Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
27 verses
1اورشاہِ ارام کے لشکر کا سردار نعمان اپنے آقا کے نزدیک معزز و مکرم شخص تھا کیونکہ خُداوند نے اُس کے وسیلہ سے ارام کو فتح بخشی تھی وہ زبردست سورما بھی تھا لیکن کوڑھی تھا ۔
2اور ارامی دل باند ھ کر نکلے تھے اور اسرائیل کے مُلک میں سے ایک چھوٹی لڑکی کو اسیر کر کے لے آئے تھے ۔ وہ نعمان کی بیوی ی خدمت کرتی تھی ۔
3اُس نے اپنی بی بی سے کہا کاش میرا ٓقا اُس نبی کے ہاں ہوتا جو سامریہ میں ہے تو وہ اُسے اُس کے کوڑھ سے شفا دے دیتا ۔
4سو کسی نے اندر جا کر اپنے مالک سے کہا وہ چھوکری جو اسرائیل کے مُلک کی ہے ایسا ایسا کہتی ہے ۔
5سو ارام کے بادشاہ نے کہا تو جا اور میں شاہِ اسرائیل کو خط بھیجوں گا سو وہ روانہ ہوا اور دس قنطار چاندی اور چھ ہزار مثقال سونا اور دس جوڑے کپڑے اپنے ساتھ لے لیے ۔
6اور وہ اُس خط کو شاہ اسرائیل کے پاس لایا جس کا مضمون یہ تھا کہ یہ نامہ جب تجھ کو مِلے تو جان لینا کہ میں نے اپنے خادم نعمان کو تیرے پاس بھیجا ہے تاکہ تو اُس کے کوڑھ دے اُسے شفا دے ۔
7جب شاہِ اسرائیل نے اُس خط کو پڑھا تو اپنے کپڑے پھاڑ کر کہا کیا میں خُدا ہوں کہ ماروں اور جلاوں جو یہ شخص ایک آدمی کو میر ے پاس بھیجتا ہے کہ اُس کو کوڑھ سے شفا دوں سو اب ذرا غور کرو دیکھو کہ وہ کس طرح مجھ سے جھگڑنے کا بہانہ ڈھونڈھتا ہے ۔
8جب مردِ خُدا الیشع نے سُنا کہ شاہ اسرائیل نے اپنے کپڑے پھاڑے تو بادشاہ کو کہلا بھیجا تُو نے اپنے کپڑے کیوں پھاڑے اب اُسے میرے پاس آنے سے اور وہ جان لے گا کہ اسرائیل میں ایک نبی ہے ۔
9سو نعمان اپنے گھوڑوں اور رتھوں سمیت آیا اور الیشع کے گھر کے دروازہ پر کھڑا ہوا
10اور الیشع نے ایک قاصد کی معرفت کہلا بھیجا جا اور یردن میں سات بار غوطہ مار تو تیرا جسم پھر بحال ہو جائے گا اور تو پاک صاف ہو گا ۔
11پر نعمان ناراض ہو کر چلا گیا اور کہنے لگا مجھے گُمان تھا کہ وہ نکل کر ضرور میرے پاس آئے گا اور کھڑا ہو کر خُداوند اپنے خُدا سے دعا کرے گا اور اُس جگہ کے اوپر اپنا ہاتھ ادھر اُدھر ہلاک کر کوڑھی کو شفا د ے گا ۔
12کیا دمشق کے دریا ابانہ اور فرفر اسرائیل کی سب ندیوں سے بڑھ کر نہیں ہے ۔ کیا میں اُن میں نہا کر پاک صا ف نہیں ہو سکتا ؟ سو وہ مُڑا اور بڑے قہر میں چلا گیا ۔
13تب اُس کے ملازم پاس آکر اُس سے یوں کہنے لگے اے ہمارے باپ اگر وہ نبی کوئی بڑا کام کرنے کا حکم تجھے دیتا تو کیا تُو اُسے نہ کرتا ؟ پس جب وہ تجھ سے کہتا ہے کہ نہا لے اور پاک صاف ہو جا تو کتنا زیادہ اُس سے ماننا چاہیے ۔
14تب اُس نے اُتر کر مردِ خُدا کے کہنے کے مطابق یردن میں سات غوطے مارے اور اُس کا جسم چھوٹے بچے کے جسم کی مانند ہو گیا اور وہ پاک صاف ہوا۔
