Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
31 verses
1جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی شہرت سُنی وہ مُشکل سوالوں سے سلیمان کو آزمانے کے لیئے بُہت بڑی جلو اور اُونٹوں کے ساتھ جن پر مصالح اور بافراط سونا اور جواہر تھے یروشلیم میں آئی اور سلیمان کے پاس آکر جو کُچھ اُس کے دل میں تھا سب کی بابت اُس سے گفتگو کی۔
2سلیمان نے اُس کے سب سوالوں کا جواب اُسے دیا اور سلیمان سے کوئی بات پوشیدہ نہ تھی کہ وہ اُس کو بتا نہ سکا۔
3جب سبا کی ملکہ نے سلیمان کی دانشمندی کو اور اُس گھر کو جو اُس نے بنایا تھا۔
4اور اُس کے دستر خوان کی نعمت اور اُس کے خادموں کی نشست اور اُس کے ملازموں کی حاضر باشی اور اُسن کی پوشاک اور اُس کے ساقیوں اور اُن کے لباس کو اور اُس زینہ کو جس سے وہ خُداوند کے مسکن کو جاتا تھا دیکھا تو اُس کے ہوش اُڑ گئے۔
5اور اُس نے بادشاہ سے کہا کہ وہ سچی خبر تھی جومیں نے تیرے کاموں اور تیری حکمت کی بابت اپنے مُلک میں سُنی تھی۔
6تَو بھی جب تک میں نے آ کر اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیا اُن کی باتوں کو باور نہ کیا اور دیکھ جتنی بڑی تیری حکمت ہے اس کا آدھا بیان بھی میرے آگے نہیں ہوا۔تو اُس شہرت سے بڑھ کر ہے جو میں نے سُنی تھی ۔
7خوش نصیب ہیں تیرے لوگ اور خوش نصیب ہیں تیرے یہ ملازم جو سدا تیرے حضور کھڑے رہتے ہیں اور تیری حکمت سُنتے ہیں۔
8خُداوند تیرا خُدا مُبارک ہے جو تُجھ سے ایسا راضی ہوا کہ تُجھ کو اپنے تخت پر بٹھایا تاکہ تُو خُداوند اپنے خُدا کی طرف سے بادشاہ ہو ۔ چونکہ تیرے خُدا کو اسرائیل سے مُحبت تھی کہ اُن کو ہمیشہ کے لیئے قائم کرے اس لیئے اُس نے تُجھے اُن کا بادشاہ بنایا تاکہ تُو عدل و انصاف کرے۔
9اور اُس نے ایک سَو بیس قنطار سونا اور مصالح کا بُہت بڑا انبار اور جواہر سلیمان کو دئے اور جو مصالح سبا کی ملکہ نے سلیمان کو دئے ویسے پھر کبھی میسر نہ آئے۔
10اور حورام کے نوکر بھی اور سلیمان کے نوکر جو اوفیر سے سونا لاتے تھے وہ چندن کے درخت اور جواہر بھی لاتے تھے۔
11اور بادشاہ نے چندن کی لکڑی سے خُداوند کے گھر کے لیئے اور شاہی محل کے لیئے چبوترے اور گانے والوں کے ئے بربط اورستار تیار کرائے اور ایسی چیزیں یہوداہ کے شہر میں پہلے کبھی دیکھنے میں نہ آئی تھیں۔
12اورسلیمان بادشاہ نے سبا کی ملکہ کو جو کُچھ اُس نے چاہا اور مانگا اُس سے زیادہ جو وہ بادشاہ کے لیئے لائی تھی دیا اور وہ لوٹکر اپنے ملازموں سمیت اپنی مملکت کو چلی گئی۔
13ور جتنا سونا سلیمان کے پاس ایک سال میںآتا تھا اُس کا وزن چھ سَو چھیاسٹھ قنطار سونے کا تھا ۔
