Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
38 verses
1شاہِ اسرائیل یُربعام کے ستائیسویں برس سے شاہ یہوداہ امصیاہ کا بیٹا عزریا سطلنت کرنے لگا ۔
2جب وہ سلطنت کرنے لگا تو سولہ برس کا تھا اور اُس نے یروشلیم میں باون برس سلطنت کی ۔ اُسکی ماں کا نام یکولیاہ تھا جو یروشلیم کی تھی ۔
3اور اُس نے جیسا اُسکے باپ امصیاہ نے کیا تھا ٹھیک اُسی طرح وہ کام کیا جو خُداوند کی نظر میں بھلا تھا ۔
4تو بھی اونچے مقام ڈھائے نہ گئے اور لوگ اب تک اونچے مقاموں پر قُربانی کرتے اور بخور جلاتے تھے ۔
5اور بادشاہ پر خُداوند کی ایسی مار پڑی کہ وہ اپنے مرنے کے دن تک کوڑھی رہا اور الگ ایک گھر میں رہتا تھا اور بادشاہ کا بیٹا یوتام محل کا مالک تھا اور مُلک کے لوگوں کی عدالت کیا کرتا تھا ۔
6اور عزریاہ کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں؟
7اور عزریاہ اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُنہوں نے اُسے داود کے شہر میں اُسکے باپ دادا کے ساتھ دفن کیا اور اُسکا بیٹا یوتام اُسکی جگہ بادشاہ ہوا۔
8اور شاہ یہوداہ عزریاہ کے اڑتیسویں سال یُربعام کے بیٹے زکریاہ نے اسرائیل پر سامریہ میں چھ مہینے بادشاہی کی ۔
9اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی جس طرح اُسکے باپ دادا نے کی تھی اور نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا باز نہ آیا ۔
10اور یبیس کے بیٹے سلوم نے اُسکے خلاف سازش کی اور لوگوں کے سامنے اُسے مارا اور قتل کیا اور اُسکی جگہ بادشاہ ہو گیا ۔
11اور زکریاہ کے باقی کام اسرائیل کے بادشاہوں کی توایخ کی کتاب میں قلمبند نہیں؟
12اور خُداوند کا وہ وعدہ جو اُس نے یا ہو سے کیا یہی تھا کہ چوتھی پُشت تک تیرے فرزند اسرائیل کے تخت پر بیٹھیں گے ۔ سو ویسا ہی ہوا۔
13اور شاہ یہوداہ عزریاہ کے اُنتالیسویں برس یبیس کا بیٹا سلوم بادشاہی کرنے لگا اور اُس نے سامریہ میں مہینہ بھر سلطنت کی۔
14اور جادی کا بیٹا مناحم ترضہ سے چلا اور سامریہ میں آیا اور یبیس کے بیٹے سلوم کو سامریہ میں مارا اور قتل کیا اور اُسکی جگہ بادشاہ ہو گیا۔
15اور سلوم کے باقی کام اور جو سازش اُس نے کی سو دیکھو وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند ہیں۔
16پھر مناحم نے ترضہ سے جا کر تفسح کو اور اُن سبھوں کو جو وہاں آئے تھے اور اُسکی حدود کو مارا اور مارنے کا سبب یہ تھا کہ اُنہوں نے اُس کے لیے پھاٹک نہیں کھولے تھے اور اُس نے وہاں کی سب حاملہ عورتوں کو چیر ڈالا ۔
17اور شاہِ یہوداہ عزریاہ کے اُنتالیسویں برس سے جادی کا بیٹا مناحم اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے سامریہ میں دس برس سلطنت کی ۔
18اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں سے جن سے اُس نے سرائیل سے گناہ کرایا اپنی ساری عمر باز نہ آیا ۔
19اور شاہ اسور پُول کو نذر کی تاکہ وہ اُسکی دستگیری کرے اور سلطنت کو اُسکے ہاتھ میں مستحکم کر دے ۔
