Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
18 verses
1کیا ہم پھِر اپنی نیک نامی جتانا شُرُوع کرتے ہیں؟ یا ہم کو بعض کی طرح نیک نامی کے خط تُمہارے پاس لانے یا تُم سے لینے کی حاجت ہے؟
2ہمارا جو خط ہمارے دِلوں پر لِکھا ہُؤا ہے وہ تُم ہو اور اُسے سب آدمِی جانتے اور پڑھتے ہیں۔
3ظاہِر ہے کہ تُم مسِیح کا وہ خط ہو جو ہم نے خادِموں کے طَور پر لِکھا۔ سیاہی سے نہِیں بلکہ زِندہ خُدا کی رُوح سے۔ پتھّر کی تختِیوں پر نہِیں بلکہ گوشت کی یعنی دِل کی تختِیوں پر۔
4ہم مسِیح کی معرفت خُدا پر اَیسا ہی بھروسا رکھتے ہیں۔
5یہ نہِیں کہ بذاتِ خُود ہم اِس لائِق ہیں کہ اپنی طرف سے کُچھ خیال بھی کر سکیں بلکہ ہماری لِیاقت خُدا کی طرف سے ہے۔
6جِس نے ہم کو نئے عہد کے خادِم ہونے کے لائِق بھی کِیا۔ لفظوں کے خادِم نہِیں بلکہ رُوح کے کِیُونکہ لفظ مار ڈالتے ہیں مگر رُوح زِندہ کرتی ہے۔
7اور جب مَوت کا وہ عہد جِس کے حُرُوف پتھّروں پر کھودے گئے تھے اَیسا جلال والا ہُؤا کہ بنی اِسرائیل مُوسیٰ کے چہرہ پر اُس جلال کے سبب سے جو اُس کے چہرہ پر تھا غَور سے نظر نہ کر سکے حالانکہ وہ گھٹتا جاتا تھا۔
8تو رُوح کا عہد تو ضرُور ہی جلال والا ہوگا۔
9کِیُونکہ جب مُجرِم ٹھہرانے والا عہد جلال والا تھا تو راستبازی کا عہد تو ضرُور ہی جلال والا ہوگا۔
10بلکہ اِس صُورت میں وہ جلال والا اِس بے اِنتہا جلال کے سبب سے بے جلال ٹھہرا۔
11کِیُونکہ جب مِٹنے والی چِیز جلال والی تھی تو باقی رہنے والی چِیز تو ضرُور ہی جلال والی ہوگی۔
12پَس ہم اَیسی اُمِید کر کے بڑی دِلیری سے بولتے ہیں۔
13اور مُوسیٰ کی طرح نہِیں ہیں جِس نے اپنے چہرہ پر نِقاب ڈالا تاکہ بنی اِسرائیل اُس مِٹنے والی چِیز کے انجام کو نہ دیکھ سکیں۔
14لیکِن اُن کے خیالات کثِیف ہو گئے کِیُونکہ آج تک پُرانے عہد نامہ کو پڑھتے وقت اُن کے دِلوں پر وُہی پردہ پڑا رہتا ہے اور وہ مسِیح میں اُٹھ جاتا ہے۔
15مگر آج تک جب کبھی مُوسیٰ کی کِتاب پڑھی جاتی ہے تو اُن کے دِل پر پردہ پڑا رہتا ہے۔
16لیکِن جب کبھی اُن کا دِل خُداوند کی طرف پھِرے گا تو وہ پردہ اُٹھ جائے گا۔
17اور وہ خُداوند رُوح ہے اور جہاں کہِیں خُداوند کا رُوح ہے وہاں آزادی ہے۔
18مگر جب ہم سب کے بے نِقاب چہروں سے خُداوند کا جلال اِس طرح مُنعِکس ہوتا ہے جِس طرح آئِینہ میں تو اُس خُداوند کے وسِیلہ سے جو رُوح ہے ہم اُسی جلالی صُورت میں درجہ بدرجہ بدلتے جاتے ہیں۔