Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
37 verses
1اور بادشاہ نے لوگ بھیجے اور اُنہوں نے یہوداہ اور یروشلیم کے سب بزرگوں کو اُسکے پاس جمع کیا ۔
2اور بادشاہ خداوند کے گھر کو گیا اور اُس کے ساتھ یہوداہ کے سب لوگ اور یروشلیم کے سب باشندے اور کاہن اور نبی اور سب چھوٹے بڑے آدمی تھے اور اُس نے جو عہد کی کتاب خداوند کے گھر میں ملی تھی اُسکی سب باتیں اُنکو پڑھ سُنائیں ۔
3اور بادشاہ ستون کے برابر کھڑا ہوا اور اُس نے خداوند کی پیروی کرنے اور اُسکے حکموں اور شہادتوں اور آئین کو اپنے سارے دل اور ساری جان سے ماننے اور اِس عہد کی باتوں پر جو اُس کتاب میں لکھی ہیں عمل کرنے کے لیے خداوند کے حضور عہد باندھا اور سب لوگ اُس عہد پر قائم ہوئے ۔
4پھر بادشاہ نے سردار کاہن خلقیاہ کو او ر اُن کاہنوں کو جو دوسرے درجہ کے تھے اور دربانوں کو حکم کیا کہ اُن سب برتنوں کو جو بعل اور یسیرت اور آسمان کی ساری فوج کے لیے بنائ گئے تھے خداوند کی ہیکل سے باہر نکالیں اور اُس نے یروشلیم کے با ہر قدرون کے کھیتوں میں اُنکو جلا دیا اور اُکی راکھ بیت ایل پہنچائی ۔
5اور اُس نے اُن بُت پرست کاہنوں کو جنکو شاہانِ یہوداہ نے یہوداہ کے شہروں کے اونچے مقاموں اور یروشلیم کے آس پاس کے مقاموں میں بخور جلانے کو مقرر کیا تھا اور اُنکو بھی جو بعل اور سورج اور چاند اور سیاروں اور آسمان کے سارے لشکر کے لیے بخور جلاتے تھے موقوف کیا ۔
6اور یسیرت کو خداوند کے گھر سے یروشلیم کے باہر قدرون کے نالے پر لے گیا اور اُسے قدرون کے نالے پر جلا دیا اور اُسے کوٹ کوٹ کر خاک بنا دیا اور اُسکو عام لوگوں کی قبروں پر پھینک دیا ۔
7اور اُس نے لوطیوں کے مکانوں کو جو خداوند کے گھر میں تھے جن میں عورتیں یسیرت کے لیے پردے بُنا کرتی تھیں ڈھا دیا ۔
8اور اُس نے یہوداہ کے شہروں سے سب کاہنوں کو لا کر جبع سے بیر سبع تک اُن سب اونچے مقاموں میں جہاں کاہنوں نے بخور جلایا تھا نجاست ڈلوائی اور اُس نے پھاٹکوں کے اُن اونچے مقاموں کو جو شہر کے ناظم یشوع کے پھاٹک کے مدخل یعنی شہر کے پھاٹک کے بائیں ہاتھے کو تھے گِرادیا ۔
9تو بھی اونچے مقاموں کے کاہن یروشلیم میں خداوند کے مذبح کے پاس نہ آئے لیکن وہ اپنے بھائیوں کے ساتھ بے خمیری روٹی کھا لیتے تھے ۔
10اور اُس نے توفت میں بنی ہنوم کی وادی میں ہے نجاست پھنکوائی تاکہ کوئی شخص مولک کے لیے اپنے بیٹے یا بیٹی کو ٓگ میں نہ چلوا سکے ۔
11اور اُس نے اُن گھوڑوںکو دُور کر دیا جنکو یہوداہ کے بادشاہوں نے سورج کے لیے مخصوص کر کے خداوند کے گھر کے آستانہ پر ناتن ملک خواجہ سا کی کوٹھری کے برابر رکھا تھا جو ہیکل کی حد کے اندر تھی اور سورج کے رتھوں کو آگ سے جلا دیا ۔