14یہ اُسکے علاوہ تھا جو بیوپاری اور سوداگر لاتے تھے اور عرب کے سب بادشاہ اور مُلک کے حاکم سلیمان کے پاس سونا اور چاندی لاتے تھے۔
15اور سلیمان بادشاہ نے پیٹے ہوئے سونے کی دو سو بڑی ڈھالیں بنوائیں ۔چھ سو مثقال پیٹا ہوا سونا ایک ایک ڈھال میں لگا۔
16اور اُس نے پیٹے ہوئے سونے کی تین سو ڈھالیں اور بنوائیں ۔ایک ایک ڈھال میں تین سو مثقال سونا لگا اور بادشاہ نے اُن کو لُبنانی بن کے گھر میں رکھا۔
17اس کے سوا بادشاہ نے ہاتھی دانت کا ایک بڑا تخت بنوایا اور اُس پر خالص سونا منڈھوایا۔
18اور اُس تخت کے لیئے چھ سیڑھیاں اور سونے کا ایک پایدان تھا۔ یہ سب تخت سے جُڑے ہوئے تھے اور بیٹھنے کی جگہ کی دونوں طرف ایک ایک ٹیک تھی اور اُن ٹیکوں کے برابر شیر ببر کھڑے تھے۔
19اور اُن چھؤں سیڑھیوں پر ادھر اور اُدھر بارہ شیر ببر کھڑے تھے ۔کسی سلطنت میں ایسا کبھی نہیں بنا تھا۔
20اور سلیمان بادشاہ کے پینے سب برتن سونے کے تھے اور لُبنانی بن کے گھر کے سب برتن خالص سونے کے تھے۔سلیمان کے ایام میں چاندی کی کوئی قدر نہ تھی۔
21کیونکہ بادشاہ کے پاس جہاز تھے جو حورام کے نوکروں کے ساتھ ترسیس کو جاتے تھے۔ ترسیس کے یہ جہاز تین برس میں ایک بار سونا اور چاندی اور ہاتھی دانت اور بندر اور مور لے کر آتے تھے۔
22سو سلیمان بادشاہ دولت اور حکمت میں رویِ زمین کے سب بادشاہوں سے بڑھ گیا۔
23اور رویِ زمین کے سب بادشاہ سلیمان کے دیدار کے مُشتاق تھے تاکہ وہ اُس کی حکمت کو جو خُدا نے اُس کے دل میں ڈالی تھی سُنیں ۔
24اور وہ سال بسال اپنا اپنا ہدیہ یعنی چاندی کے برتن اور پوشاک اور ہتھیار اور مصالح اور گھوڑے اور خچر جتنے مُقرر تھے لاتے تھے۔
25اور سلیمان کے پاس گھوڑوں اور رتھوں کے لیئے چار ہزار تھان اور بارہ ہزار سوار تھے جنکو اُس نے رتھوں کے شہروں اور یروشلیم میں بادشاہ کے پاس رکھا۔
26اور وہ دریایِ فرات سے فلستیوں کے مُلک میں بلکہ مصر کی حد تک سب بادشاہوں پر حکمران تھا۔
27اور بادشاہ نے یروشلیم میں افراط کی وجہ سے چاندی پتھروں کی مانند اور دیوار کے درختوں کو گولر کے اُن درختوں کے برابر کر دیا جو نشیب کی سر زمین میں ہیں۔
28اور وہ مصر سے او اور سب مُلکوں سے سلیمان کے لیئے گھوڑے لایا کرتے تھے۔
29اور سلیمان کے باقی کام شروع سے آخر تک کیا وہ ناتن نبی کی کتاب میں اور سیلانی اخیاہ کی پشینگوئی میں اور عید و غیب بین کی رویتوں کی کتاب میں جو اُس نے یربعام بن بناط کی بابت دیکھی تھیں مُندرج نہیں ہیں۔
30اور سلیما نے یروشلیم میں سارے اسرائیل پر چالیس برس سلطنت کی۔
31اور سلیمان اپنے باپ داؤد کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ داؤد کے شہر میں دفن ہو ا اور اُس کا بیٹا رُحبعام اُس کی جگہ سلطنت کرنے لگا۔