Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
27 verses
1اور شاہِ یہوداہ یہوسفط کے اٹھاریں برس سے اخی اب کا بیٹا یہورام سامریہ میں اسرائیل پر سلطنت کرنے لگا ۔ اور اُس نے بارہ سال سلطنت کی ۔
2اور اُس نے خُداوند کے آگے بدی کی پر اپنے باپ اور اپنی ماں کی طرح نہیں کیونکہ اُس نے بعل کے اُس ستون کو جو اُس کے باپ نے بنایا تھا دور کر دیا ۔
3تو بھی وہ نباط کے بیٹے یُربعا م کے گناہوں سے جن سے اُس نے اسرائیل سے گناہ کرایا تھا لکھتا رہا اور اُن سے کنارہ کشی نہ کی
4اور موآب کا بادشاہ میِسا بہت بھیڑ بکریاں رکھتا تھا اور اسرائیل کے بادشاہ کو ایک لاکھ بروں اور ایک لاکھ مینڈوں کی اُون دیتا تھا ۔
5لیکن جب اخی اب مر گیا تو شاہِ موآب اسرائیل کے بادشاہ سے باغی ہو گیا ۔
6اُس وقت یہورام بادشاہ نے سامریہ سے نکل کر سارے اسرائیل کی موجودات لی۔
7اور اُس نے جا کر شاہِ یہوداہ یہوسفط سے پچھوا بھیجا کہ شاہِ موآب مجھ سے باغی ہو گیا ہے ۔ سو کیا تُو موآب سے لڑنے کے لیے میرے ساتھ چلے گا ؟ اُس نے جواب دیا کہ میں چلوں گا کیونکہ جیسا میں ہوں ویسا ہی تُو ہے ۔ اور جیسے میرے لوگ ویسے ہی تیرے لوگ ۔ اور جیسے میرے گھوڑے ویسے ہی تیرے گھوڑے ہیں
8تب اُس نے پوچھا کہ ہم کس راہ سے جائیں ؟ اُس نے جواب دیا دشتِ ادوم کی راہ سے
9چنانچہ شاہِ اسرائیل اور شاہِ یہوداہ اور شاہِ ادوم نکلے اور اُنہوں نے سات دن کی منزل کا چکرکاٹا اور اُن کے لشکر اور چوپایوں کے لیے جو پیچھے پیچھے آتے تھے کہیں پانی نہ تھا ۔
10اور شاہ اسرائیل نے کہا افسوس ! کہ خُداوند نے اِن تین بادشاہوں کو اکٹھاکیا ہے تاکہ اُن کو شاہِ موآب کے حوالہ کر دے ۔
11لیکن یہوسفط نے کہا کہا خُداوند کے نبیوں میں سے کوئی یہاں نہیں ہے تاکہ اُس کے وسیلہ سے ہم خُداوند کی مرضی دریافت کریں ؟ اور شاہِ اسرائیل کے خادموں میں سے ایک نے جواب دیا کہ الیشع بن سافط یہاں ہے جو ایلیاہ کے ہاتھ پر پانی ڈالتا تھا
12یہوسفط نے کہا خُداوند کا کلام اُس کے ساتھ ہے سو شاہِ اسرائیل اور یہوسفط اور شاہِ ادوم اُس کے پاس گئے۔
13تب الیشع نے شاہِ اسرائیل سےکہا مجھ کو تُجھ سے کیا کام؟ تُو اپنے باپ کے نبیوں اور اپنی ماں کے نبیوں کے پاس جا پر شاہِ اسرائیل نے اُس سے کہا نہیں نہیں کیونکہ خُداوند نے اِن تینوں بادشاہوں کو اکٹھا کیا ہے تاکہ اُن کو موآب کے حوالہ کر دے ۔
