Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
45 verses
1اور دار مادی کی سلطنت کے پہلے سال میں ہی اُس کو قائم کرنے اور تقویت دینے کو کھڑا ہُوا۔
2اور اب میں تجھ کو حقیقت بتاتا ہُوں۔ فارس میں ابھی تین بادشاہ اور برپا ہوں گے اور چوتھا اُن سب سے زیادہ دولت مند ہو گا اور جب وہ اپنی دولت سے تقویت پائے گا تو سب کو یُونان کی سلطنت کے خلاف اُبھارے گا۔
3لیکن ایک زبردست بادشاہ برپا ہوگا جو بڑے تسلط سے حُکمران ہو گا اور جو کچھ چاہے گا کرے گا۔
4اور اُس کے برپا ہوتے ہی اُس کی سلطنت کو زوال آے گا اور آسمان کی چاروں ہواوں کی اطراف پر تقسیم ہو جائے گی لیکن نہ اُس کی نسل کو ملے گی اور نہ اُس کا اقبال باقی رہے گا بلکہ وہ سلطنت جڑ سے اکھڑ جاے گی اور غیروں کے لے ہو گی۔
5اور شاہ جنُوب زور پکڑے گا اور اُس کے اُمرا میں سے ایک اُس سے زیادہ اقتدار و اختیار حاصل کرے گا اور اُس کی سلطنت بُہت بڑی ہو گی۔
6اور چند سال کے بعد وہ آپس میں میل کریں گے کیونکہ شاہ جنُوب کی بیٹی شاہ شُمال کے پاس آے گی تا کہ اتحاد قائم ہو لیکن اُس میں قوت بزو نہ رہے گی اور نہ وہ بادشاہ قائم رہے گا نہ اُس کا اقتدار بلکہ اُن ایّام میں وہ اپنے باپ اور اپنے لانے والوں اور تقویت دینے والے سمیت ترک کی جاے گی۔
7لیکن اُس کی جڑوں کی ایک شاخ سے ایک شخص اُس کی جگہ برپا ہو گا۔ وہ سپہ سالار ہو کر شاہ شمال کے قلعہ میں داخل ہو گا اور اُن پر حملہ کرے گا اور غالب آے گا۔
8اور اُن کے بُتوں اور ڈھالی ہُوئی مُورتوں کو سونے چاندی کے قمیتی ظروف سمیت اسیر کر کے مصر کو لے جاے گا اور چند سال تک شاہ شمال سے دست بردار رہے گا۔
9پھر وہ شاہ جنُوب کی مملکت میں داخل ہو گا پر اپنے مُلک کو واپس جاے گا۔
10لیکن اُس کے بیٹے برانگخیتہ ہوں گے جو بڑا لشکر جمع کریں گے اور وہ چڑھائی کر کے پھیلے گا اور گُزر جاے گا اور وہ لُوٹ کر اس کے قلعہ تک لڑیں گے۔
11اور شاہ جنوب غضب ناک ہو کر نکلے گا اور شاہ شمال سے جنگ کرے گا اور وہ بڑا لشکر لے کر آے گا اور وہ بڑا لشکر اُس کے حوالہ کر دیا جائے گا۔
12اور جب وہ لشکر پراگندہ کر دیا جائے گا تو اُس کے دل میں گھمنڈ سماے گا ۔ وہ لاکھوں کو گراے گا لیکن غالب نہ آے گا۔
13اور شاہ شمال دوبارہ حملہ کرے گا اور پہلے سے زیادہ لشکر جمع کرے گا اور چند سال کے بعد بُہت سے لشکر و مال کے ساتھ پھر حملہ آور ہو گا۔
14اور اُن دنوں میں بُہیترے شاہ جنوب پر چڑھائی کریں گے اور تیری قوم کے قزاق بھی اُٹھیں گے کہ اُس رویا کو پُورا کریں پر وہ گر جائیں گے۔
15چُنانچہ شاہ شمال آے گا اور دمدمہ باندھے گا اور حصین شہر لے لے گا اور جُنوب کی طاقت قائم نہ رہے گی اور اُس کے پیدہ مردوں میں مُقابلہ کی تاب نہ ہوگی۔