20اور مناحم ے یہ نقدی شاہ اسور کو دینے کے لیے اسرائیل سے یعنی سب بڑے بڑے دولتمندوں سے پچاس پچاس مثقال فی کس کے حساب سے جبراً لی ۔ سو اسور کا بادشاہ لوٹ گیا اور اُس ملک میں نہ ٹھہرا ۔
21اور مناحم کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا سو کیا وہ اسرائیل کے بادشاہوں کی تو��ریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟
22اور مناحم اپنے باہ دادا کے ساتھ سو گیا اور اُسکا بیٹا قفیحاہ اُسکی جگہ بادشاہ ہوا ۔
23اور شاہِ یہوداہ عزریاہ کے پچاسویں سال مناحم کا بیٹا قفیحیاہ سامریہ میں اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے دو برس سلطنت کی ۔
24اور اُس نے خپداوند کی نظر میں بدی کی ۔ وہ نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا باز ہ آیا ۔
25اور فقح بن رملیاہ نے جو اُسکا ایک سردار تھا اُسکے خلاف سازش کی اور اُسکو سامریہ میں بادشاہ کے محل کے محکم حصہ میں ارجوب اور اریہ کے ستاتھ مارا اور جلعادیوں میں سے پچاس مرد اُسکے ہمراہ تھے ۔ سو وہ اُسے قتل کر کے اُسکی جگہ بادشاہ ہو گیا ۔
26اور فقحیاہ کے باقءیی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند ہیں ۔
27اور شاہ یہوداہ عزریاہ کے بانویں برس سے فقح بن رملیاہ سامریہ میں اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا اور اُس نے بیس برس سلطنت کی ۔
28اور اُس نے خُداوند کی نظر میں بدی کی اور نباط کے بیٹے یُربعام کے گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا باز نہ آیا ۔
29اور شاہِ اسرائیل فقح کے ایام میں شاہِ اسور تگلت پلاسر نے آکر ایون اور ایبل بیت معکہ اور ینوحہ اور قادس اور حصور اور جلعاد اور گلیل اور نفتالی کے سارے مُلک کو لے لیا اور لوگوں کو اسیر کر کے اسور میں لے گیا ۔
30اور یہوسیع بن ایلہ نے فقح بن رملیاہ کے خلاف سازش کی اور اُسے مارا اورقتل کیا اور اُسکی جگہ عزریاہ کے بیٹے یوتام کے بیسویں برس بادشاہ ہو گیا ۔
31اور فقح کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا اسرائیل کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند ہیں ۔
32اور شاہِ اسرائیل رملیاہ کے بیٹے فقح کے دوسرے سال سے شاہ یہوداہ عزریاہ کا بیٹا یوتام سلطنت کرنے لگا۔
33اور جب وہ سلطنت کرنے لگا تو پچس برس کا تھا ۔ اُس نے سولہ برس یروشلیم میں سلطنت کی اور اُسکی ماں کا نام یروسا تھا جو صندوق کی بیٹی تھی ۔
34اور اُس نے وہ کام کیا جو خداوند کی نظر میں بھلا ہے ۔ اُس نے سب کچھ ٹھیک ویسے ہی کیا جیسے اُسکے باپ عزریاہ نے کیا تھا ۔
35تو بھی اونچے مقام ڈھائےنہ گئے ۔ لوگ ہنوز اونچے مقاموں پر قُربانی کرتے اور بخور جلاتے تھے ۔ خُداوند کے گھر کا بالائی دروازہ اِسی نے بنایا ۔
36اور یوتام کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیںَ
37اُن ہی دنوں میں خُداوند ستا، ارام رضین کو اور فقح بن رملیاہ کو یہوداہ پر چڑھائی کرنے کے لیے بھیجنے لگا ۔
38اور یوتام اپنے باپ دادا کے ساتھ سو گیا اور اپنے باپ داود کے شہر میں اپنے باپ دادا کے ساتھ دفن ہوا اور اُسکا بیٹا آخز اُسکی جگہ بادشاہ ہوا۔