Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
33 verses
1اور داؔؤد نے اُن لوگوں کو جو اُسکے اساتھ تھے گِنا اور ہزاروں کے اور سَیکڑوں کے سردار مُقرر کئے۔
2اور داؔؤد نے لوگوں کی ایک تِہائی یُوآؔب کے ماتحت اور ایک تہائی یُوآؔب کے بھائی ابیؔشے بن ضروؔیاہ کے ماتحت اور ایک تِہائی جاتی اِتؔی کے ماتحت کرکے اُنکو روانہ کیا اور بادشاہ نے لوگوں سے کہا کہ میں خُود بھی ضرور تمہارے ساتھ چلوُنگا ۔
3پر لوگوں نے کہا کہ تو نہیں جانے پائیگا کیونکہ ہم اگر بھاگیں تو اُنکو کچھ ہماری پروانہ ہوگی اور اگر ہم میں سے آدھے مارے جائیں تو بھی اُنکو کچھ پروا نہ ہوگی پر تُو ہم جَیسے دس ہزار کے برابر ہے ۔ سو بہتر یہ ہے کہ تُو شہر میں سے ہماری مدد کرنے کو تیار رہے۔
4بادشاہ نے اُن سے کہا جو تُم کو بہتر معلوم ہو تا ہے میں وہی کرُونگا۔ سو بادشاہ شہر کے پھاٹک کی ایک طرف کھڑا رہا اور سب لوگ سَو سو اور ہزار ہزار کرکے نِکلنے لگے ۔
5اور بادشاہ نے یُوآؔب اور ابیشےؔ اور اِتؔی کو فرمایا کہ میری خاطر اُس جوان ابؔی سلوم کے ساتھ نرمی سے پیش آنا۔ جب بادشاہ نے سب سرداروں کو ابؔی سلوم کے حق میں تاکید کی تو سب لوگوں نے سُنا۔
6سو وہ لوگ نِکل کر مَیدان میں اِسراؔئیل کے مُقابلہ کو گئے اور لڑائی افرؔائیم کے بن میں ہُوئی۔
7اور وہاں اِسرؔائیل کے لوگوں نے داؔؤد کے خادِموں سے شکِکست کھائی اور اُس دِن اَیسی بڑی خُونریزی ہُوئی کہ بیس ہزار آدمی کھت آئے۔
8اِسلئے کہ اُس دِن ساری مملکت میں جنگ تھی اور لوگ اِتنے تلوار کا لُقمہ نیں بنے جتنے اُس بن کا شِکار ہُوئے۔
9اور اِتفاقاً ابؔی سلوم اپنے خچر پر سوار تھا اور وہ خچر ایک بڑے بلوط کے درخت کی گھنی ڈالیوں کے نیچے سے گیا ۔ سو اُسکا سر بلوُط میں اٹک گیا اور وہ آسمان اور زمین کے بیچ میں لٹکا رہ گیا اور وہ خچر جو اُسکے ران تلے تھا نکل گیا۔
10کسی شخص نے یہ دیکھا اور یوُآؔب کو خبر دی کہ میں نے ابؔی سلوم کو بلوط کے درخت میں لٹکا ہُؤا دیکھا۔
11اور یُوآؔب نے اُس شخص سے جس نے اُسے خبر دی تھی کہا تُو نے یہ دیکھا پھر کیون نہیں تو نے اُسے مار کر وہیں زمین پر گِرا دیا؟ کیونکہ میں تجھے چاندی کے دس ٹکڑے اور یاک کمر بند دیتا۔
12اُس شخص نے یُوآؔب سے کہا کہ اگر مجھے چاندی کے ہزار ٹکڑے بھی میرے ہاتھ میں مِلتے تو بھی مَیں بادشاہ کے بیٹے پر ہاتھ نہ اُٹھاتا کیونکہ بادشاہ نے ہامرے سُنتے تجھے اور ابیشؔے اور اِتؔی کو تاکید کی تھی کہ خبردار کوئی اُس جوان ابؔی سلوم کو نہ چھُوئے ۔
13ورنہ اگر مَیں اُسکی جان کے ساتھ دغا کھیلتا اور بادشاہ سے تو کئی بات پوشیدہ بھی نہیں تو تُو خُود بھی کنارہ کش ہو جاتا۔
14تب یُوآؔب نے کہا میں تیرے ساتھ یُوں ہی ٹھہرا نہیں رہ سکتا ۔ سو اُس نے تین تِیر ہاتھ میں لئے اور اُن سے ابؔی سلوم کے دِل کو جب وہ ہنوز بلوط کے درخت کے بیچ زِندہ ہی تھا چھید ڈالا ۔
15اور دس جوانوں نے جو یُوآؔب کے سلح برادر تھے ابؔی سلوم کو گھیر کر اُسے مارا اور قتل کر دیا۔
16تب یُوآؔب نے نرسِنگا پھُونگا اور لوگ اِسرائیلیوں کا پیچھاکرنے سے لوٹے کیونکہ یُوآؔب نے لوگوں کو روک لیا ۔
17اور اُنہوں نے ابؔی سلوم کو لیکر بن کے اُس بڑے گڑھے میں ڈالدیا اور اُس پر پتھروں کا یک بہت بڑا دھیر لگا دیا اور سب اِسرائیلی اپنے اپنے ڈیرے کو بھاگ گئے۔
