Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
20 verses
1جب یوسیاہ سلطنت کرنے لگا تو آٹھ برس کا تھا ۔ اُس نے اکتیس برس یروشلیم میں سلطنت کی ۔ اُسکی ماں کا نام جدیدہ تھا جو بصقفی عدایاہ کی بیٹی تھی ۔
2اُس ے وہ کام کیا جو خداوند کی نگاہ میں ٹھیک تھا اور اپنے باپ داود کی سب راہوں پر چلا اور دہنے یا بائیں ہاتھ کو مطلق نہ مُڑا ۔
3اور یوسیاہ بادشاہ کے اٹھارھویں برس ایسا ہوا کہ بادشاہ نے سافن بن اصلیاہ بن مسلام منشی کو خداوند کے گھر کو بھیجا اور کہا ۔
4کہ تُو خلقیاہ سردار کاہن کے پاس جاتا کہ وہ اُس نقدی کو جو خداوند کے گھر میں لائی جاتی ہے اور جسے دربانوں نے لوگوں سے لیکر جمع کیا ہے گنے۔
5اور وہ اُسے اُن کار گذاروں کو سونپ دیں جو خداوند کے گھر کی نگرنی رکھتے ہیں اور یہ لوھ اُسے اُن کاریگروں کو دیں جو خداوند کے گھر میں کام کرتے ہیں تاکہ ہیکل کی دراڑوں کی مرمت ہو ۔
6یعنی بڑھیوں اور راجوں اور معماروں کو دیں اور ہیکل کی مرمت کے لیے لکڑی اور تراشے ہوئے پتھروں کے خریدنے پر خرچ کریں ۔
7لیکن اُن سے اُس نقدی کا جو اُنکے ہاتھ میں دی جاتی تھی کوئی حساب نہیں لیا جاتا تھا اِس لیے کہ وہ امانتداری سے کام کرتے تھے ۔
8اور سردار کاہن خلقیاہ نے سافن منشی سے کہا کہ مجھے خداوند کے گھر میں توریت کی کتاب ملی ہے اور خلقیاہ نے وہ کتاب سافن کو دی اور اُس ن اُسکو پڑھا ۔
9اور سافن منشی بادشاہ کے پاس آیا اور بادشاہ کو خبر دی کہ تیرے خادموں نے وہ نقدی جو ہیکل میں ملی لیکر اُن لار گذاروں کے ہاتھ میں سپرد کی جو خداوند کے گھر کی نگرانی رکھتے ہیں ۔
10اور سافن منشی نے بادشاہ کو یہ بھی بتایا کہ خلقیاہ کا ہن نے ایک کتاب میرے حوالہ کی ہے اور سافن نے اُسے بادشاہ کے حضور پڑھا ۔
11جب بادشاہ نے توریت کی کتاب کی باتیں سُنیں تو اپنے کپڑے پھاڑے ۔
12اور بادشاہ نے خلقیاہ کاہن اور سافن کے بیٹے اخی قام اور میکایاہ کے بیٹے عکبور اور سافن منشی اور عسایاہ کو جو بادشاہ کا مُلازم تھا یہ حکم دیا کہ ۔
13یہ کتاب جو ملی ہے اِسکی باتوں کے بارےمیں تُم جا کر میری اور سب لوگوں اور سارے یہوداہ کی طرف سے خداوند سے دریافت کرو کیونکہ خداوند کا بڑا غضب ہم پر اِسی سبب سے بھڑکا ہے کہ ہمارے باپ دادا نے اِس کتاب کی باتوں کو نہ سُنا کہ جو کچھ اُس میں ہمارے بارے میں لکھا ہے اُس کے مطابق کرتے ۔
14تب خلقیاہ کاہن اور اخی قام اور عکبور اور سافن اور عسایاہ خلدہ نبیہ کے پاس گئے جو توشہ خانہ کے دروغہ سلوم بن تقوہ بن خرخس کی بیوی تھی ( یہ یروشلیم میں مشنہ نامہ محلہ میں رہتی تھی ) ۔سو اُنہوں نے اُس سے گفتگو کی ۔
15اُس نے اُن سے کہا خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تُم اُس شخص سے جس نے تُم کو میرے پاس بھیجا ہے کہنا
16کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ میں اِس کتاب کی اُن سب باتوں کے مطابق جنکو شاہ یہوداہ نے پڑھا ہے اِس مقام پر اور اِس کے سب باشندوں پر بلا نازل کرونگا ۔
17کیونکہ اُنہوں نے مجھے ترک کیا اور غیر معبودوں کے آگے بخور جلایا تاکہ اپنے ہاتھوں کے سب کاموں سے مجھے غصہ دلائیں ۔ سو میرا قہر اِس مقام پر بھڑکے گا اور ٹھنڈا نہ ہو گا ۔
18لیکن شاہِ یہوداہ سے جس نے تُم کو خداوند سے دریافت کرنے کو بھیجا ہے یوں کہنا کہ خداوند اسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ جو باتیں تو نے سُنی ہیں اُنکے بارے میں یہ ہے کہ ۔
19چونکہ تیرا دل نرم ہے اور جب تُو نے وہ بات سُنی جو میں نے اِس مقام اور اسکے باشندوں کے حق میں کہی کہ وہ تباہ ہو جائیں گے اور لعنتی بھی ٹھہریں گے تو تُو نے خداوند کے آگے عاجزی کی اور اپنے کپڑے پھاڑے اور میرے آگے رویا ۔ سو میں نے بھی تیری سُن لی ۔ خداوند فرماتا ہے ۔
20اِس لیے دیکھ میں تجھے تیرے باپ دادا کے ساتھ ملاوں گا اور تو اپنی گور میں سلامتی سے اُتار دیا جائے گا اور اُن سب آفتوں کو جو میں اِس مقام پر نازل کرونگا تیری آنکھیں نہیں دیکھیں گی ۔ سو وہ یہ خبر بادشاہ کے پاس لائے ۔