Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
32 verses
1اور انبیا زادوں نے الیشع سے کہا دیکھ ! یہ جگہ جہاں ہم تیرے سامنے رہتے ہیں ہمار ے لیے تنگ ہے
2سو ہم کو ذرا یردن کو جانے دے کہ ہم وہاں سے ایک کڑی لیں اور وہیں کوئی جگہ بنائیں جہاں ہم رہ سکیں اُس نے جواب دیا جاو ۔
3تب ایک نے کہا مہربانی سے اپنے خادموں کے ساتھ چل اُس نے کہا میں چلوں گا
4چنانچہ وہ اُن کے ساتھ چلا گیا اور جب وہ یردن پر پہنچے تو لکڑی کاٹنے لگے ۔
5لیکن ایک کی کُلہاڑی کا لوہا جب وہ کڑی کاٹ رہا تھا پانی میں گِر گیا سو وہ چِلا اُٹھا اورکہنے لگا ہائے میرے مالک یہ تو مانگا ہوا تھا ۔
6مردِ خُدا نے کہا وہ کس جگہ گِرا ؟ اُس نے اُس سے وہ جگہ دکھائی تب اُس نے ایک چھڑی کا ٹکر اُس جگہ ڈال دیا اور لوہا تہرنے لگا ۔
7پھر اُس نے کہا اپنے لیے اُٹھا لے سو اُس نے ہاتھ بڑھا کر اُسے اُٹھا لیا ۔
8اور شاہ ارام شاہِ اسرائیل سے لڑ رہا تھا اور اُس نے اپنے خادموں سے مشورت لی اور کہا کہ میں فلاں فلاں جگہ ڈھیرا ڈالونگا ۔
9سو مردِ خُدا نے شاہ اسرائیل کو کہلا بھیجا خبردار تو فلاں جگہ سے مت گزرنا کیونکہ وہاں ارامی آنے کو ہیں۔
10اور شاہ اسرائیل نے اُس جگہ جس کی خبر مردِ خُدا نے دی تھی اور اُس کو آگاہ کر دیا تھا آدمی بھیجے اور وہاں سے اپنے کو بچایا اور یہ فقط ایک یا دو بار ہی نہیں ۔
11اِس بات کے سبب سے شاہِ ارام کا دل نہایت بےچین ہوا اور اُس نے اپنے خادموں کو بُلا کر اُن سے کہا کیا تُم مجھے نہیں بتاو گے کہ ہم میں سے کون شاہِ اسرائیل کی طرف ہے ۔
12تب اُس کے خادموں میں سے ایک نے کہا نہیں اے میرے مالک ! اے بادشاہ ! بلکہ الیشع جو اسرائیل میں نبی ہے تیری اُن باتوں کو جو تُو اپنی خلوت گاہ میں کہتا ہے شاہِ اسرائیل کو بتا دیتا ہے ۔
13اُس نے کہا جا کر دیکھو وہ کہاں ہے تاکہ میں اُسے پکڑوا منگواوں اور اُسے یہ بتایا گیا کہ وہ دو تین میں ہے ۔
14تب اُس نے وہاں گھوڑوں اور رتھوں اور ایک بڑے لشکر کو روانہ کیا سو اُنہوں نے راتوں رات آ کر اُس شہر کو گھیر لیا ۔
15اور جب اُس مردِ خُدا کا خادم صبح کو اُٹھ کر باہر نکلا تو دیکھا کہ ایک لشکر معہ گھوڑوں اور رتھوں کے شہر کے چوگرد ہے سو اُس خادم نے جا کر اُس سے کہا ہائے اے میرے مالک ! ہم کیا دعا کریں ؟
16اُس نے جواب دیا خو ف نہ کر کیونکہ ہمارے ساتھ والے اُن کے ساتھ والوں سے زیادہ ہیں ۔ اور الیشع نے دعا کی اور کہا اے خُداوند اُس کی آنکھیں کھول دے تاکہ وہ دیکھ سکے تب خُداوند نے اُس جوان کی آنکھیں کھول دیں اور اُس نے جو نگاہ کی تو دیکھا کہ الیشع کے گردا گرد کا پہاڑ آتشی گھوڑوں اور رتھوں سے بھرا ہے ۔
18اور جب وہ اُسکی طرف آنے لگے تو الیشع نے خُداوند سے دعا کی اور کہا میں تیری مِنت کرتا ہوں اِن لوگوں کو اندھا کر دے سو اُس نے جیسا الیشع نے کہا تھا اُنکو اندھا کر دیا ۔
