Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
37 verses
1اور شاہاسرائیل ہوسیع بن ایلہ کے تیسرے سال ایسا ہوا کہ شاہِ یہوداہ آخز کا بیٹا حزقیاہ سلطنت کرنے لگا ۔
2اور جب وہ سلطنت کرنے لگا تو پچیس برس کا تھا اور اُس نے ُنتیس برس یروشلیم میں سلطنت کی ۔ اُس کی ماں کا نام ابی تھا جو زکریاہ کی بیٹی تھی ۔
3اور جو جو اُس کے باپ داود نے کیا تھا اُس نے ٹھیک اُسی کے مطابق وہ کام کیا جو خداوند کی نظر میں بھلا تھا ۔
4اُس نے اونچے مقاموں کو دُور کر دیا اور ستونوں کو توڑا یسیرت کو کاٹ ڈالا او ر اُس نے پیتل کے سانپ کو جو موسیٰ نے بنایا تھا چکنا چُور کر دیا کیونکہ بنی اسرائیل اُن دنوں تک اُس کے آگے بخور جلاتے تھے اور اُس نے اُسکا نام نُحشتان رکھا ۔
5اور وہ خُداوند اسرائیل کے خُدا پر توکل کرتا تھا ایسا کہ اُس کے بعد یہوداہ کے سب بادشاہوں میں اُس کی مانند ایک نہ ہوا اور نہ اُس سے پہلے کوئی ہوا تھا ۔
6کیونکہ وہ خُداوند سے لِپٹا رہا اور اُس کی پیروی کرنے سے باز نہ آیا بلکہ اُسکے حکموں کو مانا جنکو خُداوند نے موسیٰ کو دیا تھا ۔
7اور خُداوند اُس کے ساتھ رہا اور جہاں کہیں وہ گیاکامیاب ہوا اور وہ شاہِ اسور سے منحرف ہو گیا اور اُس کی اطاعت نہ کی ۔
8اُس نے فلستیوں کو غزہ اور اُس کی سرحدوں تک نگہبانوں کے بُرج سے فصیلدار شہر تک مارا۔
9اور حزقیاہ بادشاہ چوتھے برس جو شاہِ اسرائیل ہو سیع بن ایلہ کا ساتواں برس تھا ایسا ہوا کہ شاہِ اسور سلمنسر نے سامریہ پر چڑھائی کی اور اُس کا محاصرہ کیا ۔
10او ر تین سال کے آخر میں اُنہوں نے اُس کو لے لیا یعنی حزقیاہ کے چھٹے سال جو شاہِ اسرائیل ہو سیع کا نواں برس تھا سامریہ لے لیا گیا ۔
11اور شاہِ اسور اسرائیل کو اسیر کر کے اسور کو لے گیا اور اُنکو خلح میں جوزان کی ندی خابود پر اور مادیوں کے شہروں میں رکھا ۔
12اِس لیے کہ اُنہوں نے خُداوند اپنے خُدا کی بات نہ مانی بلکہ اُسکے عہد کو یعنی اُن سب باتوں کو جنکا حُکم خُداوند نکے بندہ موسیٰ نے دیا تھا عدول کیا اور نہ اُنکو سُنا نہ اُن پر عمل کیا ۔
13اور حزقیاہ بادشاہ کے چودھویں برس شاہِ اسور سیخرب نے یہودا کے سب فصیلدا شہروں پر چڑھائی کی اور اُنکو لے لیا ۔
14اور شاہِ یہوداہ حزقیاہ نے شاہِ اسور کو لِکیس میں کہلا بھیجا کہ مجھ سے خطا ہوئی ۔ میرے پاس سے لوٹ جا ۔ جو کچھ تُو میرے سر کرے میں اُسے اُٹھا ونگا ۔ سو شاہِ اسور نے تین سو قنطار چاندی اور تیس قنطار سونا شاہِ یہوداہ حزقیاہ کے ذمہ لگایا ۔
15اور حزقیاہ نے ساری چاندی جو خُداوند کے گھر اور شاہی محل کے خزانوں میں مِلی اُسے دے دی ۔
16اُس وقت حزقیاہ نے خُداوند کی ہیکل کے دروازوں کا اور اُن ستونوں پر کا سونا جنکو شاہِ یہوداہ حزقیاہ نے خود منڈھواایا تھا اُتروا کر شاہِ اسور کو دے دیا ۔
17پھر بھی شاہِ اسور نے ترتان اور رب سارس اور بشاقی کو لیکس سے بڑے لشکر کے ساتھ حزیاہ بادشاہ کے پاس یروشلیم کو بھیجا ۔ سو وہ چلے اور یروشلیم کو آئے اور جب وہاں پہنچے تو جا کر اوپر کے تالاب کی نالی کے پاس جو دھوبیوں کے میدان کے راستہ پر ہے کھڑے ہو گئے ۔
18اور جب ُنہوں نے بادشاہ کو پُکارا تو الیا قیم بن خلقیاہ جو گھر کا دیوان تھا اور شبناہ مُنشی اور آسف محرر کا بیٹا یو آخ اُنکے پاس نکل آئے ۔
19اور ربشاقی نے اُن اُن سے کہا تُم حزقیاہ سے کہو کہ مُلک معظم شاہِ اسوریوں فرماتا ہے کہ تُو کیا اعتماد کیے بیٹھا ہے ؟
