Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
44 verses
1اور انبیاء زادوں کی بیویوںمیں سے ایک عورت نے الیشع سر فریا د کی اور کہنے لگی کہ تیرا خادم میرا شوہر مر گیا ہے اور تُو جانتا ہے کہ تیرا خادم خُداوند سے ڈرتا تھا ۔ سو اب قرضخواہ آیا ہے کہ میرے دونوں بیٹوں کو لے جائے تاکہ وہ غُلام بنیں ۔
2الیشع نے اُس سے کہا میں تیرے لیے کیا کروں ؟ مجھے بتا تیرے پاس گھر میں کیا ہے؟اُس نے کہا تیری لونڈی کے پاس گھر میں ایک پیالہ تیل کے سِوا کچھ نہیں ۔
3تب اُس نے کہا تُو جا اور باہر سے اپنے سب ہمسایوں سے برتن عاریت لے۔ وہ برتن خالی ہوں اور تھوڑے برتن نہ لینا۔
4پھر تُو اپنے بیٹوں کو ساتھ لیکر اندر جانا اور پیچھے سے دروازہ بنر کر لینا اور اُن سب برتنوں میں تیل انڈیلنا اور جو بھر جائے اُسے اُٹھا کر الگ رکھنا ۔
5سو وہ اُس کے پاس سے گئی اور اُس نے اپنے بیٹوں کو اندر ساتھ لیکر دروازہ بند کر لیا اور وہ اُسکے پاس لاتے جاتے تھے اور وہ انڈیلتی جاتی تھی ۔
6جب ہ برتن بھر گئے تو اُس نے اپنے بیٹے سے کہا میرے پاس ایک اور برتن لا ۔ اُس نے اُس سے کہا اور تو کوئی برتن رہا نہیں ۔ تب تیل موقوف ہو گیا ۔
7تب اُس نے آکر مردِخُدا کو بتایا ۔ اُس نے کہا جا تیل بیچ اور قرض ادا کر اور جو باقی رہے اُس سے تُو اور تیرے فرزند گُذران کریں۔
8اور ایک روز ایسا ہُوا کہ الیشع شونیم کو گیا ۔ وہاں ایک دولتمند عورت تھی اور اُس نے اُسے روٹی کھانے پر مجبور کیا۔ پھر تو جب کبھی اُدھر سے گذرتا روٹی کھانے کے لیے وہیں چلا جاتا تھا ۔
9سو اُس نے اپنے شوہر سے کہا دیکھ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مردِ خُدا جو اکثر ہماری طرف آتا ہے مُقدس ہے۔
10ہم اُسکے لیے ایک پلنگ اور کوٹھری دیوار پر بنا دیں اور اُس کے لیے ایک پلنگ اور میز اور چوکی اور شمعدان لگا دیں ۔ پھر جب کبھی وہ ہمارے پاس آئے تو وہیں ٹھہرے گا ۔
11سو ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اُوھر گیا اور اُس کوٹھری میں جا کر وہیں سویا ۔
12پھر اُس نے اپنے خادم جیحازی سے کہا کہ اِس شونیمی عورت کو بُلا لے ۔ اُس نے اُسے بُلالیا اور وہ اُسکے سامنے کھڑی ہوئی۔
13پھر اُس نے اپنے خادم سے کہا تُو اُس سے پوچھ کہ تُو نے جو ہمارے لیے اِس قدر فکریں کیں تو تیرے لیے کیا کِیا جائے؟ کیا تُو چاہتی ہے کہ بادشاہ سے یا فوج کے سردار سے تیری سفارش کی جائے؟ اُس نے جواب دیا میں تو اپنے ہی لوگوں میں رہتی ہوں ۔
14پھر اُس نے اُس سے کہا اُس کے لیے کیا کِیا جائے؟ تب جیحازی نے جواب دیا کہ واقعی اُس کے کوئی فرزند نہیں اور اُسکا شوہر بُڈھا ہے ۔
