Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
27 verses
1دارا بن اخسویرس جو مادیوں کی نسل سے تھا اور کسدیوں کی ممُلکت پر بادشاہ مُقرر ہُوا اس کے پہلے سال میں ۔
2یعنی اُس کی سلطنت کے پہلے سال میں دانی ایل نے کتابوں میں اُن برسوں کا حساب سمجھا جن کی بابت خُداوند کا کلام پر میاہ نبی پر نازل ہُوا کہ یروشیلم کی بربادی پر ستر برس پُورے گُزریں گے۔
3اور میں نے خُداوند خُدا کی طرف رُخ کیا اور میں منت اور مُناجات کر کے اور روزہ رکھ کر اور ٹاٹ اوڑھ کر اور راکھ پر بیٹھ کر اُس کا طالب ہُوا۔
4اور میں نے خُداوند اپنے خُدا سے دُعا کی اور اقرار کیا اور کہا کہ اے خُداوند عظیم اور مُہیب خُدا تو اپنے فرمانبردار مُحبت رکھنے والوں کے لے اپنے عہد و رحم کو قائم رکھتا ہے۔
5ہم نے گُناہ کیا۔ ہم بر گشتہ ہُوئے ۔ ہم نے شرارت کی۔ ہم نے بغاوت کی بلکہ ہم نے تیرے احکام و آئین کو ترک کیا ہے۔
6اور ہم تیرے خدمت گُزار نبیوں کے شنوا نہیں ہُوئے جنہوں نے تیرا نام لے کر ہمارے بادشاہوں اور اُمرا سے اور ہمارے باپ دادا اور مُلک کے سب لوگوں سے کلام کیا۔
7اے خُداوند صداقت تیرے لے ہے اور رُسوائی ہمارے لے جیسے اب یہُوداہ کے لوگوں اور یروشلیم کے باشندوں اور دُور دُور نزدیک کے تمام بنی اسرائیل کے لے ہے جن کو تو نے تمام ممُالک میں ہانک دیا کیونکہ اُنہوں نے تیرے خلاف گُناہ کیا۔
8اے خُداوند رُسوائی ہمارے لے ہے۔ ہمارے بادشاہوں ہمارے اُمرا اور ہمارے باپ دادا کے لے کیونکہ ہم تیرے گُنہگار ہُوئے۔
9ہمارا خُداوند ہمارا خُدا رحیم و غفور ہے اگرچہ ہم نے اُس سے بغاوت کی۔
10ہم خُداوند اپنے خُدا کی آواز کے شنوا نہیں ہُوئے کہ اُس کی شریعت پر جو اُس نے اپنے خدمت گُزار نبیوں کی معرفت ہمارے لے مُقرر کی عمل کریں۔
11ہاں تمام بنی اسرائیل نے تیری شریعت کو توڑا اور برگشتگی اختیار کی تا کہ تیری آواز کے شنوا نہ ہُوں ۔ اس لئے وہ لُغت اور قسم جوخُدا کے خادم مُوسٰی کی توریت میں مرقوم ہیں ہم پُوری ہُوئیں کیونکہ ہم اس کے گُنہگار ہُوئے۔
12اور اس نے جو کچھ ہمارے اور ہمارے قاضیوں کے خلاف جو ہماری عدالت کرتے تھے فرمایا تھا ہم پر بلای عظیم لا کر ثابت کر دکھایا کیونکہ جو کُچھ یروشیلم سے کیا گیا وہ تمام جہان میں اور کہیں نہیں ہوا۔
13جیسا موسٰی کی توریت میں مرقوم ہے یہ تمام مُصیبت ہم پر آئی تو بھی ہم نے خُداوند اپنے خُدا سے التجا نہ کی کہ ہم اپنی بدکرداری سے باز آتے اور تیری سچائی کو پہچانتے۔
14اس لے خُداوند نے بلا کو نگاہ میں رکھا اور اُس کو ہم پر نازل کیا کیونکہ خُداوند ہمارا خُدا اپنے سب کاموں میں جو وہ کرتا ہے صادق ہے لیکن ہم اس کی آواز کے شنوا نہ ہُوئے۔
15اور اب اے خُدا وند ہمارے خُدا جو زور آور بازُو سے اپنے لوگوں کو مُلک مصر سے نکال لایا اور اپنے لے نام پیدا کیا جسیا آج کے دن ہے ہم نے گُناہ کیا۔ ہم نے شرارت کی۔
