Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
30 verses
1اور ضؔرویا ہ کے بیٹے یؔوُ آب نے تاڑ لیا کہ بادشاہ کا دِل ابؔی سلوم کی طرف لگا ہے ۔ سو یؔوُآب نے تؔقوُع کو آدمی بھیج کر وہاں سے ایک دانشِمند عورت بُلوائی اور اُس سے کہا کہ ذرا سوگ والی کاسا بھیس کرکے ماتم کے کپڑے پہن لے اور تیل نہ لگا بلکہ اَیسی عَورت کی طرح بن جا جو بڑی مُدّت سے مُردہ کے لئے ماتم کر رہی ہو۔
3اور بادشاہ کے پاس جا کر اُس سے اِس اِس طرح کہنا ۔ پھر یؔوُآب نے اُسے جو باتیں کہنی تھیں سِکھائیں ۔
4اور جب تؔقوُع کی وہ عَورت بادشاہ سے باتیں کرنے لگی تو زمین پر اَوندھے مُنہ ہو کر گِری اور سِجدہ کر کے کہا اَے بادشاہ تیری دُہائی ہے!۔
5بادشاہ نے اُس سے کہا تجھے کیا ہُؤا؟ اُس نے کہا مَیں سچ مُچ ایک بیوہ ہُوں اور میرا شوہر مر گیا ہے ۔
6تیری لَونڈی کے دو بیٹے تھے۔ وہ دونوں میدان پر آپس میں مار پیٹ کرنے لگے اور کوئی نہ تھا جو اُنکو چھُڑا دیتا ۔ سو ایک نے دُوسرے کو اَیسی ضرب لگائی کہ اُسے مار ڈالا۔
7اور اب دیکھ کہ سب کُنبے کا کُنبہ تیری لَونڈی کے خِلاف اُٹھ کھڑا ہُؤا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اُسکو جس نے اپنے بھائی کو مارا ہمارے حوالہ کر تاکہ ہم اُسکو اُسکے بھائی کی جان کے بدلے جسے اُس نے مار ڈالا قتل کریں اور یُوں وارِث کو بھی ہلاک کر دیں ۔ اِس طرح تو وہ میرے انگارے کو جو باقی رہا ہے بُجھا دینگے اور میرے شوہر کا ن تو نام نہ بقیّہ رُویِ زمیں پر چھوڑینگے۔
8بادشاہ نے اُس عَورت سے کہا تُو اپنے گھر جا اور مَیں تیری بابت حُکم کرُونگا ۔ تؔقوع کی اُس عورت نے بادشاہ سے کہا اَے میرے مالِک ! اَے بادشاہ ! سارا گُناہ مُجھ پر اور میرے باپ کے گھرانے پر ہو اور بادشاہ اور اُسکا تخت بے گُناہ رہے۔
10تب بادشاہ نے فرمایا جو کوئی تجھ سے کچھ کہے اُسے میرے پاس لے آنا اور وہ پھر تجھ کو چُھونے نہیں پائیگا۔
11تب اُس نے کہا کہ مَیں عرض کرتی ہُوں کہ بادشاہ خُداوند اپنے خُدا کو یاد کرے کہ خُون کا اِنتقام لینے والا اَور ہلاک نہ کرنے پائے تا نہ ہو کہ وہ میرے بیٹے کو ہلاک کر دیں ۔ اُس نے جواب دیا خُداوند کی حیات کی قسم تیرے بیٹے کا ایک بال بھی زمین پر نہیں گِرنے پائیگا۔
12تب اُس عورت نے کہا ذرا میرے مالِک بادشاہ سے تیری لَونڈی ایک بت کہے۔
13اُس نے جواب دیا کہہ تب اُس عَورت نے کہا کہ تُو نے خُدا کے لوگوں کے خِلاف اَیسی تدبیر کیوں نِکالی ہے ؟ کیونکہ بادشاہ اِس بات کے کہنے سے مُجرم سا ٹھہرتا ہے اِسلئے کہ بادشاہ اپنے جلا وطن کو پھر گھر لَوٹا کر نہیں لاتا۔
14کیونکہ ہم سب کو مرنا ہے اور ہم زمین پر گِرے ہُوئے پانی کی طرح ہو جاتے ہیں جو پھر جمع نہیں ہوسکتا اور خُدا کِسی کی جان نہیں لیتا بلکہ اَیسے وسائیل نِکالتا ہے کہ جلا وطن اُسکے ہاں سے نِکالا ہُؤا نہ رہے۔
15اور مَیں نے جو اپنے مالِک سے بادشاہ سے یہ بات کہنے آئی ہوں تو اِکا سبب یہ ہے کہ لوگوں نے مجھے ڈرادیا تھا ۔ سو تیری لَونڈی نے کہا کہ مَیں آپ بادشاہ سے عرض کرُونگی۔ شاید بادشاہ اپنی لَونڈی کی عرض پُوری کرے۔
16کیونکہ بادشاہ سپنکر ضرور اپنی لَونڈی کو اُس شخص کے ہاتھ سے چُھڑائیگا جو مجھے اور میرے بیٹے دونوں کو خُدا کی میراث میں سے نیست کر ڈالنا چاہتا ہے۔