20تو کہتا تو ہے پر یہ فقط باتیں ہی باتیں ہیں کہ جنگ کی مصلحت بھی ہے اور حوصلہ بھی ۔ آخر کس کے برتے پر تُو نے مجھ سے سر کشی کی ہے ؟
21دیکھ تُجھے اِس مسلے ہوئے سرکنڈے کے عصا یعنی مصر پر بھروسا ہے ۔ اُس پر اگر کوئی ٹیک لگائے تو وہ اُس کے ہاتھ میں گڑ جائے گا اور اُسے چھیددے گا ۔ شاہِ مصر فرعون اُن سب کے لیے جو اُس پر بھروسا کرتے ہیں ایسا ہی ہے ۔
22اور اگر تُم مجھ سے کہو کہ ہمارا توکل خُداوند ہمارے خُدا پر ہے تو کیا وہ وہی نہیں ہے جس کے اونچے مقاموں اور مذبحوں کو حزقیاہ نے ڈھا کر یہوداہ اور یروشلیم سے کہا ہے کہ تُم یروشلیم میں اِس مذبح کے آگے سجدہ کیا کرو؟
23اِس لیے اب ذرا میرے آقا شاہِ اسور کے ساتھ شرط باندھ اور میں تجھے دو ہزار گھوڑے دونگا بشرطیکہ تو اپنی طرد سے اُن پر سوار چڑھا سکے ۔
24بھلا پھر تُو کیونکر میرے آقا کے کمترین مُلازموں میں سے ایک سردار کا منہ پھیر سکتا ہے و ر رتھوں اور سواروں کے لیے مصر پر بھروسا رکھتا ہے؟۔
25اور کیا اب میں نے خُداوند کے بے کہے ہی اِس مقام کو غارت کرنے کے لیے اِس پر چڑھائی کی ہے ؟ خُداوند ہی نے مجھ سے کہا کہ اِس مُلک پر چڑھائی کر اور اِسے غارت کر دے ۔
26تب الیا قیم بن خلقیاہ اور شبناہ اور یو آخ نے ربشاقی سے عرض کی کہ اپنے خادموں سے ارامی زبان میں بات کر کیونکہ ہم اُسے سمجھت ہیں اور اُن لوگوں کے سُنتے ہوئے جو دیوار پر ہیں یہودیوں کی زبان میں باتیں نہ کر ۔
27لیکن ربشاقی نے اُن سے کہا کیا میرے آقا نے مجھے یہ باتیں کہنے کو تیرے آقا کے پاس یا تیرے پاس بھیجا ہے ؟ کیا اُس نے مجھے اُن لوگوں کے پاس نہیں بھیجا جو تمہارے ساتھ اپنی ہی نجاست کھانے اور اپنا ہی قارورہ پینے کو دیوار پر بیٹھے ہیں ۔
28پھر ربشاقی کھڑا ہو گیا اور یہودیوں کی زبان میں بُلند آواز سے یہ کہنے لگا کہ مُلک ِ معظم شاہِ اسور کا کلام سُنو۔
29بادشاہ یوں فرماتا ہے کہ حزقیاہ تُم کو فریب نہ دے کیونکہ وہ تُم کو اُس کے ہاتھ سے چھڑا نہ سکے گا
30اور حزقیاہ یہ کہہ کر تُم سے خُداوند پر بھروسا کرائے کہ خُداوند ضرور ہم کو چڑھائے گا اور یہ شہر شاہِ اسور کے حوالہ نہ ہو گا ۔
31حزقیاہ کی نہ سُنوں ۔کیونکہ شاہِ اسور یوں فرماتا ہے کہ تُم مجھ سے صلح کر لو اور نکل کر میرے پاس آو اور تُم میں سے ہر یک اپنی تاک اور اپنے انجیر کے درخت کا میوہ کھاتا او ر اپنے حوض کا پانی پیتا رہے ۔
32جب تک میں آکر تُم کو ایسے مُلک میں نہ لے جاوں جو تمہارے مُلک کی طرح غلہ اور مَے کا مُلک ، روٹی اور تاکستانوں کا مُلک۔ زیتونی تیل اور شہد کا مُلک ہے ۔ تاکہ تُم جیتے رہو اور مر نہ جاو۔ سو حزقیاہ کی نہ سُننا جب وہ تُم کو یہ ترغیب دے کہ خداوند ہم کو چھڑائے گا
33کیا قوموں کے دیوتاوں میں سے کسی نے اپنے ملک کو شاہِ اسور کے ہاتھ سے چھڑایا ہے ؟َ
34حمات اور ارفاد کے دیوتا کہاں ہیں ؟ اور سفروائین اور ہینع اور عہواہ کے دیوتا کہاں ہیں ؟ کیا اُنہوں نے سامریہ کو میرے ہاتھ سے بچا لیا ؟
35اور مُلکوں کے تمام دیوتاوں میں سے کس کس نے اپنا مُلک میرے ہاتھ سے چھڑا لیا جو یہوواہ یروشلیم کو میرے ہاتھ سے چھڑا لے گا ۔
36پر لوگ خاموش رہے اور اُس کے جواب میں ایک بات بھی نہ کہی ۔ کیونکہ بادشاہ کا حکم یہ تھا کہ اُسے جواب نہ دینا ۔
37تب الیاقیم بن خلقیاہ جو گھر کا دیوان تھا اور شبیناہ منشی اور یوآخ بن آسف مُحرر اپنے کپڑے چاک کیے ہوئے حزقیاہ کے پاس آئے اور ربشاقی کی باتیں اُسے سُنائیں ۔