12او ر اُن مذبحوں کو جو آخز کے بالا خانہ کی چھت پر تھے جنکو شاہانِ یہوداہ نے بنایا تھا اور اُن مذبحوں کو جنکو منسی نے خداوند کے گھر کے دونوں صحنوں میں بنایا تھا بادشاہ نے ڈھا دیا اور وہاں سے اُنکو چُور چُور کر کے اُنکی خاک کو قدرون کے نالے میں پھنکوا دیا ۔
13اور بادشاہ نے اُن اونچے مقاموں پر نجاست ڈلوائی جو یروشلیم کے مقابل کوہِ آلایش کی دہنی طرف تھے جنکو اسرائیل کے بادشاہ سُلیمان نے صیدانیوں کی نفرتی عستارات اور موآبیوں کے نفرتی کموس اور بنی عمون کے نفرتی مِلکوال کے لیے بنایا تھا ۔
14ور اُس نے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور یسیرتوں کو کاٹ ڈالا اور اُنکی جگہ میں مُردوں کی ہڈیاں بھر دیں ۔
15پھر بیے ایل کا وہ مذبح اور وہ اونچا مقام جسے نباط کے بیٹے یُربعام نے بنایا تھا جس نے اسرائیل سے گناہ کرایا ۔ سو اِس مذبح اور اونچے مقام دونوں کو اُس نے ڈھا دیا اور اونچے مقام کو جلا دیا اور اُسے کُوٹ کُوٹ کر خاک کر دیا اور یسیرت کو جلا دیا ۔
16اور جب یوسیاہ مُڑ ا تو اُس نے اُن قبروں کو دیکھا جو وہاں اُس پہاڑ پر تھیں ۔ سو اُس نے لوگ بھیج کر اُن قبروں میں سے ہڈیاں نکلوائیں اور اُنکو اُس مذبح پر جلا کر اُسے نا پاک کیا ۔ یہ خداوند کے سُخن کے مطابق ہوا جسے اُس مردِ خدا نے جس نے اِن باتوں کی خبر دی تھی سُنایا تھا ۔
17پھر اُس نے پوچھا یہ کیسی یاد گارر ہے جسے میں دیکھتا ہوں ؟ شہر کے لوگوں نے اُسے بتایا یہ اُس مردِ خدا کی قبر ہے جس نے یہوداہ سے آکر اِن کاموں کی جو تُو نے بیت ایل کے مذبح سے کیے خبر دی ۔
18تب اُس نے کہا اُُسے رہنے دو ۔ کوئی اُسکی ہڈیوں کو نہ سرکائے ۔ سو اُنہوں نے اُسکی ہڈیاں اُس نبی کی ہڈیوں کے ساتھ جو سامریہ سے آیا تھا رہنے دیں ۔
19اور یوسیاہ نے اُن اونچے مقاموں کے سب گھروں کو بھی جو سامریہ کے شہروں میں تھے جنکو اسرائیل کے بادشاہوں نے خداوند کو غصہ دلانے کو نایا تھا ڈھایا اور جیسا اُس نے بیت ایل میں کیا تھا ویسا ہی اُن سے بھی کیا ۔
20اور اُس نے اونچے مقاموں کے سب کاہنوں کو جو وہاں تھے اُن مذبحوں پر قتل کیا اور آدمیوں کی ہڈیاں اُن پر جلائیں ۔ پھر وہ یروشلیم کو لوٹ آیا ۔
21اور بادشاہ نے سب لوگوں کو یہ حکم دیا کہ خداوند اپنے خدا کے لیے فسح مناو جیسا عہد کی اِس کتاب میں لکھا ہے ۔
22اور یقینا قاضیوں کے زمانہ سے جو اسرائیل کی عدالت کرتے تھے اور اسرائیل کے بادشاہوں اور یہوداہ کے بادشاہوں کے کُل آیام میں ایسی عید فسح کبھی نہیں ہوئی تھی ۔
23یوسیاہ بادشاہ کے اٹھارویں برس یہ فسح یروشلیم میں خداوند کے لیے منائی گئی ۔
24ماسوا اِس کے یوسیاہ نے جنات کے یاروں اور جادوگروں اور مورتوں اور بُتوں اور سب نفرتی چیزوں کو جو مُلک یہوداہ اور یروشلیم میں نظر آئیں دور کر دیا تا کہ وہ شریعت کی اُن باتوں کو پورا کرے جو اُس کتاب میں لکھی تھیں جو خلقیاہ کاہن کو خداوند کے گھر میں ملی تھی ۔
