Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
43 verses
1اور ساڈُل جو ابھی تک خُداوند کے شاگِردوں کے دھمکانے اور قتل کرنے کی دُھن میں تھا سَردار کاہِن کے پاس گیا۔
2اور اُس سے دمشق کے عِبادت خانوں کے لِئے اِس مضُمون کے خط مانگے کہ جِن کو وہ اِس طِریق پر پائے خواہ مرد خواہ عَورت اُن کو باندھ کر یروشلِیم میں لائے۔
3جب وہ سفر کرتے کرتے دمشق کے نزدِیک پہُنچا تو اَیسا ہؤا کہ یکایک آسمان سے ایک نُور اُس کے گِرد اگِرد آچمکا۔
4اور وہ زمِین پر گِر پڑا اور یہ آواز سُنی کہ اَے ساڈُل اَے ساڈُل ۔ تُو مُجھے کِیُوں ستاتا ہے؟۔
5اُس نے پُوچھا اَے خُداوند ۔ تُو کَون ہے؟ اُس نے کہا مَیں یِسُوع ہُوں جِسے تُو ستاتا ہے۔
6مگر اُٹھ شہر میں جا اور جو تُجھے کرنا چاہئے وہ تُجھ سے کہا جائے گا۔
7جو آدمِی اُس کے ہمراہ تھے وہ خاموش کھڑے رہ گئے کِیُونکہ آواز تو سُنتے تھے مگر کِسی کو دیکھتے نہ تھے۔
8اور ساڈُل زمِین پر سے اُٹھا لیکِن جب آنکھیں کھولیں تو اُس کو کُچھ نہ دِکھائی دِیا اور لوگ اُس کا ہاتھ پکڑکر دمشق میں لے گئے۔
9اور وہ تین دِن تک نہ دیکھ سکا اور نہ اُس نے کھایا نہ پیا۔
10دمشق میں حننِیاہ نام ایک شاگِرد تھا۔ اُس سے خُداوند نے رویا میں کہا کہ اَے حننِیاہ اُس نے کہا اَے خُداوند مَیں حاضِر ہُوں۔
11خُداوند نے اُس سے کہا اُٹھ۔ اُس کوچہ میں جا جو سِیدھا کہلاتا ہے اور یہُوداہ کے گھر میں ساڈُل نام ترسی کو پُوچھ لے کِیُونکہ دیکھ وہ دُعا کررہا ہے۔
12اور اُس نے حننِیاہ نام ایک آدمِی کو اَندر آتے اور اپنے اُوپر ہاتھ رکھتے ہے تاکہ پِھر نینا ہو۔
13حننِیاہ نے جواب دِیا کہ اَے خُداوند مَیں نے بہُت لوگوں سے اِس شَخص کا ذِکر سُنا ہے کہ اِس نے یروشلِیم میں تیرے مُقدّسوں کے ساتھ کیَسی کیَسی بُرائیاں کی ہیں۔
14اور یہاں اِس کو سَردار کاہِنوں کی طرف سے اِختیّار مِلا ہے کہ جو لوگ تیرا نام لیتے ہیَں اُن سب کو باندھ لے۔
15مگر خُداوند نے اُس سے کہا کہ تُو جا کِیُونکہ یہ قَوموں بادشاہوں اور بنی اِسرائیل پر میرا نام ظاہِر کرنے کا میرا چُنا ہُؤا وسِیلہ ہے۔
16اور مَیں اُسے جتا دُوں گا کہ اُسے میرے نام کی خاطِر کِس قدر دُکھ اُٹھانا پڑیگا۔
17پَس حننِیاہ جا کر اُس گھر میں داخِل ہُؤا اور اپنے ہاتھ اُس پر رکّھ کر کہا اَے بھائِی ساڈُل۔ خُداوند یعنی یِسُوع جو تُجھ پر اُس راہ میں جِس سے تُو آیا ظاہِر ہُؤا تھا اُسی نے مُجھے بھیجا ہے کہ تُو بِینائی پائے اور رُوح اُلقدُس سے بھر جائے۔
18اور فوراً اُس کی آنکھوں سے چھلکے سے گِرے اور وہ بِینا ہوگیا اور اُٹھ کر بپتِسمہ لِیا۔
19پِھر کُچھ کھا کر طاقت پائی ۔ اور وہ کئی دِن اُن شاگِردوں کے ساتھ رہا جو دمشق میں تھے۔
20اور فوراً عِبادت خانوں میں یِسُوع کی منادی کرنے لگا کہ وہ خُدا کا بَیٹا ہے۔
21اور سب سُننے والے حیَران ہوکر کہنے لگے کیا یہ وہ شَخص نہِیں ہے جو یروشلِیم میں اِس نام کے لینے والوں کو تباہ کرتا تھا اور یہاں بھی اِسی لِئے آیا تھا کہ اُن کو باندھ کر سَردار کاہِنوں کے پاس لے جائے؟۔