15تب اُس نے اُس سے کہا اُسے بُلا لے اور جب اُس نے اُسے بُلایا تو وہ دروازہ پر کڑی ہوئی ۔
16تب اُس نے کہا موسمِ بہار میں وقت پورا ہونے پر تیری گود میں بیٹا ہوگا ۔ اُس نے کہا نہیں اے میرے مالک اے مردِ خُدا اپنی لونڈی سے جھوٹ نہ کہہ ۔
17سو وہ عورت حاملہ ہوئی او ر جیسا الیشع نے اُس سے کہا تھا موسمِ بہار میں وقت پورا ہونے پر اُسکے بیٹا ہوا ۔
18اور جب وہ لڑکا بڑھا تو ایک دن ایسا ہوا کہ وہ اپنے باپ کے پاس کھیت کاٹنے والوں میں چلا گیا ۔
19اور اُس نے اپنے باپ سے کہا ہائےمیرا سر!ہائے میرا سر! اُس نے اپنے خادم سے کہا اُسے اُس کی ماں کے پاس لے جا ۔
20جب اُس نے اُسے لیکر اُسکی ماں کے پاس پہنچا دیا تووہ اُس کے گھُٹنوں پر دوپہر تک بیٹھا رہا اِس کے بعد مر گیا
21تب اُس کی ماں نے اوپر جا کر اُسے مردِ خُدا کے پلنگ پر لٹا دیا اور دروازہ بند کر کے باہر گئی۔
22اور اُس نے اپنے شوہر سے پُکار کر کہا کہ جلد جوانوں میں سے ایک کو اور گدھوں میں سے ایک کو میرے لیے بھیج دے تاکہ میں مردِ خُدا کے پاس دوڑ جاوں اور پھر لوٹ آنا
23اُس نے کہا آج تُو اُس کے پاس کیوں جانا چاہتی ہے آج نہ تو نیا چاند ہے نہ سبت۔اُس نے جواب دیا کہ اچھا ہی ہو گا
24اور اُس نے گدھے پر زین کس کر اپنے خادم سے کہا ہاں ۔آگے بڑھ اور سواری چلانے میں ڈھیل نہ ڈال جب تک میں تُجھ سے نہ کہوں ۔
25سو وہ چلی اور کوہِ کرمل کو مردِ خُدا کے پاس گئی۔ اُس مردِ خُدا نے دور سے اُسے دیکھ کر اپنے خادم جیحازی سے کہا دیکھ اُدھر وہ شونیمی عورت ہے ۔
26اب ذرا اُسکے استقبال کو دوڑ جا او ر اُس سے پوچھ کیا تُو خیریت سے ہے ؟ تیرا شوہر خیریت سے ؟ بچہ خیریت سے ہے اُس نے جواب دیا خیریت ہے ۔
27اور جب وہ اُس پہاڑ پر مردِ خُدا کے پاس آئی اور اُس کے پاوں پکڑ لیے اور جیحازی اُسے ہٹانے کے لیےنزدیک آیا پر مردِ خُدا نے کہا کہ اُسے چھوڑ دے کیونکہ اُس کا جی پریشان ہے اور خُداوند نے یہ بات مجھ سے چھپائی اور مجھے نہ بتائی۔
28اور وہ کہنے لگی کیا میں نے اپنے مالک سے بیٹے کا سوال کیا تھا؟ کیا میں نے نہ کہا تھا کہ مجھے دھوکہ نہ دے ۔
29تب اُس نے جیحازی سے کہا کمر باندھ اور میرا عصا ہاتھ میں لے کر اپنی راہ لے اگر کوئی تجھے راہ میں مِلے تو اُسے سلام نہ کرنا اور اگر کوئی تجھے سلام کرے تو جواب نہ دینا اور میرا عصا اُس لڑکے کے منہ پر رکھ دینا ۔
30اُس لڑکے کی ماں نے کہا خداوند کی حیات کی قسم اور تیری جان کی سوگند میں تجھے نہیں چھوڑوں گی تب وہ اُٹھ کر اُس کے پیچھے پیچھے چلا۔
