Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
37 verses
1اِسکے بعد اَیسا ہُؤا کہ ابؔی سلوم نے اپنے لئے ایک رتھ اور گھوڑے اور پچاس آدمی تیار کئے جو اُسکے آگے آگے دوَڑیں ۔
2اور ابؔی سلوم سویرے اُٹھ کر پھاٹک کے راستہ کے برابر کھڑا ہو جاتا اور جب کوئی اَیسا آدمی آتا جسکا مُقدمہ فَیصلہ کے لئے بادشاہ کے پاس جانے کو ہواتا تو ابؔی سلوم اُسے بُلا کر پوُچھتا تھا کہ تُو کس شہر کا ہے ؟ اور وہ کہاتا کہ تیرا خادِم اِؔسرائیل کے فُلانے قبیلہ کا ہے۔
3پھر ابؔی سلوم اُس سے کہتا دیکھ تیری باتیں تو ٹھیک اور سَچیّ ہیں لیکن کوئی بادشاہ کی طرف سے مُقرر نہیں ہے جو تیری سُنے ۔
4ابی سلوم یہ بھی کہا کرتا تھاکہ کاش مَیں مُلک کا قاضی بنایا گیا ہوتا تو ہر شخص جِسکا کوئی مُقدمہ یا دعویٰ ہوتا میرے پاس آتا اور مَیں اُسکا اِنصاف کرتا!۔
5اور جب کوئی ابؔی سلوم کے نذدکی آتا تھا کہ اُسے سِجدہ کرے تو وہ ہاتھ بڑھا کر اُسے پکڑ لیتا اور اُسکو بوسہ دیتا تھا۔
6اور ابؔی سلوم سب اِسرائیلیوں سے جو بادشاہ کے پاس فَیصلہ کے لئے آتے تھے اِسی طرح پیش آتا تھا ۔ یُوں ابؔی سلوم نے اؔسرائیل کے لوگوں کے دِل موہ لئے۔
7اور چالیس برس کے بعد یُوں ہُؤا کہ ابؔی سلوم نے بادشاہ سے کہا مجھے ذرا جانے دے کہ مَیں اپنی منّت جو مَیں نے خُداوند کے لئے مانی ہے حؔبرُون میں پُوری کروُں۔
8کیونکہ جب مَیں ارؔام کے حؔبسُور میں تھا تو تیرے خادم نے یہ منت مانی تھی کہ اگر خُداوند مجھے پھر یرؔوشلیم میں سچ مُچ پُہنچا دے تو مَیں خُداوند کی عبادت کرُونگا۔
9بادشاہ نے اُس سے کہا کہ سلامنت جا۔ سو وہ اُٹھا اور حؔبرُون کو گیا۔
10اور ابؔی سلوم نے بنی اِسرائیل کے سب قبیلوں میں جاسُوس بھیج کر منادی کرا دی کہ جَیسے ہی تُم نر سِنگے کی آواز سُنو تو بول اُٹھنا کہ ابؔی سلوم حؔبرُون میں بادشاہ ہوگیا ہے ۔
11اور ابؔی سلوم کے ساتھ یرؔوشلیم سے دو سَو آدمی جنکو دعوت دی گئی تھی گئے تھے۔ وہ سادہ دِلی سے گئے تھے اور اُنکو کِسی بات کی خبر نہیں تھی۔
12اور ابؔی سلوم نے قُربانیاں گُذرانتے وقت جِلوئی اِخیتفؔل کو جو داؔؤد کا مُشِیر تھا اُسکے شہر جلؔوہ سے بُلوایا ۔ یہ بڑی بھاری سازش تھی اور ابؔی سلوم کے پاس لوگ برابر بڑھتے ہی جاتے تھے۔
13اور ایک قاصِد نے آکر داؔؤد کو خبر دی کہ بنی اِسرائیل کے دِل ابؔی سلوم کی طرف ہیں ۔
14اور داؔؤد نے اپنے سب مُلازموں سے جو یرؔوشلیم میں اُسکے ساتھ تھے کہا اُٹھو بھاگ چلیں ۔ نہیں تو ہم میں سے ایک بھی ابؔی سلوم سے نہیں بچیگا۔ چلنے کی جلدی کرو نہ ہو کہ وہ ہم کو جھٹ آ لے اور ہم پر آفت لائے اور شہر کو تہِ تیغ کرے۔
15بادشاہ کے خادِموں نے بادشاہ سے کہا دیکھ تیرے خادِم جو کچھ ہمارا مالِک بادشاہ چاہے اُسے کرنے کو تیار ہیں ۔
16تب بادشاہ نِکلا اور اُسکا سارا گھرانا اُسکے پیچھے چلا اور بادشاہ نے دس عوَرتیں جو حرمیں تھیں گھر کی نگہبانی کے لئے پیچھے چھوڑ دِیں ۔
17اور بادشاہ نِکلا اور سب لوگ اُسکے پیچھے چلے اور وہ بَیت مِرحاؔق میں ٹھہر غئے ۔
18اور اُسکے سب خادِم اُسکے برابر سے ہوتے ہُوئے آگے گئے اور سب کریتی اور سب فلیتی اور سب جاتی یعنی وہ چھ سَو آدمی جو جاؔت سے اُسکے ساتھ اُسکے ساتھ آئے تھے بادشاہ کے سامنے آگے چلے۔
