Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
30 verses
1اور اُسکی سلطنت کے نویں برس کے دسویں مہینے کے دسویں دن یوں ہو ا کہ شاہِ بابل نبو کدنضر نے اپنی ساری فوج سمیت یروشلیم پر چڑھائی کی اور اُسکے مقابل خیمہ زن ہوا اور اُنہوں نے اُسے مقابل گِردا گرد حصار بنائے ۔
2اور صدقیاہ بادشاہ کی سلطنت کے گیارھویں برس تک شہر کا محاصرہ رہا ۔
3اور چوتھے مہینے کے نویں دن سے شہر میں کال ایسا سخت ہو گیا کہ مُلک کے لوگوں کے لیے خورش نہ رہی ۔
4تب شہر پناہ میں رخنہ ہو گیا اور دونوں دیواروں کے درمیان جو پھاٹک شاہی باغ کے برابر تھا اُس سے سب جنگی مر د رات ہی رات بھاگ گئے ( اُس وقت کسدی شہر کو گھیرے ہوئے تھے ) اور بادشاہ نے بیابان کا راستہ لیا ۔
5لیکن کسدیوں کی فوج نے بادشاہ کا پیچھا کیا اور اُسے یریحو کے میدان میں جا لیا اور اُسکا سارا لشکر اُسکے پاس سے پراگندہ ہو گیا تھا ۔
6سو وہ بادشاہ کو پکڑ کر ربلہ میں شاہِ بابل کے پاس لے گئے اور اُنہوں نے اُس پر فتویٰ دیا ۔
7اور اُنہوں نے صدقیاہ کے بیٹوں کو اُسکی آنکھوں کے سامنے ذبح کیا اور صدقیاہ کی آنکھیں نکال ڈالیں اور اُسے زنجیروں سے جکڑ کر بابل کو لے گئے ۔
8اور شاہِ بابل نبو کدنضر کے عہد کے اُنیسویں برس کے پانچویں مہینے کے ساتویں دن شاہِ بابل کا ایک خادم نبو زرادان جو جلوداروں کا سردار تھا یروشلیم میں آیا ۔
9اور اُس نے خداوند ا گھر اور بادشاہ کا قصر اور یروشلیم کے سب گھر یعنی ہر ایک بڑا گھر آگ سے جلا دیا ۔
10اور کسدیوں کے سارے لشکر نے جو جلوداروں کے سردار کے ہمراہ تھا یروشلیم کی فیصیل کو چاروں طرف سے گِرا دیا ۔
11اور باقی لوگوں کو جو شہر میں رہ گئے تھے اور اُنکو جنہوں نے اپنوں کو چھوڑ کر شاہِ بابل کی پناہ لی تھی اور عوامم میں سے جتنے باقی رہ گئے تھے اُن سب کو نبو زرادان جلوداروں کا سردار اسیر کر کےلے گیا ۔
12پر جلوداروں کے سردار نے مُلک کے کنگالوں کو رہنےدیا تاکہ کھیتی اور تاکستانوں کی باغبانی کریں ۔
13اور پیتل کے اُن ستونوں کو جو خداوند کے گھر میں تھے اور کُرسیوں کو اور پیتل کے بڑے حوض کو جو خداوند کے گھر میں تھا کسدیوں نے توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کیا اور اُنکا پیتل بابل کو لے گئے ۔
14اور تمام دیگیں اور بیلچے اور گُلگیر اور چمچے اور پیتل کے تمام برتن جو وہاں کام آتے تھے لے گئے ۔
15اور انگیٹھیاں اور کٹورے غرض جو کچھ سونے کا تھا اُس کے سونے کو اور جو کچھ چاندی کا تھا اُسکی چاندی کو جلوداروں کے سردار لے گیا ۔
16وہ دونوں ستون اور وہ بڑا حوض اور وہ کُرسیاں جنکو سُلیمان نے خداوند کے گھر کے لیے بنایا تھا اِن سب چیزوں کے پیتل کا وزن بے حساب تھا ۔