31اور جیحازی نے اُس سے پہلے آکر عصا کو اُس لڑکے کے منہ پر رکھا پر نہ تو کچھ آواز ہوئی نہ سُننا اِس لیے وہ اُس سے مِلنے کو لوٹا اور اُسے بتایا کہ لڑکا نہیں جاگا۔
32جب الیشع اُس گھر میں آیا تو دیکھو وہ لڑکا مرا ہوا اُس کے پلنگ پر پڑا تھا۔
33سو وہ اکیلا اندر گیا اور دروازہ بند کر کے خُداوند سے دعا کی ۔
34اور اُوپر چڑھ کر اُس بچے پر لیٹ گیا اور اُس کے منہ پر اپنا منہ اور اُس کی آنکھوں پر اپنی آنکھیں او ر اُس کے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھ لیے اور اُس کے اوپر پسر گیا ۔ تب اُس بچے کا جسم گرم ہونے لگا ۔
35پھر وہ اُٹھ کر اُس گھر میں ایک بار ٹہلا اور اوپر چڑھ کر اُس بچے کے اوپر پسر گیا اور وہ بچہ سات بار چھینکا اور بچے نے آنکھیں کھول دیں ۔
36تب اُس نے جیحازی کو بُلا کر کہا اُس شونیمی عورت کو بُلا کے سو اُس نے اُسے بُلایا اور جب وہ اُس کے پاس آئی تو اُس نے اُس سے کہا اپنے بیٹے کو اُٹھا لے ۔
37تب وہ اندر جا کر اُس کے قدموں پر گِری اور زمین پر سر نگوں ہو گئی پھر اپنے بیٹے کو اُٹھا کر باہر چلی گئی۔
38اور الیشع پر جلجال میں آیا اور مُلک میں کال تھا ۔ اور انبیاء زادے اُس کے حضور بیٹھے ہوئے تھے اور اُس نے اپنے خادم سے کہا بڑی دیگ چڑھا دے اور اِن انبیا زادوں کے لیے لپسی پکا۔
39اور اُن میں سے ایک کھیت میں گیا تو کچھ ترکاری چُن لائی سو اُسے کوئی جنگلی لتا مل گئی اُس نے اُس میں سے اندر این توڑ کر دامن بھر لیا اور لوٹا اور اُن کو کاٹ کر لپسی کی دیگ میں ڈال دیا کیونکہ وہ اُن کو پہچانتے نہ تھے ۔
40چنانچہ اُناہوں نے اُن مردوں کے کاکھانے کے لیے اُس میں سے انڈھیلا اور ایسا ہُوا کہ جب وہ اُس لپسی میں سے کھانے لگے تو چِلا ٹھے اور کہا اے مردِ خُداا دیگ میں موت ہے اور وہ اُس میں سے کھا نہ سکے ۔
41لیکن اُس نے کہا کہ آٹا لاو اور اُس نے اُسے دیگ میں ڈال دیا اور کہا کہ اُن لوگوں کے لیے انڈیلو تاکہ وہ کھائیں ۔ سو دیگ میں کوئی مضر چیز نہ رہی ۔
42اور بعل سلیسہ سے ایک شخص آیا اور پہلے پھلوں کی روٹیاں یعنی جَو کے بیس گِردے اور اناج کی ہری ہری بالیں مردِ خُدا کے پاس لایا اُس نے کہا اِن لوگوں کو دے دے تاکہ وہ کھائیں
43اُس کے خادم نے کہا کیا میں اتنے ہی کو سو آدمیوں کے لیے سامنے رکھ دوں ؟ سو اُس نے پھر کہا کہ لوگوں کو دے دے تاکہ وہ کھائیں کیونکہ خُداوند یوں فرماتا ہے کہ وہ کھائیں گے اور اُس میں سے کچھ چھوڑ بھی دیں گے ۔
44پس اُس نے اُسے اُن کے آگے رکھا اور اُنہوں نے کھایااور جیسا خُدا وند نے فرمایا تھا اُس نے سے کچھ چھوڑ بھی دیا ۔