25اور اُس سے پہلے کوئی بادشاہ اُس کی مانند نہیں ہوا تھا جو اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنے سارے زور سے موسیٰ کی ساری شریعت کے مطابق خداوند کی طرف رجوع لایا ہو اور نہ اُسکے بعد کوئی اُسکی مانند برپا ہو ا۔
26باوجود اِس کے منسی کی سب بدکاریوں کی وجہ سے جن سے اُس نے خداوند کو غصہ دلایا تھا خداوند اپنے سخت و شدید قہر سے جس سے اُسکا غضب یہوداہ پر بھڑکا تھا باز نہ آیا ۔
27اور خداوند نے فرمایا کہ میں یہوداہ کو بھی اپنی آنکھوں کے سامنے سے دور کر دونگا جیسے میں نے اسرائیل کو دور کیا اور میں اِس شہر کو جسے میں نے چُنا یعنی یروشلیم کو اور اِس کے گھر کو جسکی بابت میں نے کہا تھا کہ میرا نام وہاں ہو گا رد کر دونگا۔
28اور یوسیاہ کے باقی کام اور سب کچھ جو اُس نے کیا سو کیا وہ یہوداہ کے بادشاہوں کی تواریخ کی کتاب میں قلمبند نہیں ؟ ۔
29اُسی ایام میں شاہِ مصر فرعون نکوہ شاہِ اسور پر چڑھائی کرنے کے لیے دری فرات کو گیا تھا اور یوسیاہ بادشاہ اُسکا سامنا کرنے کو نکلا ۔ سو اُس نے اُسے دیکھتے ہی مجدد میں قتل کر دیا ۔
30اور اُس کے مُلازم اُسکو رتھ میں مجدد سے مرا ہوا لے گئے اور اُسے یروشلیم میں لا کر اُسی کی قبر میں دفن کیا اور اُس مُلک کے لوگوں نے یوسیاہ کے بیٹے یہو آخز کولے کر اُسے مسح کیا اور اُس کے باپ کی جگہ اُسے بادشاہ بنایا ۔
31اور یہو آخز جب سلطنت کرنے لگا تو یئیس برس کا تھا ۔ اُس نے یروشلیم میں تین مہینے سلطنت کی ۔ اُسکی ماں کا نام حموطل تھا جو لبناہی یرمیاہ کی بیٹی تھی۔
32اور جو جو اُس کے باپ دادا نے کیا تھا ُسکے مطابق اِس نے بھی خداوند کی نظر میں بدی کی ۔
33سو فرعون نکوہ نے ُسے ربلہ میں جو ملک حمات میں ہے قید کر دیا تاکہ وہ یروشلیم میں سلطنت نہ کرنے پائے اور اُس مُلک پر سو قنطار چاندی اور ایک قنطار سونا خراج مقرر کیا۔
34اور فرعون نکوہ نے یوسیاہ کے بیٹے الیاقیم کو اُس کے باپ یوسیاہ کی جگہ بادشاہ بنایا اور اُس کا نام بدل یہویقیم رکھا لیکن یہو آخز کو لے گیا ۔ سو وہ مصر میں آکر وہاں مر گیا ۔
35اور یہویقیم نے وہ چاندی اور سونا فرعون کو پہنچایا پر اِس نقدی کو فرعون کے حکم کے مطابق دینے کے لیے اُس نے مملکت پر خراج مقرر کیا یعنی اُس نے اُس مُلک کے لوگوں سے ہر شخص کے لگان کے مطابق چاندی اور سونا لیا تاکہ فرعون نکوہ کو دے ۔
36یہویقیم جب سلطنت کرنے لگا تو پچیس برس کا تھا ۔ اُس نے یروشلیم میں گیارہ برس سلطنت کی ۔ اُس کی ماں کا نام زنودہ تھا جو روماہ کے فدایاہ کی بیٹی تھی ۔
37اور جو جو اُسکے باپ دادا نے کیا تھا اُسی کے مطابق اُس نے بھی خداوند کی نظر میں بدی کی ۔