Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
37 verses
1اور اِسکے بعد اَیسا ہُؤا کہ داؔؤد کے بیٹے ابؔی سلوم کی ایک خُوبصُورت بہن تھھی جِسکا نام تؔمر تھا ۔ اُس پر داؔؤد کا بیٹا امؔنون عاشِق ہو گیا۔
2اور امؔنون اِیسا کُڑھنے لگا کہ وہ اپنی بہن تؔمر کے سبب سے بیمار پڑ گیا کیونکہ وہ کُنواری تھی ۔ سو اؔمنون کو اُسکے ساتھ کُچھ کرنا دُشوار معلوم ہُؤا۔
3اور داؔؤد کے بھائی سمؔعہ کا بیٹا یُونؔدب امنوؔن کا دوست تھا اور یُونؔدب بڑا چالاک آدمی تھا۔
4سو اُس نے اُس سے کہا اَے بادشاہ زادے ! تُو کیون دِن بدِن دُبلا ہوتا جاتا ہے؟ کیا تُو مجھے نہیں بتائیگا؟ تب امنؔون نے اُس سے کہا کہ مَیں اپنے بھائی ابؔی سلوم کی بہن تؔمر پر عاشق ہُوں ۔
5یُونؔدب نے اُس سے کہا تُو اپنے بستر پر لیٹ جا اور بیماری کا بہانہ کر لے اور جب تیرا باپ تجھے دیکھنے آئے تو تُو اُس سے کہنا میری بہن تؔمر کو ذرا آنے دے کہ وہ مجھے کھانا دے اور میرے سامنے کھانا پکائے تا کہ مَیں دیکھوُں اور اُسکے ہاتھ سے کھاؤں ۔
6سو امؔنوُن پڑ گیا اور اُس نے بیماری کا بہانہ کر لیا اور جب بادشاہ اُسکو دیکنھے آیا امؔنوُن نے بادشاہ سے کہا میری بہن تُمر کو ذرا آنے دے کہ وہ میرے سامنے دو پُوریاں بنائے تاکہ مَیں اُسکے ہاتھ سے کھاؤُں ۔
7سو تُمر اپنے بھائی امؔنوُن کے گھر گئی اور وہ بِستر پر پڑا ہُؤا تھااور اُس نے آٹا لیا اور گوُندھا اور اُسکے سامنے پُوریاں بنائیں اور اُنکو پکایا ۔
9اور توے کو لیا اور اُسکے سامنے اُنکو اُنڈیل دیا پر اُس نے کھانے سے اِنکار کیا ۔ تب امؔنوُن نے کہا کہ سب آدمیوں کو میرے پاس سے باہر کر دو۔ سو ہر ایک آدمی اُسکے پاس سے چلا گیا۔
10تب امؔنوُن نے تؔمر سے کہا کہ کھانا کوٹھری کے اندر لے آتاکہ مَیں تیرے ہاتھ سے کھاؤُں ۔ سو تؔمر وہ پُوریاں جو اُس نے پکائی تھیں اُٹھا کر اُنکو کوٹھری میں اپنے گھائی امنؔوُن کے پاس لائی۔
11اور جب وہ اُنکو اُسکے نزدیک لے گیئی کہ وہ کھائے تو اُس نے اُسے پکڑ لیا اور اُس سے کہا اَے میری بہن مجھ سے وصل کر ۔
12اُس نے کہا نہیں میرے بھائی میرے ساتھ جبر نہ کر کیونکہ اِسرائیلیوں میں کوئی ایَسا کام نہیں ہونا چاہئے ۔ تُو اَیسی ھماقت نہ کر۔
13اور بھلا میں اپنی رُسوائی کہاں لئے پھرُونگی؟ اور تُو بھی اِسرائیلیوں میں احمقوں میں سے ایک کی مانند ٹھہریگا ۔ سو تُو بادشاہ سے عرض کر کیونکہ وہ مجھ کو تجھ سے روک نہیں رکھّیگا۔
14لیکن اُس نے اُسکی بات نہ مانی اور چُونکہ وہ اُس سے زور آور تھا اِسلئے اُس نے اُسکے ساتھ جبر کیا اور اُس سے صُحبت کی۔
15پھر امؔنوُن کو اُس سے بڑی سخت نفرت ہوغئی کوینکہ اُسکی نفرت اُسکے جذبہ عشق سے کہیں بڑھکر تھی۔ سو امؔنوُن نے اُس سے کہا اُٹھ چلی جا۔
16وہ کہنے لگی اَیسا نہ ہوگا کیونکہ یہ ظُلم کہ تُو مجھے نِکالتا ہے اُس کام سے جو تُو نے مجھ سے کیا بدتر ہے پر اُس نے اُسکی ایک نہ سُنی ۔
17تب اُس نے اپنے ایک ملازم کو جو اُسکی خدمت کر تا تھا بُلا کر کہا اِس عورت کو میرے پاس سے باہر نِکال دے اور پیچھے دروازہ کی چٹکنی لگا دے ۔
18اور وہ رنگ برنگ کا جوڑا پہنے ہوُئے تھی کیونکہ بادشاہوں کی کنواری بیٹیاں اَیسی ہی پوشاک پہنتی تھیں۔ غرض اپسکے خادِم نے اُسکو باہر کر دیا اور اُسکے پیچھے چٹکنی لگا دی۔
19اور تؔمر نے اپنے سر پر خاک ڈالی اور اپنے رنگ برنگ کے جوڑے کو جو پہنے ہُوئے تھی چاک کیا اور سر پر ہاتھ دھر ��ر روتی ہُوئی چلی۔
