Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
43 verses
1اور یُوآؔب کو بتایا گیا کہ دیکھ بادشاہ ابؔی سلوم کے لئے نوحہ اور ماتم کر رہا ہے ۔
2سو تمام لوگوں کے لئے اُس دِن کی فتح ماتم سے بدل گئی کیونکہ لوگوں نے اُس دِن یہ کہتے سُنا کہ بادشاہ اپنے بیٹے کے لئے دلگیر ہے ۔
3سو وہ لوگ اُس دِن چوری سے شہر میں گھُسے جَیسے وہ لوگ جو لڑائی سے بھاگتے ہیں شرم کے مارے چوری چوری چلتے ہیں ۔
4اور بادشاہ نے اپنا مُنہ ڈھانک لیا اور بادشاہ بلند آواز سے چلانے لگا کہ ہائے میرے بیٹے ابؔی سلوم! ہائے ابؔی سلوم میرے بیٹے ! میرے بیٹے ! ۔
5تب یُوآؔب گھر میں بادشاہ کے پاس جا کر کہنے لگا کہ تُو نے آج اپنے سب خادِموں کو شرمسار کیا جنہوں نے آج کے دِن تیری جان اور تیرے بیٹوں اور تیری بیٹیوں کی جانیں اور تیری بیویوں کی جانیں اور تیری حرموں کی جانیں بچائیں۔
6کیونکہ تُو اپنے دعاوت رکھنے والوں کو پیار کرتا ہے اور اپنے دوستوں سے عداوت رکھتا ہے اِسلئے کہ تُو نے آج کے دن ظاہر کر دیا کہ سردار اور خادِم تیرے نزدیک بے قدر ہیں کیونکہ آج کے دِن میں دیکھتا ہوں کہ اگر ابؔی سلوم جیتا رہتا اور ہم سب مر جاتے تو تُو بہت خُوش ہوتا۔
7سو اب اُٹھ باہر نِکل اور اپنے خادِموں سے تسلی بخش باتیں کر کیونکہ مَیں خُداوند کی قسم کھاتا ہوں کہ اگر تُوباہر نہ جائے تو آج رات کو ایک آدمی بھی تیرے ساتھ نہیں رہیگا اور یہ تیرے لئے اُ ن سب آفتیوں سے بدتر ہوگا جو تیری نَوجوانی سے لیکر اب تک تجھ پر آئی ہیں ۔
8سو بادشاہ اُٹھ کر پھاٹک میں جا بَیتھا اور سب لوگوں کو بتایا گیا کہ دیکھو بادشاہ پھاٹک میں بَیٹھا ہے۔ تب سب لوگ بادشاہ کے سامنے آئے اور اِسرائیلی اپنے اپنے ڈیرے کو بھاگ گئے تھے۔
9اور اِسرائیل کے قبیلوں کے سب لوگوں میں جھگڑا تھا اور وہ کہتے تھے کہ بادشاہ نے ہمارے دُشمنوں کے ہاتھ سے اور فلِستیوں کے ہاتھ سے ہم کو بچایا اور اب وہ ابؔی سلوم کے سامنے سے مُلک چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔
10اور ابؔی سلوم جسے ہم نے مسح کرکے اپنا حاکم بنایا تھا لڑائی میں مر گیا ہے ۔ سو تُم اب بادشاہ کو واپس لانے کی بات کیون نہیں کرتے؟۔
11تب داؔؤد بادشاہ نے صؔدُوق اور ابؔیاتر کاہنوں کو کہا بھیجا کہ یہؔوُداہ کے بُزرُگوں سے کہو کہ تُم بادشاہ کو اپسکے محلّ میں پہنچانے کے لئے سب سے پیچھے کیوں ہوتے ہو جس حال کہ سارے اِسراؔئیل کی بات اُسے اُسکے محلّ میں پہنچانے کے لئے سب سے پیچھے کیوں ہوتے ہو جس حال کہ سارے اِسؔرائیل کی بات اُسے اُسکے محل میں پُہنچانے کے بارہ میں بادشاہ تک پہنچی ہے ؟۔
12تُم تو میرے بھائی اور میری ہڈی اور گوشت ہو پھر تُم بادشاہ کو واپس لے جانے کے لئے سب سے پیچھے کیوں ہو؟۔
13عماؔسا سے کہنا کیا تُو میری ہڈی اور گوشت نہیں؟ سو اگر تُو یُوآؔب کی جگہ میرے حُضُور ہمیشہ کے لؑے لشکر کا سردار نہ ہو تو خُدا مجھ سے اَیسا ہی بلکہ اِس سے بھی زیادہ کرے۔
