Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
41 verses
1اور شاہِ یہوداہ آخز کے بارھویں برس سے ایلہ کا بیٹا ہوسیع اسرائیل پر سامریہ میں سلطنت کرنے لگا اور اُس نے نَو برس سلطنت کی ۔
2اور اُس نے خپداوند کی نظر میں بدی کی تو بھی اسرائیل کے اُن بادشاہوں کی مانند نہیں جو اُس سے پہلے ہوئے ۔
3اور شاہِ اسور سلمنسر نے اِس پر چڑھائی کی اور ہوسیع اُسکا خادم ہو گیا اور اُس کے لیے ہدیہ لایا ۔
4اور شاہِ اسور نے ہو سیع کی ساز ش معلوم کر لی کیونکہ اُس نے شاہِ مصر سو کے پاس ایلچی بھیجے اور شاہِ اسور کو ہدیہ نہ دیا جیسا وہ سال بسال دیتا تھا ۔ سو شاہِ اسور نے اُسے بند کر دیا اور قید خانہ میں اُس کے بیڑیاں ڈال دیں ۔
5اور شاہِ اسور نے ساری مملکت پر چڑھائی کی اور سامریہ کو جا کر تین برس اُسے گھیرے رہا ۔
6اور ہوسیع کے نویں برس شاہِ اسور نے سامریہ کو لے لیا اور اسرائیل کو اسیر کر کے اسور میں لے گیا اور اُنکو خلح میں اور جوزان کی ندی خابور پر اور مادیوں کے شہروں میں بسایا ۔ (
7اور یہ اس لیے ہوا کہ بنی اسرائیل نے خُداوند اپنے خدا کے خلاف جس نے اُنکو مُلک مصر سے نکال کر شاہِ مصر فرعون کے ہاتھ سے رہائی دی تھی گناہ کیا اور غیر معبودوں کا خوف مانا ۔
8اور اُن قوموں کے آئین پر جنکو خُداوند نے بنی اسرائیل کے آگے سے خارج کیا اور اسرائیل کے بادشاہوں کے آئین پر جو اُنہوں نے خود بنائے تھے چلتے رہے ۔
9اور بنی اسرائیل نے خداوند اپنے خُدا کے خلاف چھپکر وہ کام کیے جو بھلے نہ تھے اور اُنہوں نے اپنے سب شہروں میں نگہبانوں کے بُرج سے فصیلدار شہر تک اپنے لیے اونچے مقام بنائے ۔
10اور ہر ایک اونچے پہاڑ پر اور ہر ایک ہرے درخت کے نیچے اُنہوں نے اپنے لیے ستونوں اور یسیرتوں کو نصب کیا ۔
11اور وہیں اُن سب اونچے مقاموں پر اُن قوموں کی مانند جنکو خُداوند نے اُن کے سامنے سے دفع کیا بخور جلایا اور خُداوند کو غصہ دلانے کے لیے شرارتیں کیں ۔
12اور بُتوں کی پرستش کی جسکے بارے میں خُداوند نے اُن سے کہا تھا کہ تُم یہ کام نہ کرنا ۔
13تو بھی خُداوند سب نبیوں اور غیب بینوں کی معرفت اسرائیل اور یہوداہ کو آگاہ کرتا رہا کہ تُم اپنی بُری راہوں سے باز آو اور اُس ساری شریعت کے مطابق جسکا حکم میں نے تمہارے باپ دادا کو دیا اور جسے میں نے اپنے بندوں نبیوں کی معرفت تمہارے پاس بھیجا ہے میرے احکام و آئین کو مانو ۔
14باوجود اِس کے اُنہوں نے نہ سُنا بلکہ اپنے باپ دادا کی طرح جو خُداوند اپنے خُدا پر ایمان نہیں لائے تھے گردن کشی کی ۔
15اور اُس کے آئین کو اور اُس کے عہد کو جو اُس نے اُن کے باپ دادا سے باندھا تھا اور اُسکی شہادتوں کو جو اُس نے اُنکو دی تھیں رد کیا اور باطل باتوں کے پیرو ہو کر نکمے ہوگئے اور اپنے آس پاس کی قوموں کی تقلید کی جنکے بارے میں خُداوند نے اُنکو تاکید کی تھی کہ وہ اُنکے سے کام نہ کریں ۔
16اور اُنہوں نے خُداوند اپنے خُدا کے سب احکام ترک کر کے اپنے لیے ڈھالی ہوئی مورتیں یعنی دو بچھڑے بنا لیے اور یسیرت تیار کی اور آسمانی فوج کی پرستش کی اور بعل کو پوجا ۔
17اور اُنہوں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو آگ میں چلوایا اور فال گیری اور جادوگری سے کام لیا اور اپنے بیچ ڈالاا تاکہ خداوند کی نظر میں بدی کر کے اُسے غصہ دلائیں ۔
18اِس لیے خُداوند اسرائیل سے بہت ناراض ہوا اور اپنی نظر سے اُنکو دور کر دیا ۔ سو یہوداہ کے قبیلہ کے سِوا اور کوئی نہ چھوُٹا ۔
19اور یہوداہ نے بھی خُداوند اپنے خُدا کے احکام نہ مانے بلکہ اُن آئین پر چلے جنکو اسرائیل نے بنایا تھا ۔
20تب خُداوند نے اسرائیل کی ساری نسل کو رد کیا اور اُنکو دُکھ دیا اور اُنکو لُٹیروں کے ہاتھ میں کر کے آخر کار اُنکو اپنی نظر سے دور کر دیا ۔
