کے لیئے ماتم کیا۔
25اور یرمیاہ نے یوسیاہ پر نوحہ کیا اور گانے والے اور گانے والیاں سب اپنے مرثیوں میں آج کے دن تک یوسیاہ کا ذخر کرتے ہیں۔ یہ اُنہوں نے اسرائیل میں ایک دستور بنا دیااور دیکھو وہ باتیں نوحوں میں لکھی ہیں ۔
26اور یوسیا ہ کے باقی کام اور جیساُ داوند کی شریعت میں لکھا ہے اُس کے مُطابق اُسے نیک اعمال۔
27اور اُس کے کام شروع سے آخر تک اسرائیل اور یہوداہ کے بادشاہوں کی کتاب میں قلمبند ہیں۔