16اے خُدا وند میں تیری منت کرتا ہُوں کہ تو اپنی تمام صداقت کے مطابق اپنے قہر و غضب کو اپنے شہر یروشیلم یعنی اپنے کوہ مُقدس سے مُوقوف کر کیونکہ ہمارے گُناہوں اور ہمارے باپ دادا کی بدکرداری کے سبب سے یروشیلم اور تیرے لوگ اپنے سب آس پاس والوں کے نزدیک جای ملامت ہُوئے۔
17پس اب اے ہمارے خُدا اپنے خادم کی دُعا اور التماس سُن اور اپنے چہرہ کو اپنی ہی خاطر اپنے مقدس پر جو ویران ہے جلوہ گر فرما۔
18اے میرے خُدا کان لگا کر سُن اور آنکھیں کھول کر ہمارے ویرانوں کو اور اُس شہر کو جو تیرے نام سے کہلاتا ہے دیکھ کہ ہم تیرے حضُور اپنی راست بازی پر نہیں بلکہ تیری بے نہایت رحمت پر تکیہ کر کے مُناجات کرتے ہیں۔
19اے خُداوند سُن ۔ اے خُداوند مُعاف فرما۔ اے خُداوند سُن لے اور کُچھ کر۔ اے میرے خُدا اپنے نام کی خاطر دیرنہ کر کیونکہ تیرا شہر اور تیرے لوگ تیرے ہی نام سے کہلاتے ہیں۔
20اور جب میں یہ کہتا اور دُعا کرتا اور اپنے اور اپنی قوم اسرائیل کے گُناہوں کا اقرار کرتا تھا اور خُداوند اپنے خُدا کے حضُور اپنے خُدا کے کوہ مُقدس کے لے مُناجات کر رہا تھا۔
21ہاں میں دُعا میں یہ کہہ ہی رہا تھا کہ وہی شخص جبرائیل جسے میں نے شروع میں رویا دیکھا تھا حُکم کے مُطابق تیز پروازی کرتا ہُوا آیا اور شام کی قربانی گُزراننے کے وقت کے قریب مُجھے چُھوا۔
22اور اُس نے مُجھے سمجھایا اور مُجھ سے باتیں کیں اور کہا سے دانی ایل میں اب اس لے آیا ہُوں کہ تجھے دانش و فہم بخُشوں ۔
23تیری مُناجات کے شُروع ہی میں حُکم صادر ہُوا اور میں آیا ہُوں کہ تجھے بتاوں کیونکہ تو بہت عزیز ہے۔ پس تو غور کر اور رویا کو سمجھ لے۔
24تیرے لوگوں اور تیرے مُقدس شہر کے لے سترّ ہفتے مُقرر کے گے کہ خطا کاری اور گُناہ کا خاتمہ ہو جاے ۔ بدکردای کا کفارہ دیا جائے۔ ابدی راست بازی قائم ہو۔ رویا نبُوت پر مُہر ہو اور پاکترین مقام ممسُوح کیا جائے۔
25پس تو معلوم کر اور سمجھ لے کہ یروشیلم کی بحالی اور تعمیر کا حُکم صادر ہونے سے ممسوح فرمانروا تک سات ہفتے اور باسٹھ ہفتے ہوں گے۔ تب پھر بازار تعمیر کئے جائیں گے اور فصیل بنائی جائے گی مگر مُصیبت کے ایّام میں ۔
26اور باسٹھ ہفتوں کے بعد وہ ممسوح قتل کیا جائے گا اور اُس کا کچھ نہ رہے گا اور ایک بادشاہ آے گا جس کے لوگ شہر اور مقدس کو مسمار کریں گے اور اُس کا انجام گویا طُوفان کے ساتھ ہوگا اور آخر تک لڑائی رہے گی۔ بربادی مُقرر ہو چُکی ہے۔
27اور وہ ایک ہفتے کے لے بُہتوں سے عہد قائم کرے گا اور نصف ہفتہ میں ذبیحہ اور ہدیہ موقوف کرے گا اور فصیلوں پر اُجاڑنے والی مکُروہات رکھی جائیں گی یہاں تک کہ بربادی کمال کو پُہنچ جائے گی اور وہ بلا جو مُقرر کی گئی ہے اُس اجاڑ نے والے پر واقع ہو گئی۔