Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
48 verses
1قَیصریہ میں کُرنِیلیُس نام ایک شَخص تھا۔ وہ اُس پلٹن کا صُوبہ دار تھا جو اطالِیانی کہلاتی ہے۔
2وہ دِیندار تھا اور اپنے سارے گھرانے سمیت خُدا سے ڈرتا تھا اور یہُودِیوں کو بہُت خَیرات دیتا اور ہر وقت خُدا سے دُعا کرتا تھا۔
3اُس نے تِیسرے پہر کے قرِیب رویا میں صاف صاف دیکھا کہ خُدا کا فرِشتہ میرے پاس آ کر کہتا ہے کُرنِیلیُس۔
4اُس نے اُس کو غَور سے دیکھا اور ڈر کر کہا خُداوند کیا ہے؟ اُس نے اُس سے کہا تیری دُعائیں اور تیری خَیرات یادگاری کے لِئے خُدا کے حضُور پُہنچِیں۔
5اب یافا میں آدمِی بھیج کر شمعُون کو جو پطرس کہلاتا ہے بُلوالے۔
6وہ شمعُون دباغ کے ہاں مہمان ہے جِس کا گھر سُمندر کے کِنارے ہے۔
7اور جب وہ فِرشتہ چلا گیا جِس نے اُس سے باتیں کی تھِیں تو اُس نے دو نَوکروں کو اُن میں سے جو اُس کے پاس حاضِر رہا کرتے تھے ایک دِیندار سِپاہی کو بُلایا۔
8اور سب باتیں اُن سے بیان کر کے اُنہِیں یافا میں بھیجا۔
9دُوسرے دِن جب وہ راہ میں تھے اور شہر کے نزدِیک پُہنچے تو پطرس دوپہر کے قرِیب کوٹھے پر دُعا کرنے کو چڑھا۔
10اور اُسے بُھوک لگی اور کُچھ کھانا چاہتا تھا لیکِن جب لوگ تیّار کررہے تھے تو اُس پر بیخُودی چھاگئی۔
11اور اُس نے دیکھا کہ آسمان کھُل گیا اور ایک چِیز بڑی چادر کی ماننِد چاروں کونوں سے لٹکتی ہُوئی زمِین کی طرف اُتر رہی ہے۔
12جِس میں زمِین کے سب قِسم کے چَوپائے اور کِیڑے مکوڑے اور ہوا کے پرِندے ہیں۔
13اور اُسے ایک آواز آئی کہ اَے پطرس اُٹھ! ذبح کر اور کھا۔
14مگر پطرس نے کہا اَے خُداوند! ہرگِز نہِیں کِیُونکہ مَیں نے کبھی کوئی حرام یا ناپاک چِیز نہِیں کھائی۔
15پھِر دُوسری بار اُسے آواز آئی کہ جِن کو خُدا نے پاک ٹھہرایا ہے تُو اُنہِیں حرام نہ کہہ۔
16تین بار اَیسا ہی ہُؤا اور فِیاِلفَور وہ چِیز آسمان پر اُٹھالی گئی۔
17جب پطرس اپنے دِل میں حیَران ہورہا تھا کہ یہ رویا جو مَیں نے دیکھی کیا ہے تو دیکھو وہ آدمِی جِنہِیں کُرنیلِیُس نے بھیجا تھا شمعُون کا گھر دریافت کر کے دروازہ پر آکھڑے ہُوئے۔
18اور پُکار کر پُوچھنے لگے کہ شمعُون جو پطرس کہلاتا ہے یہیں مہِمان ہے؟
19جب پطرس اُس رویا کو سوچ رہا تھا تو رُوح نے اُس سے کہا کہ تین آدمِی تُجھے پُوچھ رہے ہیں۔
20پَس اُٹھ کر نیچِےجا اور بے کھٹکے اُن کے ساتھ ہولے کِیُونکہ مَیں نے ہی اُن کو بھیجا ہے۔
21پطرس نے اُتر کر اُن آدمِیوں سے کہا دیکھو جِس کو تُم پُوچھتے ہو وہ مَیں ہی ہُوں۔ تُم کِس سبب سے آئے ہو۔
22اُنہوں نے کہا کُرنِیلیُس صُوبہ دار جو راستباز اور خُدا ترس آدمِی اور یہُودِیوں کی ساری قَوم میں نیک نام ہے اُس نے پاک فِرشتہ سے ہدایت پائی کہ تُجھے اپنے گھر بُلاکر تُجھ سے کلام سُنے۔
23پَس اُس نے اُنہِیں اَندر بُلاکر اُن کی مہمانی کی۔ اور دُوسرے دِن وہ اُٹھ کر اُن کے ساتھ روانہ ہُؤا اور یافا میں سے بعض بھائِی اُس کے ساتھ ہولئِے۔
24وہ دُوسرے روز قَیصر یہ میں داخِل ہُوئے اور کُرنِیلیُس اپنے رِشتہ داروں اور دِلی دوستوں کو جمع کر کے اُن کی راہ دیکھ رہا تھا۔
25جب پطرس اَندر آنے لگا تو اَیسا ہُؤا کہ کُرنِیلیُس نے اُس کا اِستقبال کِیا اور اُس کے قدموں میں گِر کر سِجدہ کِیا۔