20اُسکے بھائی ابؔی سلوم نے اُس سے کہا کیا تیرا بھائی امنؔوُن تیرے ساتھ رہا ہے؟ خَیر اَے میری بہن اب چُپکی رہ رہ کیونکہ وہ تیرا بھائی ہے اور اِس بات کا غم نہ کر ۔ سو تؔمر اپنے بھائی ابؔی سلوم کے گھر میں بے کس پڑی رہی۔
21اور جب داؔؤد بادشاہ نے یہ سب باتیں سُنیں تو نہایت غُصہ ہُؤا ۔
22اور ابؔی سلوم نے اپنے بھائی امنؔوُن سے کچھ بُرا بھلا نہ کہا کیونکہ ابؔی سلوم کو امؔنون سے نفرت تھی اِسلئے کہ اُس نے اُسکی بہن تؔمر کے ساتھ جبر کا تھا۔
23اور اَیسا ہوا کہ پورے دو سال کے بعد بھیڑوں کے بال کترنے والے ابؔی سلوم کے ہاں بعل حؔصور میں تھے جو افؔرائیم کے پاس ہے اور ابؔی سلوم نے بادشاہ کے سب بیٹوں کو دعوت دی۔
24سو ابؔی سلوم نے بادشاہ کے پاس آکر کہنے لگا تیرے خادِم کے ہاں بھیڑوں کے بال کترنے والے آؑے ہیں سو مَیں مِنت کرتا ہُوں کہ بادشاہ مع اپنے مُلازِموں کے اپنے خاد،م کے ساتھ چلے۔
25تب بادشاہ نے ابؔی سلوم سے کہا نہیں میرے بیٹے ہم سب کے سب نہ چلیں تا نہ ہو کہ تجھ پر ہم بوجھ ہو جائیں اور وہ اُس سے بجد ہُؤا تو بھی وہ نہ گیا پر اُسے دُعا دی۔
26تب ابیؔ سلوم نے کہا اگر اَیسا نہیں ہو سکتا تو میرے بھائی امنؔون کو تو ہمارے ساتھ جانے دے۔ بادشاہ نے اُس سے کہا وہ تیرے ساتھ کیوں جائے؟۔
27لیکن ابؔی سلوم اَیسا بجد ہُؤا کہ اُس نے امنؔون اور سب بادشاہ زادوں کو اُسکے ساتھ جانے دِیا۔
28اور ابؔی سلوم نے اپنے خادِموں کو حُکم دیا کہ دیکھو جب امؔنون کا دِل مَے سے سرُور میں ہو اور مَیں تمکو کُہوں کہ امؔنون کو مارو تو تُم اُسے مار ڈالنا ۔ خَوف نہ کرنا ۔ کیا مہں نے تُم کو حُکم نہیں دِیا؟ دِلیر اور بہادُر بنے رہو۔
29چنانچہ ابؔی سلوم کے نوکروں نے امنؔون سے وَیسا ہی کیا جَیسا ابؔی سلوم نے حُکم دیا تھا۔ تب سب بادشاہ زادے اُٹھے اور ہر ایک اپنے خچّر پر چڑھ کر بھاگا۔
30اور وہ ہنوز راستہ ہی میں تھے کہ داؔؤد کے پاس یہ خبر پُہنچی کہ ابیؔ سلوم نے سب بادشاہ زادوں کو قتل کر ڈالا ہے اور اُن میں سے ایک بھی باقی نہیں بچا۔
31تب بادشاہ نے اُٹھ کر اپنے کپڑے پھاڑے اور زمین پر پڑ گیا اور اُسکے سب مُلازِم کپڑے پھاڑے ہُوئے اُسکے حُضُور کھڑے رہے ۔
32تب داؔؤد کے بھائی سمؔعہ کا بیٹا یوؔندؔب کہنے لگا کہ میرا مالک یہ خیال نہ کرے کہ اُنہوں نے سب جوانوں کو جو بادشاہ زادے ہیں مار ڈالا ہے اِسلئے کہ صرف امؔنون ہی مرا ہے کیونکہ ابؔی سلوم کے اِنتظام سے اُسی دِن سے یہ بات ٹھان لی گئی تھی جب اُس نے اُسکی بہن تؔمر کے ساتھ جبر کیا تھا۔
33سو میرا مالک بادشاہ اَیسا خیال کر کے کہ سب بادشاہ زادے مر گئے اِس بات کا غم نہ کرے کیونکہ صرف امؔنون ہی مرا ہے۔
34اور بؔی سلوم بھاگ گیا اور اُس جوان نے جو نگہبان تھا اپنی آنکھیں اُٹھا کر نگاہ کی اور کیا دیکھا کہ بہت سے لگ اُسکے پیچھے کی طرف سے پہاڑ کے دامن کے راستہ سے چلے آرہے ہیں ۔
35تب یونؔدب نے بادشاہ سے کہا کہ دیکھ بادشاہ زادے آگئے۔ جَیسا تیرے خادِم نے کہا تھا وَیسا ہی ہے۔
36اُس نے اپنی بات ختم ہی کی تھی کہ بادشاہ زادے آ پہنچے اور چلاّ چلاّ کر رونے لگے اور بادشاہ اور اُسکے سب مُلازِم بھی زار زار روئے۔ لیکن ابؔی سلوم بھاگ کر جؔسُور کے بادشاہ عؔمّیہوُد کے بیٹے تؔلمی کے پاس چلا گیا اور داؔؤد ہر روز اپنے بیٹے کے لئے ماتم کرتا رہا۔
38سو ابؔی سلوم بھاگ کر جؔسُور کو گیا اور تین برس تک وہیں رہا۔
39اور داؔؤد بادشاہ کے دِل میں ابؔی سلوم کے پاس جانے کی بڑی آرزو تھی کیونکہ امؔنون کی طر سے اُسے تسلّی ہو گئی تھی اِسلئے کہ وہ مر چُکا تھا۔