15پھر وہ اپنی جلو کے سب لوگوں کے ساتھ مردِ خُدا کے پاس لوٹااور اُس کے سامنے کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ دیکھ اب میں نے جان لیا کہ اسرائیل کو چھوڑ اور کہیں رویِ زمین پر کوئی خُدا نہیں اِس لیے اب کرم فرما کر اپنے خادم کا ہدیہ قبول کر ۔
16لیکن اُس نے جواب دیا خُداوند کی حیات کی قسم جس کے آگے میں کھڑا ہوں میں کچھ نہیں لونگا اور اُس نے اُس سے بہت اصرار کیا کہ لے پر اُس نے انکار کیا ۔
17تب نعمان نے کہا اچھا تو میں تیری منت کرتا ہوں کہ تیرے خادم کو دو خچروں کو بوجھ مٹی دی جائے کیونکہ تیرا خادم اب سے آگے کو خُداوند کے سوا کسی غیر معبود کے حضور نہ تو سوختنی قُربانی نی ذبیحہ چڑھائے گا ۔
18پر اتنی بات میں خُداوند تیرے خادم کو معاف کرے کہ جب میرا آقا پرستش کرنے کو رمون کے مندر میں جائے اور وہ میرے ہاتھ پر تکیہ کرے اور میں رمون کے مندر میں سر نگوں ہووں تو جب میں رمون کے مندر میں سر نگوں ہووں تو خُداوند اِس بات میں تیرے خادم کو معاف کرے ۔
19اُس نے اُس سے کہا سلامت جا سو وہ اُس سے رخصت ہو کر تھوڑی دور نکل گیا۔
20لیکن اس مردِ خُدا الیشع کے خادم جیحازی نے سوچا کہ میرے آقا نے ارامی نعمان کو یوں ہی جانے دیا کہ جو کچھ وہ لایا تھااُس سے نہ لیا سو خُداوند کی حیات کی قسم میں اُس کے پیچھے دوڑ جاوں گا اور اُ س سے کچھ نہ کچھ لوں گا ۔
21سو جیحازی نعمان کے پیچھے چلا ، جب نعمان نے دیکھا کہ کوئی اُس کے پیچھے دوڑا چلا آ رہا ہے تو وہ ُا سے ملنے کو رتھ پر سے اُترا اور کہا خیر تو ہے ۔
22اُس نے کہا سب خیر ہے میرے مالک نے مجھے یہ کہنے کو بھیجا ہے کہ دیکھ انبیا زادوں میں سے ابھی دو جوان افرائیم کے کوہستانی مُلک سے میرے پاس آ گئے ہیں سو ذرا ایک قنظار چاندی اور دو جوڑے کپڑے اُن کے لیے دے دے ۔
23نعمان نے کہا خوشی سے دو قنطار کے اور وہ اُس سے بجد ہوا اور اُس نے دو قنطار چاندی اور دو تھیلیوں میں باندھی اور دو جوڑے کپڑوں سمیت اُن کو اپنے دو نوکروں پر لادا اور وہ اُن کو لیکر اُس کے آگے آگے چلے ۔
24اور اُس نے ٹیلے پر پہنچ کر اُن کے ہاتھ سے اُن کو لے لیا اور گھر میں رکھ دیا ۔ اور اُن مردوں کو رخصت کیا سو وہ چلے گئے ۔
25لیکن آپ اندر جا کر اپنے آقا کے حضور کھڑا ہو گیا ، الیشع نے اُس سے کہا جیحازی تُو کہاں سے آ رہا ہے اُس نے کہا تیرا خادم تو کہیں نہیں گیا تھا ۔
26اُس نے اُس سے کہا کیا میرا دل اُس وقت تیرے ساتھ نہ تھا جب دو شخص تُجھ سے ملنے کو اپنے رتھ پر سے لوٹا کیا روپے لینے اور پوشاک اور زیتون کے باغوں اور تاکستانوں اور بھیڑوں اور بیلوں اور غُلاموں اور لونڈیوں کے لینے کا یہ وقت ہے
27اِس لیے نعمان کا کوڑھ تُجھے اور تیری نسل کو سد ا لگا رہے گا ۔ سو وہ برف سا سفید کوڑھی ہو کر اُس کے سامنے سے چلا گیا ۔