17ایک ستون اٹھارہ ہاتھ اونچا تھا اور اُس کے اوپر پیتل کا ایک تاج تھا اور وہ تاج تین ہاتھ بُلند تھا ۔ اُس تاج پر گردا گرد جالیاں اور انار کی کلیاں سب پیتل کی بنی ہوئی تھیں اور دوسرے ستون کے لوازم بھی جالی سمیت اِن ہی کی طرح تھے ۔
18اور جلوداروں کے سردا ر نے سرایاہ سردار کاہن کو اور کاہن ثانی صفنیاہ کو اور تینوں دربانوں کو پکڑ لیا ۔
19اور اُس نے شہر میں سے ایک سردر کو پکڑ لیا جو جنگی مردوں پر مقرر تھا اور جو لوگ بادشاہ کے حضو حاضر رہتے تھے اُن میں سے پانچ آدمیوں کو جو شہر میں ملے اور لشکر کے بڑے مُحرر کو جو ایل ملک کی موجودات لیتا تھا اور مُلک کے لوگوں میں سے ساٹھ آدمیوں کو جو شہر میں م��ے ۔
20اِن کو جلوداروں کا سردار نبو زرادان پکڑ کر شاہِ بابل کے حجور ربلہ میں لے گیا ۔
21او ر شاہِ بابل نے حمات کے علاقہ کے ربلہ میں اِنکو مارا اور قتل کیا ۔ سو یہوداہ بھی اپنے مُلک سے اسیر ہو کر چلا گیا ۔
22اور جو لوگ یہوداہ کی سرزمین میں رہ گئے جنکو نبو کدنضر شاہ بابل نے چھوڑ دیا اُن پر اُس نے جدلیاہ بن اخی قام بن سافن کو حاکم مقرر کیا ۔
23جب جتھوں کے سب سرداروں اور اُنکی سپاہ نے یعنی اسمعیل بن نتنیاہ اور یوحنان بن قریح اور سِرایاہ بن تخومت نطوفاقی اور یاز نیاہ بن معکاتی نے سُنا کہ شاہِ بابل نے جدلیاہ کو حاکم بنایا ہے تو وہ اپنے لوگوں سمیت مصفاہ میں جدلیاہ کے پاس آئے ۔
24اور جدلیاہ نے اُن سے اور اُنکی سپاہ سے قسم کھا کر کہا کسدیوں کے ملاموں سے مت ڈرو ۔ مُلک میں بسے رہو اور شاہِ بابل کی خدمت کرو اور تمہاری بھلائی ہو گی ۔
25مگر ساتویں مہینے ایسا ہوا کہ اسمعیل بن نتنیاہ بن الیسمع جو بادشاہ کی نسل سے تھا پنے ساتھ دس مر د لے آیا اور جدلیاہ کو ایسا مارا کہ وہ مر گیا اور اُن یہودیوں اور کسدیوں کو بھی جو اُس کے ساتھ مصفاہ میں تھے قتل کیا ۔
26تب سب لوگ کیا چھوٹے کیا بڑے اور جتنوں کے سردار اُٹھ کر مصر کو چلے گئے کیونکہ وہ کسدیوں سے ڈرتے تھے ۔
27اور یہویاکین شاہِ یہوداہ کی اسیری کے سنتیسیویں برس کے بارھویں مہینے کے ستائیسویں دن ایسا ہوا کہ شاہِ بابل اویل مردوک نے اپنی سلطنت کے پہلے ہی سال یہویاکین شاہِ یہوداہ کو قید خانہ سے نکال کر سرفراز کیا ۔
28اور اُسکے ساتھ مہر سے باتیں کیں اور اُسکی کُرسی اُن سب بادشاہوں کی کُرسیوں سے جو اُسکے ساتھ بابل میں تھ بُلند کی ۔
29سو وہ اپنے قید خانہ کے کپڑے بدل کر عمر بھر برابر اُسکے حضور کھانا کھاتا رہا ۔
30اور اُسکو عمر بھر بادشاہ کی طرف سے وظیفہ کے طور پر ہر روز رسد ملتی رہی ۔