14الیشع نے کہا رب الافواج کی حیات کی قسم جس کے آگے میں کھڑا ہوں اگر مجھے شاہِ یہوداہ یہوسفط کی حضوری کا پاس نہ ہوتا تو میں تیری طرف نظر بھی نہ کرتا اور نہ تجھے دیکھتا ۔
15لیکن خیر ! کسی بجانے والے کو میرے پاس لاو اور ایسا ہوا کہ جب اُس بجانے والے نے بجایا تو خُداوند کا ہاتھ اُس پر ٹھہرا ۔
16پس اُس نے کہا خُداوند یوں فرماتا ہے کہ اِس وادی میں خندق ہی خندق کھود ڈالو۔
17کیونکہ خُداوند یوں فرماتا ہے کہ تُم نہ ہوا آتی دیکھو گے اور نہ مینہ دیکھو گے تو بھی یہ وادی پانی سے بھر جائے گی ۔ اور تُم بھی پیو گے اور تمہارے مویشی اور تمہارے چوپائے بھی ۔
18اور یہ خُداوند کے لیے ایک ہلکی سی بات ہے وہ موآبیوں کو بھی تمہارے ہاتھ میں کر دے گا ۔
19تُم ہر فصیل دار شہر اور عمدہ شہر مار لو گے اور ہر اچھے درخت کو کاٹ ڈالو گے اور پانی کے سب چشموں کو بھر دو گے اور ہر اچھے کھیت کو پتھروں سے خراب کر دو گے ۔
20سو صبح کو قُربانی چڑھانے کے وقت ایسا ہوا کہ ادوم کی راہ سے پانی بہتا آیا اور وہ مُلک پانی سے بھر گیا ۔
21جب سب موآبیوں نے یہ سُنا کہ بادشاہوں نے اُن سے لڑنے کو چڑھائی کی ہے تو وہ سب جو ہتھیار باندھنے کے قابل تھے اور زیادہ عمر کے بھی اکٹھے ہو کر سرحد پر کھڑے ہو گئے۔
22اور وہ صبح سویرے اُٹھے اور سورج پانی پر چمک رہا تھا اور موآبیوں کو وہ پانی جو اُن کے مقابل تھا خون کی مانند سُرخ دکھائی دیا ۔
23سو وہ کہنے لگے یہ تو خُون ہے وہ بادشاہ یقینا ہلاک ہو گئے ہیں اور اُنہوں نے آپس میں ایک دوسرے کو مار لیا ہے سو اب اے موآب لوٹ کر چل ۔
24اور جب وہ اسرائیل کی لشکر گاہ میں آئے اسرایلیوں نے اُٹھ کر موآبیوں کو ایسا مارا کہ وہ اُن کے آگے سے بھاگے پر وہ آگے بڑھ کر موآبیوں کو مارتے مارتے اُن کے مُلک میں گھُس گئے۔
25اور اُنہوں نے شہروں کو مسمار کیا اور زمین کےہر اچھے قطعہ پر سبھوں نے ایک ایک پتھر ڈال کر اُسے بھر دیا ۔ اور اُنہوں نے پانی کے سب چشمے بند کر دیے اور سب اچھے درخت کاٹ ڈالے ۔ فقط قیر حراست ہی کے پتھروں کو باقی چھوڑا پر گو پیا چلانے والوں نے اُس کو بھی جا گھیرا اور مار ڈالا ۔
26جب شاہِ موآب نے دیکھا کہ جنگ اُس کے لیے نہایت سخت ہو گئی تو اُس نے سات سو شمشیر زن مرد اپنے ساتھ لیے تاکہ صف چیر کر شاہِ ادوم تک جا پڑے پر وہ ایسا نہ کر سکے ۔
27تب اُس نے اپنے پہلوٹھے بیٹے کو لیا جو اُس کی جگہ بادشاہ ہوتا اور اُسے دیوار پر سوختنی قُربانی کے طور پر گزرانا ۔ یوں اسرائیل پر قہرِ شدید ہوا سو وہ اُس کے پاس سے ہٹ گئے اور اپنے مُلک کو لوٹ آئے۔