17سو تیری لَونڈی نے کہا کہ میرے مالِک بادشاہ کی بات تسلّی بخش ہو کیونکہ میرا مالِک بادشاہ نیکی اور بدی کے اِمتیاز کرنے میں خُدا کے فرشتہ کی مانند ہے ۔ سو خُداوند تیرا خُدا تیرے ساتھ ہو۔
18تب بادشاہ نے اُس عَورت سے کہا مَیں تجھ سے جو کچھ پُوچھوں تو اُسکو ذرا بھی مجھ سے مت چھپانا ۔ اُس عوَرت نے کہا میرا مالِک بادشاہ فرمائے ۔
19بادشاہ نے کہا کیا اِس سارے معاملہ میں یؔوُآب کا ہاتھ تیرے ساتھ ہے؟ اُس عَورت نے جواب دیا تیری جان کی قسم اَے میرے مالک بادشاہ کوئی اِن باتوں سے جو میرے مالِک بادشاہ نے فرمائی ہیں دہنی یا بائیں طرف نہیں مُڑ سکتا کیونکہ تیرے خادم یؔوُآب ہی نے مجھے حُکم دیا اور اُسی نے یہ سب باتیں تیری لَونڈی کو سِکھائیں۔
20اور تیرے خادِم یؔوُآب نے یہ کام اِسلئے کیا تا کہ اُس مضمُون کے رنگ ہی کو پلٹ دے اور میرا مالِک دانشِمند ہے جس طرح خُدا کے فرِشتہ میں سمجھ ہوتی ہے کہ دُنیا کی سب باتوں کو جان لے۔
21تب بادشاہ نے یؔوُآب سے کہا دیکھ مَیں نے یہ بات مان لی۔ سو تُو جا اور اُس جون ابؔی سلوم کو پھر لے آ۔
22تب یؔوُآب زمین پر اَوندھا ہو کر گِرا اور سجدہ کیا اور بادشاہ کو مُبارکباد دی اور یؔوُآب کہنے لگا آج تیرے بندہ کو یقین ہُؤا ا۔ے میرے مالِک بادشاہ کہ مجھ پر تیرے کرم کی نظر ہے اِسلئے کہ بادشاہ نے اپنے خادِم کی عرض پُوری کی۔
23پھر یؔوُآب اُٹھا اور حبؔسُور کو گیا اور ابؔی سلوم کو یرؔوشلیم میں لے آیا ۔ تب بادشاہ نے فرمایا وہ اپنے گھر جائے اور میرا مُنہ نہ دیکھے۔ سوابؔی سلوم اپنے گھر گیا اور وہ بادشاہ کا منہ دیکھنے نہ پایا۔
25اور سارے اِسرؔائیل میں کوئی شخص ابؔی سلوم کی طرح اُسکے حُسن کے سبب سے تعریف کے قابل نہ تھا کیونکہ اُسکے پاؤں کے تلوے سے سر کے چاند تک اُس میں کوئی عَیب نہ تھا۔
26اور جب وہ اپنا سر مُنڈواتا تھا۔ (کیونکہ ہر سال کے آخِر میں وہ اپسے مُنڈواتا تھا اِسلئے کہ اُسکے بال گھنے تھے سو وہ اُنکو مُنڈواتا تھا) تو اپنے سر کے بال وزن میں شاہی تول کے مُطابق دو سَو مِثقال کے برابر پاتا تھا۔
27اور ابؔی سلوم سے تین بیٹے پَیدا ہُوئے اور ایک بیٹی جسکا نام تؔمر تھا ۔ وہ بہت خُوبُصورت عَورت تھی۔
28اور ابی سلوم پُورے دو برس یرؔوشلیم میں رہا اور بادشاہ کا مُنہ نہ دیکھا۔
29سو ابؔی سلوم نے یؔوُآب کو بُلوایا تاکہ اُسے بادشاہ کے پاس بھیجے پر اُس نے اُسکے پاس آنے سے انکار کیا اور اُس نے دو بارہ بُلوایا لیکن وہ نہ آیا ۔
30اِسلئے اُس نے اپنے مُلازِموں سے کہا کہ دیکھو یؔوُآب کا کھیت میرے کھیت سے لگا ہے اور اُس میں جِو ہیں سو جا کر اُس میں آگ لاگا دو اور ابؔی سلوم کے مُلازِموں نے اُس کھیت میں آگ لگا دی۔
31تب یؔوُآب اُٹھا اور ابؔی سلوم کے پاس اُسکے گھر جا کر اُس سے کہنے لگا تیرے خادِموں نے میرے کھیت میں آگ کیوں لگاڈی؟۔
32ابؔی سلوم نے یؔوُآب کو جواب دیا کہ دیکھ مَیں نے تجھے کہلا بھیجا کہ یہاں آ تاکہ میں تجھے بادشاہ کے پاس یہ کہنے بھیجوں کہ مَیں حؔبسُور سے کیوں یہاں آیا۔؟ میرے لئے اب تک وہیں رہنا بہتر ہوتا۔ سو اب بادشاہ مجھے اپنا دیدار دے اور اگر مُجھ میں کوئی بدی ہو تو وہ مجھے مار ڈالے ۔
33تب یؔوُآب نے بادشاہ کے پاس جا کر اُسے یہ پَیغام دیا اور جب اُس نے ابؔی سلوم کو بُلوایا تب وہ بادشاہ کے پاس آیا اور بادشاہ کے آگے زمین پر سر نگوُن ہو گیا اور بادشاہ نے ابؔی سلوم کو بوسہ دیا۔