19پھر الیشع نے اُن سے کہا یہ وہ راستہ نہیں اور نہ یہ وہ شہر ہے ۔ تُم میرے پیچھے چلے اور میں تُم کو اُس شخص کے پاس پہنچا دونگا جسکی تُم تلاش کرتے ہو اور وہ اُنکو سامریہ کو لے گیا ۔
20اور جب وہ سامریہ یں پہنچے تو الیشع نے کہا اے خُداوند اِن لوگوں کی آنکھیں کھول دے تاکہ وہ دیکھ سکیں ۔ تب خُداوند نے اُنکی آنکھیں کھول دیں اور اُنہوں نے جو نگاہ کی تو کیا دیکھا کہ سامریہ کے اندر ہیں ۔
21اور شاہِ اسرائیل نے اُنکو دی��ھ کر الیشع سے کہا اے میرے باپ کیا میں اُنکو مار لُوں ؟ میں اُنکومار لُوں ؟
22اُس نے جواب دیا تُو اُنکو نہ مار ۔ کیا تُو اُنکو مار دیا کرتا ہے جنکو تُو اپنی تلوار اور اکمان سے اسیر کر لیتا ہے ؟ تُو اُنکے آگے روٹی اور پانی رکھ تاجہ وہ کھائیں پییں اور اپنے آقا کے پاس جائیں ۔
23سو اُس نے اُنکے لیے بہت سا کھانا تیار کیا اور جب وہ کھا پی چُکے تو اُس نے اُنکو رخصت کیا اور وہ اپنے آقا کے پاس چلے گئے اور ارام کے جتھے اسرائیل کے مُلک میں پھر نہ آئے۔
24اِس کے بعد ایسا ہُوا کہ بن ہدد شاہِ ارام اپنی سب فوج اکٹھی کر کے چڑھ آیا اور سامریہ کا محاصرہ کر لیا ۔
25اور سامریہ میں بڑا کال تھا اور وہ اُسے گھیرے رہے یہاں تک کہ گدھے کا سر چاندی کے اَسی سِکوں میں اور کبوتر کی بیٹ کا ایک چوتھائی پیمانہ چاندی کے پانچ سِکوں میں بِکنے لگا ۔
26اور جب شاہِ اسرائیل دیوار پر جا رہا تھا تو ایک عورت نے اُسکی دہائی دی اور کہا اے میرے مالک اے بادشاہ مدد کر !
27اُس نے کہا کہ اگر خُداوند ہی تیری مدد نہ کرے تو میں کہاں سے تیری مدد کروں ؟ کیا کھلیہان سے یا انگور کے کولھو سے ؟
28پھر بادشاہ نے اُس سے کہا تجھے کیا ہوا ؟ اُس نے جواب دیا اِس عورت نے مجھ سے کہا کہ اپنا بیٹا دے دے تاکہ ہم آج کے دن اُسے کھائیں اور میرا بیٹا جو ہے سو اُسے ہم اُسے کل کھائیں گے ۔
29سو میرے بیٹے کو ہم نے پکایا اور اُسے کھا لیا اور دوسرے دن میں نے اُس سے کہا اپنا بیٹا لا تاکہ ہم اُسے کھائیں لیکن اُس نے اپنا بیٹا چھپا دیا ہے ۔
30بادشاہ نے اُس عورت کی باتیں سُن کر اپنے کپڑے پھاڑے ۔ اُس وقت وہ دیوار پر چلا جاتا تھا اور لوگوں نے دیکھا کہ اندر وار اُسکے تن پر ٹاٹ ہے ۔
31اور اُس نے کہا کہ اگر آج سافط کے بیٹے الیشع کا سر اُس کے تن پر رہ جائے تو خُدا مجھ سے ایسا بلکہ اِس سے زیادہ کرے ۔
32لیکن الیشع اپنے گھر میں بیٹھا رہا اور بزرگ لوک اُسکے ساتھ بیٹھے تھے اور بادشاہ نے اپنے حضور سے ایک شخص کو بھیجا پر اِس سے پہلے کہ وہ قاصد اُس کے پاس آئے اُس نے بزرگوں سے کہا تُم دیکھتے ہو کہ اُس قاتلِ زادہ نے میرا سر اُڑا دینے کو ایک آدمی بھیجا ہے ؟ سو دیکھ جب وہ قاصد آئے تودروازہ بند کر لینا اور مضبوطی سے دروازہ کو اُس کے مقابل پکڑے رہنا ۔ کیا اُسے پیچھے پیچھے اُس کے آقا کے پاوں کی آہٹ نہیں ؟
33اور وہ اُن سے ہنوز باتیں کر رہی رہا تھا کہ دیکھو وہ قاصد اُس کے پاس آ پہنچا اور اُس نے کہا کہ دیکھ یہ بلا خُداوند کی طرف سے ہے ۔ اب آگے میں خُداوند کی راہ کیوں تکوُں ؟