18اور ابؔی سلوم نے اپنے جیتے جی ایک لاٹ لیکر کھڑی کرائی تھی جو شاہی وادی میں ہے کیونکہ اُس نے کہا م��رے کوئی بیٹا نہیں جس سے میرے نام کی یادگار رہے ۔ سو اُس نے اُس لاٹ کو اپنا نام دِیا اور وہ آج تک ابؔی سلوم کی یاد گار کہلاتی ہے۔
19تب صؔدُوق کے بیٹے اخیمِعؔض نے کہا کہ مجھے دَوڑ کر بادشاہ کو خبر پُہنچانے دے کہ خُداوند نے اُسے دُشمنوں سے اُسکا اِنتقام لیا۔
20لیکن یُوآؔب نے اُس سے کہا کہ آج کے دِن تو کوئی خبر نہ پُہنچا بلکہ دُوسرے دِن خبر پُہنچا دینا پر آج رجھے کوئی خبر نہیں لے جانا ہوگا اِسلئے کہ بادشاہ کا بیٹا مر گیا ہے۔
21تب یُوآؔب نے کوُشی سے کہا کہ جا کر جو کچھ تو نے دیکھا ہے سو بادشاہ کو بتا دے ۔ سو وہ کُوشی یُوآؔب کو سجدہ کرکے دَوڑ گیا۔
22تب صؔدُوق کے بیٹے اِخیمعؔض نے پھر یُوآؔب سے کہا کواہ کچھ ہی ہو تو مجھے بھی اُس کوشی کے پیچھے دَوڑ جانے دے۔ یُوآؔب نے کہا اَے میرے بیٹے تُو کیوں دَوڑ جانا چاہتا ہے جس حال کہ اِس خبر کے عِوض تجھے کوئی انعام نہیں ملیگا؟۔
23اُس نے کہا خواہ کچھ ہی ہو میں تو جاؤنگا۔ اُس نے کہا دَوڑ جا۔ تب اِخیمعؔض میدان سے ہو کر دَوڑ گیا اور کوُشی سے آگے بڑھ گیا۔
24اور داؔؤد دونوں پھاٹکوں کے درمیان بیٹھا تھا اور پہرے والا پھاٹک کی چھت سے ہو کر فصیل پر گیا اور کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص اکیلا دوُڑا آتا ہے ۔
25اُس پہرے والے نے پُکار کر بادشاہ کو خبر دی۔ بادشاہ نے فرمایا اگر وہ اکیلا ہے تو مُنہ زبانی خبر لاتا ہوگا اور وہ تیز آیا اور نزدیک پہنچا۔
26اور پہرے والے نے ایک اَور آدمی کو دیکھا کہ دَوڑا آتا ہے۔ تب اُس پہرے والے نے دربان کو پُکار کر کہا کہ دیکھ ایک شخص اور اکیلا دُوڑا آتا ہے ۔ بادشاہ نے کہا وہ بھی خبر لاتا ہوگا۔
27اور پرہے والے نے کہا کہ مجھے اگلے کا دَوڑنا صؔدوُق کے بیٹے اخیمعؔض کے دَوڑنے کی طرح معلوم دیتا ہے ۔ تب بادشاہ نے کہا وہ بھلا آدمی ہے اور چھّی خبر لاتا ہوگا۔
28اور اِخیمعؔض نے پُکار کر بادشاہ سے کہا خَیر ہے اور بادشاہ کے آگے زمین پر سر نگون ہو کر سجدہ کیا اور کہا کہ خُداوند تیرا خُدا مُبارک ہو جس نے اُن آدمیوں کو جنہوں نے میرے مالک بادشاہ کے خِلاف ہاتھ اُٹھائے تھے قابوُ میں کر دیا ہے۔
29بادشاہ نے پُوچھا کیا وہ جوان ابؔی سلوم سلامت ہے؟ اِخیمعؔض نے کہا کہ جب یُوآؔب نے بادشاہ کے خادِم کو یعنی مجھ کو جو تیرا خادِم ہوں روانہ کیا تو مَیں نے ایک بڑی ہلچل تو ددیکھی پر میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھی۔
30تب بادشاہ نے کہا ایک طرف ہو جا اور یہیں کھڑا رہ ۔ سو وہ ایک طرف ہو کر چُپ چاپ کھڑا ہوگیا۔
31پھر وہ کُوشی آیا اور کُوشی نے کہا میرے مالِک بادشاہ کے لئے خبر ہے کیونکہ خُداوند نے آج کےدن اُن سب سے جو تیرے خِلاف اُٹھے تھے تیرا بدلہ لیا۔
32تب بادشاہ نے کُوشی سے پُوچھا کیا وہ جوان ابؔی سلوم سلامت ہے؟ کوشی نے جواب دیا کہ میرے مالک بادشاہ کے دُشمن اور جتنے تجھے ضرر پُہنچانے کو تیرے خِلاف اُٹھیں وہ اُسی جوان کی طرح ہو جائیں ۔
33تب بادشاہ بہت بے چین ہو گیا اور اُس کو کوٹھری کی طرف جو پھاٹک کے اُوپر تھی روتا ہوا چلا اور چلتے چلتے یُوں کہاتا جاتا تھا ہائے میرے بیٹے ابؔی سلوم! میرے بیٹے! میرے بیٹے ابؔی سلوم! کاش میرے تیرے بدلے مر جاتا ! اَے ابؔی سلوم! میرے بیٹے! میرے بیٹے۔