16اور حملہ آور جو کچھ چاہے گا کرے گا اور کوئی اُس کا مُقابلہ نہ کر سکے گا۔ وہ اُس جلالی مُلک میں قیام کرے گا اور اُس کے ہاتھ میں تباہی ہو گی۔
17اور وہ یہ ورادہ کرے گا کہ اپنی مملکت کی تمام شوکت کے ساتھ اُس میں داخل ہو اور صادق اُس کے ساتھ ہوں گے۔ وہ کامیاب ہوگا اور وہ اُسے جوان کُنواری دے گا کہ اُس کی بربادی کا باعث ہو لیکن یہ تدبیر قائم نہ رہے گی اور اُس کو اُس سے کچھ فائدہ نہ ہو گا۔
18پھر وہ بحری ممالک کا رُخ کرے گا اور بُہت سے لے لے گا لیکن ایک سردار اُس کی ملامت کو موقوف کرے گا بلکہ اُسے اُسی کے سر پر ڈالے گا۔
19تب وہ اپنے مُلک کے قلعوں کی طرف مُڑے گا لیکن ٹھوکر کھا کر گرپڑے گا اور معدوم ہو جاے گا۔
20اور اُس کی جگہ ایک اور برپا ہوگا جو اُس خُوبصورت مملکے میں خراج گیر بھیجے گا لیکن وہ چند روز میں بے قہرو جنگ ہی ہلاک ہو جاے گا۔
21پھر اُس کی جگہ ایک پاجی برپا ہوگا جو سلطنت کی عزت کا حق دار نہ ہوگا لیکن وہ ناگہان آے گا اور چاپُلوسی کر کے مملکت پر قابض ہو جاے گا۔
22اور وہ سیلاب افواج کو اپنے سامنے رگیدے گا اور شکست دے گا اور امیر عہد کو بھی نہ چھوڑے گا۔
23اور جب اُس کے ساتھ عہد و پیمان ہو جاے گا تو دغا بازی کرے گا کیونکہ وہ بڑھے گا اور ایک قلیل جماعت کی مدد سے اقتدار حاصل کرے گا۔
24اور ایّام امن میں مُلک کے زرخیر مقامات میں داخل ہو گا اور جو کُچھ اُس کے باپ دادا اور اُن کے آباواجداد سے نہ ہُوا تھا کر دکھاے گا۔وہ غنمیت اور لُوٹ اور مال اُن میں تقسیم کرے گا اور کچھ عرصہ تک مُضبوط قلعوں کے خلاف مُنصوبہ باندھے گا۔
25وہ اپنے زور اور دل کو اُبھارے گا کہ بڑی فوج کے ساتھ شاہ جنوب پر حملہ کرے اور شاہ جنوب نہایت بڑا اور زبردست لشکر لے کر اُس کے مُقابلہ کو نکلے گا پر وہ نہ ٹھہرے گا کیونکہ وہ اُس کے خلاف منصوبے باندھیں گے۔
26بلکہ جو اُس کا دیا کھاتے ہیں وہی اُسے شکست دیں گے اور اُس کی فوج پراگندہ ہوگی اور بُہت سے قتل ہوں گے۔
27اور اُن دونوں بادشاہوں کے دل شرارت کی طرف مائل ہوں گے۔ وہ ایک ہی دسترخوان پر بیٹھ کر جھوٹ بولیں گے پر کامیابی نہ ہوگی کیونکہ خاتمہ مقررہ وقت پر ہو گا۔
28تب وہ بہت سی غنیمت لے کر اپنے مُلک کو واپس جائے گا اور اُس کا دل عہد مقدس کے خلاف ہوگا اور وہ اپنی مرضی پُوری کر کے اپنے مُلک کو واپس جائے گا۔
29مقررہ وقت پر وہ پھر جنوب کی طرف خروج کرے گا لیکن یہ حملہ پہلے کی مانند نہ ہوگا۔
