Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
29 verses
1اور شاہ اسرائیل یہو آخز کے بیٹے یوآس کے دوسرے سال سے شاہِ یہوداہ یو آس کا بیٹا امصیاہ سلطنت کرنے لگا ۔
2وہ پچس برس کا تھا جب سلطنت کرنے لگا اور اُس نے یروشلیم میں اُنتیس برس سلطنت کی۔ اُس کی ماں کا نام یہوعدان تھا جو یروشلیم ک تھی ۔
3اور اُس نے وہ کام کیا جو خُداوند کی نظر میں بھلا تھا تو بھی اپنے باپ داود کی مانند نہیں بلکہ اُس نے سب کچھ اپنے باپ داود کی مانند نہیں بلکہ اُس نے سب کچھ اپنے باپ یوآس کی طرح کیا ۔
4کیونکہ اونچے مقام ڈھائے نہ گئے ۔ لوگ ہنوز اونچے مقاموں پر قُربانی کرتے اور بخور جلاتے تھے۔
5اور جب سلطنت اُسکے ہاتھ میں مستحکم ہو گئی تو اُس نے اپنے اُن ملازموںکو جنہوں نے اُسکے باپ بادشاہ کو قتل کیا تھا جان سے مارا ۔
6پر اُس نے اُن خونیوں کے بچوں کو جان سے نہ مارا کیونکہ موسیٰ کی شریعت کی کتاب میں جیسا خُداوند نے فرمایا لکھا ہے کہ بیٹوں کے بدلے باپ نہ مارے جائیں اور نہ باپ کے بدلے بیٹے مارے جائیں بلکہ ہر شخص اپنے ہی گناہ کے سبب سے مرے ۔
7اور اُس نے وادیِ شور میں دس ہزار ادومی مارے اور سِلع کو جنگ کر کے لے لیا اور اُسکا نام یقیل رکھا جو آج تک ہے ۔
8تب امصیاہ نے شاہِ اسرائیل یہوآس بن یہو آخز بن یا ہو کے پاس قاصد روانہ کیے اور کہلا بھیجا کہ ذرا آ تو ہم ایک دوسرت کا مقابلہ کریں ۔
9اور شاہِ اسرائیل یہو آس اُس شاِ یہوداہ امصیاہ کو کہلا بھیجا کہ لُبنان کے اونٹ کٹارے نے لُبنان کے دیودار کو پیغام بھیجا کہ اپنی بیٹی میرے بیٹے سے بیاہ دے ۔ اِتنے میں ایک جنگلی جانور نے جو لُبنان میں تھا گذرا اور اونٹ کٹارے کو روند ڈالا۔
10تُو نے بے شک ادوم کو مارا اور تیرے دل میں غرور سما گیا ہے ۔ سو اُسی کی ڈینگ مار اور گھر ہی میں رہ ۔ تُو کیوں نقصان اُٹھانے کو چھیڑ چھاڑ کرتا ہے جس سے تُو بھی زک اُٹھائے اور تیرے ساتھ یہوداہ بھی؟
11پر امصیاہ نے نہ مانا ۔ تب شاہِ اسرائیل یہو آس نے چڑھائی کی اور وہ اور شاہ یہوداہ امصیاہ بیت شمس میں جو یہوداہ میں ہے اور ایک دوسرے کے مقابل ہوئے۔
12اور یہوداہ نے اسرائیل کے آگے شکست کھائی اور اُن میں سے ہر ایک اپنے ڈیرے کو بھاگا ۔
13لیکن شاہِ اسرائیل یہو آس نےشاہ یہوداہ امصیاہ بن یہو آس بن اخزیاہ کو بیت شمس میں پکڑ لیا اور یروشلیم میں آیا اور یروشلیم کی دیوار افرائیم کے پھاٹک سے کونے والے پھاٹک تک چار سو ہاتھ کے برابر ڈھا دی ۔
14اور اُس نے سب سونے اور چاندی کو اور سب برتنوں کو جو خُداوند کی ہیکل اور شاہی محل کے خزانوں میں مِلے اور کفیلوں کو بھی ساتھ لیا اور سامریہ کو لوٹا۔
15اور یہو آس کے باقی کام جو اُس نے کیے اور اُسکی قوت اور جیسے شاہِ یہودا امصیاہ سے لڑا سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
16اور یہو آس اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اسرائیل کے بادشاہوں کے ساتھ سامریہ میں دفن ہوا اور اُسکا بیٹا یُربعام اُسکی جگہ بادشاہ ہوا۔
17اور شاہِ یہوداہ یو آس کا بیٹا امصیاہ شاہِ اسرائیل یہو آخز کے بیٹے یہو آس کے رنے کے بعد پندرہ برس جیتا رہا ۔
18اور امصیاہ کے باقی کام سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں؟
19اور اُنہوں نے یروشلیم میں اُسکے خلاف سازش کی سو وہ لکیس کو بھاگا لیکن اُنہوں نے لکیس تک اُسکا پیچھا کر کے وہیں ُسے قتل ک��ا۔
20اور وہ اُسے گھوڑوں پر لے آئے اور وہ یروشلیم میں اپنے باپ دادا کے ساتھ داود کے شہر میں دفن ہوا ۔
21اور یہودہ کے سب لوگوں نے عزریاہ کو جو سولہ برس کا تھا اُسکے باپ امصیاہ کی جگہ بادشاہ بنایا ۔
22اور بادشاہ کے اپنے باپ دادا کے ساتھ سو جانے کے بعد اُس نے ایلات کو بنایا اور اُسے پھر یہوداہ کی مملکت میں داخل کر لا ۔
23اور شاہ یو آس کے بیٹے امصیاہ کے پندرھویں برس سے شاہِ اسرائیل یوآس کا بیٹا یُربعام سامریہ میں بادشاہی کرنے لگا ۔ اُس نے اکتالیس برس بادشاہی کی ۔
24اور اُس نے خپداوند کی نظر میں بدی کی ۔ وہ نباط کے بیٹے یُربعام کے اُن سب گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا باز نہ آیا ۔
25اور اُس نے خُداوند اسرائیل کے خُدا کے اُس سخن کے مطابق جو اُس نے اپنے بندہ اور نبی یوناہ بن اِمتی کی معرفت جو جات حفر کا تھا فرمایا تھا اسرائیل کی حد کو حمات کے مدخل سے میدان کے دریا تک پھر پہنچا دیا ۔
26اِس لیے کہ خُداوند نے اسرائیل کے دُکھ کو دیکھا کہ وہ بہت سخت کیونکہ نہ تو کوئی بند کیا ہوا نہ آزاد چھُوٹا ہوا رہا اور نہ کوئی اسرائیل کا مدد گار تھا۔
27اور خُداوند نے یہ تو نہیں فرمایا تھا کہ میں روِ زمین پر سے اسرائیل کا نام مٹا دونگا ۔ سو اُس نے اُنکو یو آس کے بیٹے یُربعام کے وسیلہ سے رہائی دی ۔
28اور یُربعام کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا اور اُسکی قوت یعنی کیونکر اُس نے لڑ کر دمشق اور حمات کو جو یہوداہ کے تھے اسرائیل کے لیے واپس لے لیا ۔ سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی توایخ کی کتاب میں قلمبند نہیں؟
29اور یُربعام اپنے باپ دادا یعنی اسرائیل کے بادشاہوں کے ساتھ سو گیا اور اُس کا بیٹا زکریاہ اُسکی جگہ بادشاہ ہُوا۔