22لیکِن ساڈُل کو اَور بھی قُوّت حاصِل ہوتی گئی اور وہ اِس بات کو ثابِت کر کے کہ مسِیح یہی ہے دمشق کے رہنے والے یہُودِیوں کو حَیران دِلاتا رہا۔
23اور جب بہُت دِن گُزر گئے تو یہُودِیوں نے اُسے مار ڈالنے کا مَشوَرَہ کِیا۔
24مگر اُن کی سازِش ساڈُل کو معلُوم ہوگئی ۔ وہ تو اُسے مار ڈالنے کے لِئے رات دِن دروازوں پر لگے رہے۔
25لیکِن رات کو اُس کے شاگِردوں نے اُسے لے کر ٹوکرے میں بِٹھایا اور دِیوار پر سے لٹکا کر اُتار دِیا۔
26اُس نے یروشلِیم میں پہُنچ کر شاگِردوں میں مِل جانے کی کوشِش کی اور سب اُس سے ڈرتے تھے کِیُونکہ اُن کو یقِین نہ آتا تھاکہ یہ شاگِرد ہے۔
27مگر برنباس نے اُسے اپنے ساتھ رَسُولوں کے پاس لے جا کر اُن سے بیان کِیا کہ اِس نے اِس اِس طرح راہ میں خُداوند کو دیکھا اور اُس نے اِس سے باتیں کِیں اور اُس نے دمشق میں کیَسی دِلیری کے ساتھ یِسُوع کے نام سے منادی کی۔
28پَس وہ یروشلِیم میں اُن کے ساتھ آتا جاتا رہا۔
29اور دِلیری کے ساتھ خُداوند کے نام کی منادی کرتا تھا اور یُونانی مائِل یہُودِیوں کے ساتھ گفُتگُو اور بحث بھی کرتا تھا مگر وہ اُسے مار ڈالنے کے درپَے تھے۔
30اور بھائِیوں کو جب یہ معلُوم ہُؤا تو اُسے قَیصریہ میں لے گئے اور ترسُس کو روانہ کر دِیا۔
31پَس تمام یہُودیہ اور گلِیل اور سامریہ میں کِلیسیا کو چَین ہوگیا اور اُس کی ترقّی ہوتی گئی اور وہ خُداوند کے خَوف ار رُوح اُلقدُس کی تسّلی پر چلتی اور بڑھتی جاتی تھی۔
32اور اَیسا ہُؤا کہ پطرس ہر جگہ پِھرتا ہُؤا مُقدّسوں کے پاس بھی پہُنچا جولُدّہ میں رہتے تھے۔
33وہاں اَینیاس نام ایک مفلُوج کو پایا جو آٹھ برس سے چار پائی پر پڑا تھا۔
34پطرس نے اُس سے کہا اَے اَینیاس یِسُوع تُجھے شِفا دیتا ہے۔ اُٹھ آپ اپنا بِستر بِچھا۔ وہ فوراً اُٹھ کھڑا ہُؤا۔
35تب لُدّہ اور شارُون کے سب رہنے والے اُسے دیکھ کر خُداوند کی طرف رُجُوع لائے۔
36اور یافا میں ایک شاگِرد تھی تبِیتا نام جِس کا ترجمہ ہرنی ہے وہ بہُت ہی نیک کام اور خَیرات کِیا کرتی تھی۔
37اُنہی دِنوں میں اَیسا ہُؤا کہ وہ بِیمار ہوکر مرگئی اور اُسے نہلاکر بالاخانہ میں رکھ دِیا۔
38اور چُونکہ لُدّہ یافا کے نزدِیک تھا شاگِردوں نے یہ سُن کر کہ پطرس وہاں ہے دو آدمِی بھیجے اور اُس سے دوخواست کی کہ ہمارے پاس آنے میں دیر نہ کر۔
39پطرس اُٹھ کر اُن کے ساتھ ہولِیا ۔ جب پہنُچا تو اُسے بالاخانہ میں لے گئے اور سب بیوائیں روتی ہُوئی اُس کے پاس آکھڑی ہُوئیں اور جو کرُتے اور کپڑے ہرنی نے اُن کے ساتھ میں رہ کر بنائے تھے دِکھانے لِگیں۔
40پطرس نے سب کو باہِر کردِیا اور گھُٹنے ٹیک کر دُعا کی ۔ پھِر لاش کی طرف مُتوّجِہ ہوکر کہا اَے تِبیتا اُٹھ ۔ پَس اُس نے آنکھیں کھول دِیں اور پطرس کو دیکھ کر اُٹھ بَیٹھی۔
41اُس نے ہاتھ پکڑکر اُسے اُٹھایا اور مُقدّسوں اور بیواؤں کو بُلاکر اُسے زِندہ اُن کے سپُرد کِیا۔
42یہ بات سارے یافا میں مشہُور ہو گئی اور بہُتیرے پر اِیمان لے آئے۔
43اور اَیسا ہُؤا کہ وہ بہُت دِن یافا شمعُون نام دبّاغ کے ہاں رہا۔