26لیکِن پطرس نے اُسے اُٹھا کر کہا کہ کھڑا ہو۔ مَیں بھی تو اِنسان ہُوں۔
27اور اُس سے باتیں کرتا ہُؤا اَندر گیا اور بہُت سے لوگوں کو اِکٹھا پاکر۔
28اُن سے کہا کے تُم جانتے ہوکہ یہُودی کو غَیر قَوم والے سے صُحبت رکھنا یا اُس کے ہاں جانا ناجائِز ہے مگر خُدا نے مُجھ پر ظاہِر کِیا کہ مَیں کِسی آدمِی کو بخس یا ناپاک نہ کہُوں۔
29اِسی لِئے جب مَیں بُلایا گیا تو بے عُزر چلاآیا ۔ پَس اَب مَیں پُوچھتا ہُوں کہ مُجھے کِس بات کے لِئے بُلایا ہے؟۔
30کرُنیِلیُس نے کہا اِس وقت پُورے چار روز ہُوئے کہ مَیں اپنے گھر میں تیِسرے پہر کی دُعا کر رہا تھا اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک شَخص چمکدار پوشاک پہنے ہُوئے میرے سامنے کھڑا ہُؤا۔
31اور کہا کہ اَے کرُنیلیُس تیری دُعا سُن گئی اور تیری خَیرات کی خُدا کے حضُور یاد ہُوئی۔
32پَس کِسی کو یافا میں بھیج کر شمعُون کو جو پطرس کہلاتا ہے اپنے پاس بُلا ۔ وہ سَمَندَر کے کِنارے شمعُون دبّاغ کے گھر میں مِہمان ہے۔
33پَس اُسی دم مَیں نے تیرے پاس آدمِی بھیجے اور تُو نے خُوب کِیا جو آگیا۔ اَب ہم سب خُدا کے حضُور حاضِر ہیں تاکہ جو کُچھ خُداوند نے تُجھ سے فرمایا ہے اُسے سُنیں۔
34پطرس نے زبان کھول کرکہا۔ اَب مُجھے پُورا یقِین ہوگیا کہ خُدا کِسی کا طرفدار نہِیں۔
35بلکہ ہر قَوم میں جو اُس سے ڈرتا اور راستبازی کرتا ہے وہ اُس کو پسند آتا ہے۔
36جو کلام اُس نے بنی اِسرائیل کے پاس بھیجا جبکہ یِسُوع مسِیح کی معرفت (جو سب کا خُداوند ہے) صُلح کی خُوشخَبری دی۔
37اُس بات کو تُم جانتے ہو جو یُوحنّا کے بپتِسمہ کی منادی کے بعد گلِیل سے شُرُوع ہوکر تمام یہُودیہ میں مشہُور ہوگئی۔
38کہ خُدا نے یِسُوع ناصری کو رُوحُ القدّس اور قُدرت سے کِس طرح مسح کِیا ۔ وہ بھلائی کرتا اور اُن سب کو جو اِبلیس کے ہاتھ سے ظلُم اُٹھاتے تھے شِفا دیتا پِھرا کِیُونکہ خُدا اُس کے ساتھ تھا۔
39اور ہم اُن سب کاموں کے گواہ ہیں جو اُس نے یہُودِیوں کے مُلک اور یروشلِیم میں کِئے اور اُنہوں نے اُس کو صلِیب پر لٹکا کر مار ڈالا۔
40اُس کو خُدا نے تیِسرے دِن جِلایا اور ظاہِر بھی کردِیا۔
41نہ کہ ساری اُمّت پر بلکہ اُن گواہوں پر جو آگے سے خُدا کے چُنے ہُوئے تھے یعنی ہم پر جنِہوں نے اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد اُس کے ساتھ کھایا پِیا۔
42اور اُس نے ہمیں حُکم دِیا کہ اُمّت میں منادی کرو اور گواہی دو کہ یہ وُہی ہے جو خُدا کی طرف سے زِندوں اور مُردوں کا مُنصِف مُقرّر کِیا گیا۔
43اِس شَخص کی سب نبی گواہی دیتے ہیں کہ جو کوئی اُس پر اِیمان لائے گا اُس کے نام سے گُناہوں کی مُعافی حاصِل کرے گا۔
44پطرس یہ بات کہہ ہی رہا تھا کہ رُوحُ القدّس اُن سب پر نازِل ہؤا جو کلام سُن رہے تھے۔
45اور پطرس کے ساتھ جِتنے منحتُون اِیمان دار آئے تھے وہ سب حَیران ہُوئے کہ غَیر قَوموں پر بھی رُوحُ القدّس کی بخشِش جاری ہُوئی۔
46کِیُونکہ اُنہِیں طرح طرح کی زبانیں بولتے اور خُدا کی تمجِید کرتے سُنا۔ پطرس نے جواب دِیا۔
47کیا کوئی پانی سے روک سکتا ہے کہ یہ بپتِسمہ نہ پائیں جنِہوں نے ہماری طرح رُوح اُلقدّس پایا؟۔
48اور اُس نے حُکم دِیا کہ اُنہِیں یِسُوع مسِیح کے نام سے بپتِسمہ دِیا جائے۔ اِس پر اُنہوں نے اُس سے دَرخواست کی کہ چند روز ہمارے پاس رہ۔