Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
27 verses
1بیلطشضر بادشاہ کی سلطنت کے تیسرے سال کی مجھ کو ہاں مُجھ دانی ایل کو ایک رویا نظر آئی یعنی میری پہلی رویا کے بعد۔
2اور میں نے عالم رویا میں دیکھا اور جس وقت میں نے دیکھا ایسا معلوم ہُوا کہ کہ میں قصر سوسن میں تھا جو صُوبہ عُیلام میں ہے ۔ پھر میں نے عالم رویا ہی میں دیکھا کہ میں دریای اُولائی کے کنارہ پر ہُوں ۔
3تب میں نے آنکھ اُٹھا کر نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ دریا کے پاس ایک مینڈھا کھڑا ہے جس کے دو سینگ ہیں۔ دونوں سینگ اُونچےتھے لیکن ایک دُوسرے سے بڑا تھا اور بڑا دُوسرے کے بعد نکلا تھا۔
4میں نے اُس مینڈھے کو دیکھا کہ مغرب و شمال و جنوب کی طرف سینگ مارتا ہے یہاں تک کہ نہ کوئی جانور اُس کے سامنے کھڑا ہو سکا اور نہ کوئی اُس سے چُھڑا سکا پر وہ جو کُچھ چاہتا تھا کرتا تھا یہاں تک کہ وہ بُہت بڑا ہو گیا۔
5اور میں سوچ ہی رہا تھا کہ ایک بکرا مغرب کی طرف سے آ کر تمام رُوی زمین پر ایسا پھرا کہ زمین کو بھی نہ چُھوا اور اُس بکرے کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک عجیب سینگ تھا۔
6اور وہ اُس دو سینگ والے مینڈھے کے پاس جسے میں نے دریا کے کنارے کھڑا دیکھا آیا اور اپنے زور کے قہر سے اُس پر حملہ آور ہُوا۔
7اور میں نے دیکھا کہ وہ مینڈھے کے قریب پُہنچا اور اُس کا غضب اُس پر بھڑکا اور اُس نے مینڈھے کو مارا اور اُس کے دونوں سینگ توڑ ڈالے اور مینڈھے میں اُس کے مُقابلہ کی تاب نہ تھی ۔ پس اُس نے اُسے زمین پر پٹک دیا اور اُسے لتاڑ اور کوئی نہ تھا کہ مینڈھے کو اُس سے چُھڑا سکے۔
8اور وہ بکرا نہایت بُرگ ہُوا اور جب وہ نہایت زور آور ہُوا تو اُس کا بڑا سینگ ٹُوٹ گیا اور اُس کی جگہ چار عجیب سینگ آسمان کی چاروں ہواوں کی طرف نکلے۔
9اور اُن میں سے ایک سے ایک چھوٹا سینگ نکلا جو جُنوب اور مشرق اور جلالی مُلک کی طرف بے نہایت بڑھ گیا۔
10اور وہ بڑھ کر اجرام فلک تک پُہنچا اور اُس نے بعض اجرام فلک اور ستاروں کو زمین پر گرا دیا اور اُن کو لتاڑا۔
11بلکہ اُس نے اجرام کے فرما نروا تک اپنے آپ کو بُلند کیا اور اُس سے دائمی قُربانی کو چھین لیا اور اُس کا مُقدس گرا دیا ۔
12اور اجرام خطا کاری کے سبب سے دائمی قربانی سمیت اُس کے حوالہ کئے گئے اور اُس نے سچائی کو زمین پر پٹک دیا اور وہ کامیابی کے ساتھ یُوں ہی کرتا رہا ۔
13تب میں نے ایک قُدسی کو کلام کرتے سُنا اور دُوسرے قدسی سے جو کلام کرتا تھا پوچھا کہ دائمی قربانی اور ویران کرنے والی خطاکاری کی رویا جس میں مقدس اور اجرام پایمال ہوتے ہیں کب تک رہے گی؟۔
14اور اُس نے مُجھ سے کہا کہ دو ہزار تین سو صُبح و شام تک اُس کے بعد مقدس پاک کیا جائے گا۔
15پھر یُوں ہُوا کہ جب میں دانی ایل نے یہ رویا دیکھی اور اُس کی تعبیر کی فکر میں تھا تو کیا دیکھتا ہُوں کہ میرے سامنے کوئی انسان صُورت کھڑا ہے۔
16اور میں نے اُولائی میں سے آدمی کی آواز سُنی جس نے بُلند آواز سے کہا کہ اے جبرائیل اس شخص کو اس رویا کے معنی سمجھا دے۔
17چُنانچہ وہ جہاں میں کھڑا تھا نزدیک آیا اور اُس کے آنے سے میں ڈر گیا اور مُنہ کے بل گرا پر اُس نے مُجھ سے کہا اے آدم زاد! سمجھ لے کہ یہ رویا آخری زمانہ کی بابت ہے ۔
18اور جب وہ مُجھ سے باتیں کر رہا تھا میں گہری نیند میں مُنہ کے بل زمین پر پڑا تھا لیکن اُس نے مُجھے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا۔
19اور کہا دیکھ میں تُجھے سمجھاوں گا کہ قہر کے آخر میں کیا ہوگا کیونکہ یہ امر آخری مُقررہ وقت کی بابت ہے ۔
20جو مینڈھا تو نے دیکھا اُس کے دونوں سینگ مادی اور فارس کے بادشاہ ہیں۔
21اور وہ جسیم بکرا یُونان کا بادشاہ ہے اور اُس کی آنکھوں کے درمیان کا بڑا سینگ پہلا بادشاہ ہے۔
22اور اُس کے ٹوٹ جانے کے بعد اُس کی جگہ جو چار اور نکلے وہ چار سلطنتیں ہیں جو اُس کی قوم میں قائم ہوں گی لیکن اُن کا اقتدار اُس کا سانہ ہو گا۔
23اور اُن کی سلطنت کے آخری ایّام میں جب خطا کار لوگ حد تک پُہنچ جائیں گے تو ایک رُو اور رمز شناس بادشاہ ہو گا۔
24یہ بڑا زبردست ہو گا لیکن اپنی قوت سے نہیں اور عجیب طرح سے برباد کرے گا اور برومند ہو گا اور کام کرے گا اور زور آوروں اور مُقدس لوگوں کو ہلاک کرے گا۔
25اور اپنی چترائی سے ایسے کام کرے گا کہ اُس کی فطرت کے منصوبے اُس کے ہاتھ میں خُوب انجام پائیں گے اور دل میں بڑا گھمنڈ کرے گا اور صُلح کے وقت میں بہتیروں کو ہلاک کرے گا۔ وہ بادشاہوں کے بادشاہ سے بھی مُقابلہ کرنے کے لے اُٹھ کھڑا ہو گا لیکن بے ہاتھ ہلائے ہی شکست کھائے گا۔
26اور یہ صُبح و شام کی رویا بیان ہُوئی یقینی ہے لیکن تو اس رویا کو بند کر رکھ کیونکہ اس کا علاقہ بُہت دُور کے ایّام سے ہے ۔
27اور مجھ دانی ایل کو غش آیا اور میں چند روز تک بیمار پُڑا رہا۔ پھر میں اُٹھا اور بادشاہ کا کاروبار کرنے لگا اور میں رویا سے پریشان تھا لیکن اس کو کوئی نہ سمجھا۔