30کیونکہ اہل کتُّیم کے جہاز اُس کے مُقابلہ کو نکلیں گے اور وہ رنجیدہ ہو کر مُڑے گا اور عہد مقدس پر اُس کا غضب بھڑکے گا اور وہ اُس کے مُطابق عمل کرے گا۔ بلکہ وہ مُڑ کر اُن لوگوں سے جو عہد مقدس کو ترک کریں گے اتفاق کرے گا ۔
31اور افواج اُس کی مدد کریں گی اور وہ مُحکم مقدس کو ناپاک اور دائمی قربانی کو موقوف کریں گے اور اُجاڑنے والی مکروہ چیز کو اُس میں نصب کریں گے۔
32اور وہ عہد مقدس کے خلاف شرارت کرنے والوں کو خُوشامد کر کے برگشتہ کرے گا لیکن اپنے خُدا کو پہچاننے والے تقویت پا کر کچھ کر دکھائیں گے۔
33اور وہ جو لوگوں میں اہل دانش ہیں بُہتوں کو تعلیم دیں گے لیکن وہ کچھ مدت تک تلوار اور آگ اور اسیری اور لوٹ مار سے تباہ حال رہیں گے۔
34اور جب تباہی میں پڑیں گے تو اُن کو تھوڑی سی مدد سے تقویت پُہنچے گی لیکن بُہیترے خُوشامد گوئی سے اُن میں آملیں گے۔
35اور بعض اہل فہیم تباہ حال ہوں گے جب تک آخری وقت نہ آجائے کیونکہ یہ مُقررہ وقت تک مُلتوی ہے۔
36اور بادشاہ اپنی مرضی کے مطابق چلے گا اور تکُبر کرے گا اور سب معبُودوں سے بڑا بنے گا اور الٰہوں کے الہٰ کے خلاف بُہت سی حیرت انگیز باتیں کہے گا اور اقبال مند ہوگا یہاں تک کہ قہر کی تسکین ہو جاے گی کیونکہ جو کچھ مُقرر ہو چُکا ہے واقع ہو گا۔
37وہ اپنے باپ دادا کے معبُودوں کی پروانہ کرے گا اور نہ عورتیں کی مرغوبہ کو اور نہ کسی اور معبود کو مانے گا بلکہ اپنے آپ ہی کو سب سے بالا جانے گا ۔
38اور اپنے مکان پر معبُود حصار کی تعظیم کرے گا اور جس معبُود کو اُس کے باپ دادا نہ جانتے تھے سونا اور چاندی اور قیمتی پتھر اور نفیس ہدے دے کر اُس کی تکریم کرے گا۔
39وہ بیگانہ معبُود کی مدد سے مُحکم قلعوں پر حملہ کرے گا۔ جو اس کو قبول کریں گے اُن کو بڑی عزت بخشے گا اور بُہتوں پر حاکم بنائے گا اور رشوت میں مُلک کو تقسیم کرے گا۔
40اور خاتمہ کے وقت میں شاہ جُنوب اس پر حملہ کرے گا اور شاہ شمال اتھ اور سوارا اور بُہت سے جہاز لے کر گردباد کی مانند اُس پر چڑھ آے گا اور ممالک میں داخل ہو کر سیلاب کی مانند گُزرے گا۔
41اور جلالی مُلک میں بھی داخل ہوگا اور بُہت سے مغُلوب ہوجائیں گے لیکن اُدوم اور مو آب اور بنی عمون کے خاص لوگ اُس کے ہاتھ سے چُھڑا لے جائیں گے۔
42وہ دیگر مُمالک پر بھی ہاتھ چلائے گا اور مُلک مصر بھی بچ نہ سکے گا۔
43بلکہ وہ سونے چاندی کے خزانوں اور مصر کی تمام نفیس چیزوں پر قابض ہوگا اور لُوبی اور کُوشی بھی اُس کے ہمرکاب ہوں گے۔
44لیکن مشرقی اور شمالی اطراف سے افواہیں اُسے پریشان کریں گی اور وہ بڑے غضب سے نکلے گا کہ بُہتوں کی نیست و نابُود کرے۔
45اور وہ شاندار خیمے لگائے گا لیکن اُس کا خاتمہ ہو جائے گا اور کوئی اُس کا مدد گار نہ ہوگا۔