Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
21 verses
1شاہ فارس خورس کے تیسرے سال میں دانی ایل پر جس کا نام بیلطشضر رکھا گیا ایک بات ظاہر کی گئی اور وہ بات سچ اور بڑی لشکر کشی کی تھی اور اُس نے اُس بات پر غور کیا اور اُس رویا کا بھید سمجھا۔
2میں دانی ایل ان دُونوں میں تین ہفتوں تک ماتم کرتا رہا۔
3نہ میں نے لذیذ کھانا کھایا نہ گوشت اور مے نے میرے مُنہ میں دخل پایا اور نہ میں نے تیل ملا جب تک کہ پُورے تین ہفتے گُزر نہ گئے۔
4اور پہلے مہینے کی چوبیسویں تاریخ کو جب میں بڑے دریا یعنی دریای دجلہ کے کنارے پر تھا۔
5میں نے آنکھ اُٹھا کر نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک شخص کتانی پیراہن پہنے اور اوفاز کے خالص سونے کا پٹکا کمر پر باندھے کھڑا ہے ۔
6اس کا بدن زبرجد کی مانند اور اُس کا چہرہ بجلی سا تھا اور اُس کی آنکھیں آتشی چراغوں کی مانند تھیں۔ اُس کے بازو اور پاوں رنگت میں چمکتے ہُوئے پیتل سے تھے اور اُس کی آواز نبوہ کے شور کی مانند تھی۔
7میں دانی ایل ہی نے یہ رویا دیکھی کیونکہ میرے ساتھیوں نے رویا نہ دیکھی لیکن اُن پر بڑی کپکپی طاری ہُوئی اور وہ اپنے آپ کو چُھپانے کو بھاگ گئے۔
8سو میں اکیلا رہ گیا اور یہ بڑی رویا دیکھی اور مُجھ میں تاب نہ رہی کیونکہ میری تازگی پژمردگی سے بدل گئی اور میری طاقت جاتی رہی۔
9پر میں نے اُس کی آواز اور باتیں سُنیں اور میں اُس کی آواز اور باتیں سُنتے وقت مُنہ کے بل بھاری نیند میں پڑ گیا اور میرا مُنہ زمین کی طرف تھا۔
10اور دیکھ ایک ہاتھ نے مُجھے چُھوا اور مُجھے گھٹنوں اور ہتھلییوں پر بٹھایا۔
11اور اُس نے مجھ سے کہا اے دانی ایل عزیز مردجو باتیں میں تجھ سے کہتا ہُوں سمجھ لے اور سیدھا کھڑا ہو جا کیونکہ اب میں تیرے پاس بھیجا گیا ہُوں اور جب اُس نے مجھ سے یہ بات کہی تو میں کانپتا ہُوا کھڑا ہو گیا۔
12تب اُس نے مُجھ سے کہا اے دانی ایل خوف نہ کر کیونکہ جس روز سے تو نے دل لگایا کہ سمجھے اور اپنے خُدا کے حضُور عاجزی کرے تیری باتیں سُنی گیئں اور تیری باتوں کے سبب سے میں آیا ہُوں ۔
13پر فارس کی ممُلکت کے مُوکل نے اکیس دن تک میرا مُقابلہ کیا پھر میکائیل جو مُقرب فرشتوں میں سے ہے میری مدد کو پُہنچا اور میں شاہان فارس کے پاس رُکا رہا۔
14پر اب میں اس لئے آیا ہُوں کہ جو کچھ تیرے لوگوں پر آخری ایّام آنے کو ہے تجھے اُس کی خبر دُوں کیونکہ ہُنوزیہ رویا زمانہ دراز کے لئے ہے۔
15اور جب اُس نے یہ باتیں مجھ سے کہیں میں سر جُھا کر خاموش ہو رہا۔
16تب کسی نے جو آدم زاد کی مانند تھا میرے ہونٹوں کو چُھو ا اور میں نے مُنہ کھولا اور جو میرے سامنے کھڑا تھا اُس سے کہا اے خُداوند اس رویا کے سبب سے مجھ پر غم کا ہجُوم ہے اور میں ناتوان ہُوں ۔
17پس یہ خادم اپنے خُداوند سے کیونکر ہم کلام ہو سکتا ہے؟ پس میں بالکل بے تاب و بیدم ہو گیا۔
18تب ایک اور نے جس کی صُورت آدمی کی سی تھی آ کر مُجھے چُھوا اور مجھ کو تقویت دی۔
19اور اُس نے کہا اے عزیز مرد خوف نہ کر ۔ تیری سلامتی ہو۔ مضُبوط و توانا ہو اور جب اُس نے مجھ سے یہ کہا تو میں نے توانائی پائی اور کہا اے میرے خُداوند فرما کیونکہ تو ہی نے مجھے قوت بخشی ہے۔
20تب اُس نے کہا کیا تو جانتا ہے کہ میں تیرے پاس کس لے آیا ہُوں ؟ اور اب میں فارس کے مُوکل سے لڑنے کو واپس جاتا ہُوں اور میرے جاتے ہی یُونان کا مُوکل آے گا۔
21لیکن جو کچھ سچائی کی کتاب میں لکھا ہے تجھے بتاتا ہُوں اور تمہارے موکل میکائیل کے سوا اس میں مرا کوئی مدگار نہیں ہے۔