19تب بادشاہ نے جاتی اِتیؔ سے کہا تُو ہمارے ساتھ کیوں چلتا ہے؟ تُو لَوٹ جا اور بادشاہ کے ساتھ رہ کیونکہ تُو پردیسی اور جلا وطن بھی ہے ۔ سو اپنی جگہ کو لَوٹ جا ۔
20تُو کل ہی تو آیا ہے سو کیا آج مَیں تجھے اپنے ساتھ اِدھر اُدھر پھر اؤُن جِس حال کہ مجھے جدھر جا سکاتا ہوُں جانا ہے؟ سو لوٹ جا اور اپنے بھائیوں کو ساتھ لیتا جا۔ ۔ رحمت اور سّچائی تیرے ساتھ ہوں ۔
21تب اِتؔی نے بادشاہ کی جان کی قسم جہاں کہٰن میرا مالک بادشاہ خواہ مرتے خواہ جیتے ہوگا وہیں ضُرور تیرا خادِم بھی ہوگا ۔
22سو داؔؤد نے اِتیؔ سے کہا چل پار جا اور جاتی اِتؔی اور اُسکے سب لوگ اور سب ننھے بچے جو اُسکے ساتھ تھے پار گئے۔
23اور سارا مُلک بلند آواز سے رویا اور سب لوگ پار ہوگئے اور بادشاہ خُد نہرِ قدِرؔون کے پار ہُؤا اور سب لوگوں نے پارہو کر دشت کی رہ لی۔
24اور صؔدوق بھی اور اُسکے ساتھ سب لاوی خُدا کے عہد کا صندُوق لئے ہُوئے آئے اور اُنہوں نے خُدا کے صندُوق کو رکھ دیا اور ابؔیاتر اُوپر چڑھ گیا اور جب تک سب لوگ شہر سے نِکل نہ آئے وہیں رہا۔
25تب بادشاہ نے صندُوق سے کہا کہ خُدا کا صندوُق شہر کو واپس لے جا۔ پس اگر خُداوند کے کرم کی نظر مجھ پر ہوگی تو وہ مجھے پھر لے آئیگا اور اُسے اور اپنے مسکن کو مجھے پھر دِکھائیگا۔
26پر اگر وہ یُوں فرمائے کہ مَیں تجھ سے خُوش نہیں تو دیکھ مَیں حاضر ہوں جو کچھ اُسکو بھلا معلوم ہو میرے ساتھ کرے۔
27اور بادشاہ نے صؔدوُق کاہن سے یہ بھی کہا کیا تُو غَیب بین نہیں ؟ شہر کو سلامت لَوٹ جا اور تُمہارے ساتھ تمُہارے دونوں بیٹے ہوں اخیمؔعض جو تیرا بیٹا ہے اور یُونؔتن جو ابؔیاتر کا بیٹا ہے۔
28اور دیکھ مَیں اُس دشت کے گھاٹوں کے پاس ٹھہرا رہُونگا جب تک تُمہارے پاس سے مجھے حقیقت حال کی خبر نہ مِلے۔
29سو صدؔوُق اور ابؔیاتر خُدا کا صنُدوق یرؔوشلیم کو واپس لے گئے اور وہیں رہے۔
30اور داؔؤد کوہِ زَتیون کی چڑھائی پر چڑھنے لگا اور روتا جا رہا تھا ۔ اُسکا سر ڈھکا تھا اور وہ ننگے پاؤں چل رہا تھا اور وہ سب لوگ جو اُسکے ساتھ تھے اُن میں سے ہر ایک نے اپنا سر ڈھانک رکھا تھا۔ وہ اوپر چڑھتے اور روتے جاتے تھے۔
31اور کِسی نے داؔؤد کو بتایا کہ اخؔیقفل بھی مُفِسدوں میں شامِل اور ابؔی سلوم کے ساتھ ہے ۔ تب داؔؤد نے کہا اَے خُداوند ! مَیں تجھ سے مِنت کرتا ہوُں کہ اخیقُفل کی صلاح کو بیو قوفی سے بدل دے ۔
32جب داؔؤد پر چوٹی پر پُہنچا جہاں خُدا کو سجدہ کا کرتے تھے توار کی حُسؔی اپنی قبا پھاڑے اور سر پر خاک ڈالے اُسکے اِستقبال کو آیا ۔
33اور داؔؤد نے اُس سے کہا اگر تُو میرے ساتھ جائے تو مجھ پر بار ہوگا۔
34پر اگر تو شہر کو لَوٹ جائے اور ابی سلوم سے کہے کہ اَے بادشاہ میں تیرا خادِم ہُونگا جیسے گُذرے زمانہ میں تیرے باپ کا خادِم رہا وَیسے ہی اب تیرا خادِم ہُوں تو تُو میری خاطرِ اِخیتفؔل کی مشورت کو باطِل کر دیگا۔
35اور کیا وہاں تیرے ساتھ صؔدُوق اور ابؔیاتر کاہنوں کو بتا دینا۔
36دیکھ وہاں اُنکے ساتھ اُنکے ساتھ اُنکے دونوں بیٹے ہیں یعنی صدؔوق کا بیٹا اخیمعض اور ابؔیاتر کا بیٹا یُونتؔن سو جو کچھ تپم سُنو اُسے اُنکی معرفت مجھے کہلا بھیجنا ۔
37سو داؔؤد کا دوست حُوسؔی شہر میں آیا اور ابؔی سلوم بھی یرؔوشلیم میں پُہنچ گیا۔