14اور اُس نے سب بنی یہؔوُداہ کا دِل ایک آدمی کے دِل کی طرح مائل کر لیا چُنانچہ اُنہوں نے بادشاہ کو پیغام بھیجا کہ تُو اپنے سب خادِموں کو ساتھ لیکر لَوٹ آ۔
15سو بادشاہ لَوٹ کر یرؔدن پر آیا اور سب بنی یہؔوُداہ جلجال کو گئے کہ بادشاہ کا اِستقبال کریں اور اُسے یرؔدن کے پار لے آئیں ۔
16اور جیرؔا کے بیٹے بنیمینی سمؔعیِ نے جو نحوُریؔم کا تھا جلدی کی اور بنی یُوداہ کے ساتھ داؔؤد بادشاہ کے اِستقبال کو آیا ۔
17اور اُسکے ساتھ ایک ہزار بنیمینی جوان تھے اور ساؔؤل کے گھرانے ک�� خادِم ضِیؔبا اپنے پندرہ بیٹوں اور بیس نوکروں سمیت آیا اور وہ بادشاہ کے سامنے یرؔدن کے پار اُترے ۔
18اور ایک کشتی پار گئی کہ بادشاہ کے گھرانے کو لے آئے اور جو کام اُسے مناسب معلوم ہو اُسے کرے اور جیراؔ کا بیٹا سمِؔعی بادشاہ کے سامنے جیسے ہی وہ یردؔن پار ہُؤا اوندھا ہو کر گِرا۔
19اور بادشاہ سے کہنے لگا کہ میرا مالک میری طرف گُناہ منسُوب نہ کرے اور جس دِن میرا مالک بادشاہ یرؔوشلیم سے نکلا اُس دِن جو کچھ تیرے خادم نے بدمزاجی سے کیا اُسے اَیسا یاد نہ رکھ کہ بادشاہ اُسکو اپنے دِل میں رکھے۔
20کیونکہ تیرا بندہ یہ جانتا ہے کہ میں نے گُنا کیا ہے اور دیکھ آج کے دن میں ہی یُوسُؔف کے گھرانے میں سے پہلے آیا ہُوں کہ اپنے مالک بادشاہ کا اِستقبال کرُوں۔
21اور ضؔرویاہ کے بیٹے ابیشؔے نے جواب دیا کیا سمِؔعی اِس سبب سے مارا نہ جائے کہ اُس نے خُداوند کے ممسُوح پر لعنت کی؟۔
22داؔؤد نے کہا اَے ضؔرویاہ کے بیٹو! مجھے تُم سے کیا کام کہ تُم آج کے دن میرے مُخالف ہُوئے ہو؟ کیا اِؔسرائیل میں سے کوئی آدمی آج کے دِن قتل کیا جائے؟ کیا مَیں یہ نہیں جانتا کہ مَیں آج کے دِن اِسؔرائیل کا بادشاہ ہوُں؟۔
23اور بادشاہ نے سمِؔعی سے کہا تُو مارا نہیں جائیگا اور بادشاہ نے اُس سے قسم کھائی۔
24پھر ساؔؤل کا بیٹا مفؔیبوست بادشاہ کے اِستقبال کو آیا۔ اُس نے بادشاہ کے چلے جانے کےدِن سے لیکر اُسکے سلامت گھر آ جانے کے دِن تک نہ تو اپنے پاؤں پر پٹیاں باندھین اور نہ اپنی داڑھی کتروائی اور نہ اپنے کپڑے دُھلوائے تھے۔
25اور اَیسا ہوا کہ جب وہ یرؔوشلیم میں بادشاہ سے ملنے آیا تو بادشاہ نے اُس سے کہا اَے مفِیؔبوست تو میرے ساتھ کیون نہیں گیا تھا؟۔
26اُس نے جواب دِیا اَے میرے مالِک بادشاہ میرے نَوکر نے مجھ سے دغا کی کیونکہ تیرے خادِم نے کہا تھا کہ مَیں اپنے لئے گدھے پر زین کسوُنگا تا کہ میں سوارہو کر بادشاہ کے ساتھ جاؤُں اِسلئے تیرا خادِم لنگڑا ہے۔
27سو اُس نے میرے مالک بادشاہ کے حُضوُر تیرے خادِم پر بُہتان لگایا پر میرا مالک بادشاہ تو خُدا کے فرزتہ کی مانند ہے سو جو کچھ تجھے اچّھا معلوم ہو سو کر ۔
28کیونکہ میرے باپ کا سارا گھرانا میرے مالِک بادشاہ کے آگے مُردوں کی مانند تھا تَو بھی تُو نے اپنے خادِم کو اُن لوگوں کے بیچ بیٹھایا جو تیرے دستر خوان پر کھاتے تھے۔ پس کیا اب بھی میرا کوئی حق ہے کہ مَیں بادشاہ کے آگے پھر فریاد کرُوں ؟۔