21کیونکہ اُس نے اسرائیل کو داود کے گھرانے سے جُدا کیا اور اُنہوں نے نباط کے بیٹے یُربعام کو بادشاہ بنایا اور یُربعام نے اسرائیل کو خُداوند کی پیروی سے دور ہنکایا اور اُن سے بڑا گناہ کرایا ۔
22اور بنی اسرائیل اُن سب گناہوں کی جو یُربعام نے کیے تقلید کرتے رہے ۔ وہ اُن سے باز نہ آئے ۔
23یہاں تک کہ خُداوند نے اِسرائیل کو اپنی نظر سے دور کر دیا جیسا اُس نے اپنے سب بندوں کی معرفت جو نبی تھے فرمایا تھا ۔ سو اسرائیل اپنے مُلک سے اسور کو پہنچایا گیا جہاں وہ آج تک ہے ۔
24اور شاہِ اسور نے بابل اور کُوتہ اور عوا اور حمات اور سفر دائم کے لوگوں کو لا کر بنی اسرائیل کی جگہ سامریہ کے شہروں میں بسایا ۔ سو و سامریہ کے مالک ہوئے اور اُسکے شہروں میں بس گئے ۔
25اور اپنے بس جانے کے شروع میں اُنہوں نے خُداوند کا خوف نہ مانا ۔ اِس لیے خُداوند نے اُنکے درمیان شیروں کو بھیجا جنہوں نے اُن میں سے بعض کو مار ڈالا ۔
26پس اُنہوں نے شاہِ اسور سے یہ کہا کہ جن قوموں کو تُو نے لے جا کر سامریہ کے شہروں میں بسایا ہے وہ اُس مُلک کے خُدا کے طریقہ سے واقف نہیں ہیں ، چنانچہ اُس نے اُن میں شیر بھیج دیے ہیں اور دیکھ وہ اُنکو پھاڑتے ہیں اِس لیے کہ وہ اُس مُلک کے خُدا کے طریقہ سے واقف نہیں ہیں ۔
27تب اسور کے بادشاہ نے یہ حکم دیا کہ جن کاہنوں کو تُم وہاں سے لے آئے ہو اُن میں سے ایک کو وہاں لے جاو اور وہ جا کر وہیں رہے اور یہ کاہن اُنکو اُس مُلک کے خُدا کا طریقہ سکھائے۔
28سو اُن کاہنوں میں سے جنکو وہ سامریہ سے لے گئے تھے ایک کاہن آکر بیت ایل میں رہنے لگا اور اُنکو سکھایا کہ اُنکو خُداوند کا خوف کیونکر ماننا چاہیے ۔
29تِس پر بھی ہر قوم نے اپنے شہر میں جہاں اُس کی سکونت تھی ایسا ہی کیا ۔
30سو بابلیوں نے سُکات بنات کو اور کُوتیوںں نے نیر گل ُ کو اور حماتیوں نے سیما کو ۔
31اور عوائیوں نے نبحاز اور ترتاق کو بنایا اور سفر دیوں نے اپنے بیٹوں کو اورتلک اور عتملک کے لیے جو سفر دائم کے دیوتا تھے آگ میں جلایا ۔
32یوں وہ خُداوند سے بھی ڈرتے تھے اور اپنے لیے اونچے مقاموں کے مندروں میں اُن کے لیے قُربانی گذرانتے تھے ۔
33سو وہ خُداوند سے بھی ڈرتے تھے اور اپنی قوموں کے دستور کے مطابق جن میں سے وہ نکال لئے گئے تھے اپنے اپنے دیوتا کی پرستش بھی کرتے تھے ۔
34آج کے دن تک وہ پہلے دستور پر چلتے ہیں ۔ وہ خُداوند سے ڈرت نہیں اور نہ تو اپنے آئین و قوانین پر اور نہ اُس شرع اور فرمان پر چلتے ہیں جسکا حکم خُداوندن نے یعقوب کی نسل کو دیا تھا جسکا نام اُس نے ارائیل رکھا تھا ۔
35اُن ہی سے خُداوند نے عہد باندھ کر اُنکو یہ تاکید کی تھی کہ تُم غیر معبودوں سے نہ ڈرنا اور نہ اُنکو سجدہ کرنا نہ پوجنا اور نہ اُنکے لیے قُربانی کرنا۔
36بلکہ خُداوند جو بڑی قوت اور بُلند بازو سے تُم کو مُلکِ مصر سے نکال لایا تُم اُسی سے ڈرنا اور اُسی کو سجدہ کرنا اور اُسی کے لیے قُربانی گذراننا ۔
37اور جو جو آئین اور رسم اور جو شریعت اور حکم اُس نے تمہارے لیے قلمبند کئے اُنکو سدا ماننے کے لیے احتیاط رکھنا اور تُم غیر معبودوں سے نہ ڈرنا ۔
38اور اُس عہد کو جو میں نے تُم سے کیا ہے تُم بھوُل نہ جانا اور نہ تُم غیر معبودوں کا خوف ماننا۔
39بلکہ تُم خُداوند اپنے خُدا کا خوف ماننا اور وہ تُم کو تمہارے سب دُشمنوں کے ہاتھ سے چھڑائے گا ۔
40لیکن اُنہوں نے نہ مانا بلکہ اپنے پہلے دستور کے مطابق کرتے رہے ۔
41سو یہ قومیں خُداوند سے بھی ڈرتی رہیں اور اپنی کھودی ہوئی مُورتوں کو بھی پوجتی رہیں ۔ اِسی طرح اُنکی اولاد اور اُنکی اولاد کی نسل بھی جیسا اُنکے باپ دادا کرتے تھے ویسا وہ بھی آج کے دن تک کرتی ہیں ۔