29بادشاہ نے اُس سے کہا تُو اپنی باتیں کیوں بیان کرتا جاتا ہے؟ مَیں کہتا ہوُں کہ تُو اور ضِیؔبا دونوں آپس میں اُس زمین کو بانٹ لو۔
30اور مفِؔیبوست نے بادشاہ سے کہا وُہی سب لے لے اِسلئے کہ میرا مالک بادشاہ اپنے گھر میں پھر سلامت آگیا ہے۔
31اور یؔرزِلی جلعادی راؔجلیم سے آیا اور بادشاہ کے ساتھ یرؔدن پار گیا تا کہ اُسے یرؔدن کے پار پُہنچائے۔ ۰
32اور یہ برزؔلیّ نہایت عمر رسیدہ آدمی یعنی اسؔی برس کا تھا اُس نے بادشاہ کو جت تک وہ محناؔیم میں رہا رسد پہنچائی تھی اِسلئے کہ وہ بہت بڑا آدمی تھا۔
33سو باداشاہ نے برؔزلیّ سے کہا کہ تُو میرے ساتھ پار چل اور میں یرؔوشلیم میں اپنے ساتھ تیری پرورش کرُونگا ۔
34اور برؔزلی ّ نے بادشاہ کو جواب دیا کہ میری زندگی کے دِن ہی کتنے ہیں جو میں بادشاہ کے ساتھ یرؔوشلیم کو جاؤں؟۔
35آج مَیں اِسّی برس کا ہُوں ۔ کیا مَیں بھلے اور بُرے میں اِمتیاز کر سکتا ہُوں ۔ کیا تیرا بندہ جو کچھ کھاتا پیتا ہے اُسکا مزہ جان سکتا ہے؟ کیا مہں گانے والوں اور گانے والیوں کی آواز پھر سُن سکتا ہُوں ؟ پس تیرا بندہ اپنے مالک بادشاہ پر کیوں بار ہو؟۔
36تیرا بندہ فقط یرؔدن کے پار تک بادشاہ کے ساتھ جانا چاہتا ہے ۔ سو بادشاہ مجھے اَیسا بڑا اجر کیوں دے؟۔
37اپنے بندہ کو لَوٹ جانے دے تاکہ میں اپنے شہر میں اپنے باپ اور ماں کی قبر کے پاس مرُوں پر دیکھ تیرا بندہ کمِؔہام حاضر ہے۔ وہ میرے مالکِ بادشاہ کے ساتھ پار جائے جو کچھ تجھے بھلا معلوم دے اُس سے کر۔
38تب بادشاہ نے کہا کمہاؔم میرے ساتھ پر چلیگا اور جو کچھ تجھے بھلا معلوم ہو وُہی مَیں اُسکے ساتھ کرُونگا اور جو چکھ تُو چاہیگا مَیں تیرے لئے وہی کرُونگا۔
39اور سب لوگ یرؔدن کے پار ہوگئے اور بادشاہ بھی پار ہُؤا ۔ پھر بادشاہ نے برؔزِلیّ کو چُوما اور اُسے دُعا دی اور وہ اپنی جگہ کو لَوٹ گیا۔
40سو بادشاہ جلؔجال کو روانہ ہُؤا اور کمہاؔم اُسکے ساتھ چلا اور یہؔوُداہ کے سب لوگ اور اسراؔئیل کے لوگوں سے بھی آدھے بادشاہ کو پار لائے۔
41تب اسرؔائیل کے سب لوگ بادشاہ کے پاس آکر اُس سے کہنے لگے کہ ہمارے بھائی بنی یہُوداہ تجھے کیوں چوری سے لے آئے اور بادشاہ کو اور اُسکے گھرانے کو اور داؔؤد کے ساتھ جتنے تھے اُکو یرؔدن کے پار سے لائے؟۔
42تب سب بنی یہُوداہ نے بنی اِسرائیل کو جواب دیا اِسلئے کہ بادشاہ کا ہمارے ساتھ نزدیک کا رشتہ ہے۔ سو تُم اِس بات کے سبب سے ناراض کیوں ہوئے؟ کیا ہم نے بادشاہ کے دام کا کچھ کھا لیا ہے یا اُس سنے ہم کو کچھ انعام دیا ہے۔؟۔
43پھر بنی اِسرائیل نے بنی یہُوداہ کو جواب دیا کہ بادشاہ میں ہمارے دس حصّے ہیں اور ہمارا حق بھی داؔؤد پر تُم سے زیداہ ہے پس تُم نے کیون ہماری حقارت کی کہ بادشاہ کو لَوٹا لانے میں پہلے ہم سے صلاح نہیں لی؟ اور بنی یہُودہ کی باتیں بنی اِسرائیل کی باتوں سے زیادہ سخت تھیں۔