Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
27 verses
1شاہ بابل بیلطشضر کے پہلے سال میں دانی ایل نے اپنے بستر پر خواب میں اپنے سر کے دماغی خیالات کی رویا دیکھی۔ تب اُس نے اُس خواب کو لکھا اور اُن حالات کا مجمل بیان کیا۔
2دانی ایل نے یُوں کہا کہ میں نے رات کو ایک رویا دیکھی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ آسمان کی چاروں ہوائیں سمندر پر زور سے چلیں ۔
3اور سُمندر سے چار بڑے حیوان جو ایک دُوسرے سے مُختلف تھے نکلے۔
4پہلا شیر ببر کی مانند تھا اور عقاب کے سے بازو رکھتا تھا اور میں دیکھتا رہا جب تک اُس کے سر پر اُکھاڑے گئے اور وہ زمین سے اُٹھایا گیا اور آدمی کی طرح پاوں پر کھڑا کیا گیا اور انسان کا دل اُسے دیا گیا۔
5اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک دُوسرا حیوان ریچھ کی مانند ہے اور وہ ایک طرف سیدھا کھڑا ہُوا اور اُس کے مُنہ میں اُس کے دانتوں کے درمیان تین پسلیاں تھیں اور اُنہوں نے اُسے کہا کہ اُٹھ اور کثرت سے گوشت کھا۔
6پھر میں نے نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک اور حیوان تیندوے کی مانند اُٹھا جس کی پیٹھ پر پرندے کے سے چار بازو تھے اور اُس حیوان کے چار سر تھے اور سلطنت اُسے دی گئی۔
7پھر میں نے رات کو رویا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہُوں کی چوتھا حیوان ہولناک اور ہیبت ناک اور نہایت زبردست ہے اور اُس کے دانت لوہے کے بڑے بڑے تھے۔ وہ نگل جاتا اور ٹکرے ٹکرے کرتا تھا اور جو کُچھ باقی بچتا اُس کو پاوں سے لتاڑتا تھا اور یہ اُن سب پہلے حیوانوں سے مُختلف تھا اور اُس کے دس سینگ تھے۔
8میں نے اُن سینگوں پر غور سے نظر کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ اُن کے درمیان سے ایک اور چھوٹا سا سینگ نکلا جس کے آگے پہلوں میں تین سینگ جڑ سے اُکھاڑے گئے اور کیا دیکھتا ہُوں کہ اُس سینگ میں انسان کی سی آنکھیں ہیں اور ایک مُنہ ہے جس سے گھمنڈ کی باتیں نکلتی ہیں۔
9میرے دیکھتے ہُوئے تخت لگائے گئے اور قدیم الایّام بیٹھ گیا۔ اُس کا لباس برف سا سفید تھا اور اُس کے سر کے بال خالص اُون کی مانند تھے۔ اُس کا تخت آگ کے شُعلہ کی مانند تھا اور اُس کے پہیے جلتی آگ کی مانند تھے۔
10اُس کے حضُور سے ایک آتشی دریا جاری تھا۔ ہزاروں ہزار اُس کی خدمت میں حاضر تھے اور لاکھوں لاکھ اُس کے حضور کھڑے تھے۔ عدالت ہو رہی تھی اور کتابیں کھلی تھیں۔
11میں دیکھ ہی رہا تھا کہ اُس کے سینگ کی گھمنڈ کی باتوں کی آواز کے سبب سے میرے دیکھتے ہُوے وہ حیوان مارا گیا اور اُس کا بدن ہلاک کر کے شُعلہ زن آگ میں ڈالا گیا۔
12اور باقی حیوانوں کی سلطنت بھی اُن سے لے لی گئی لیکن وہ ایک زمانہ اور ایک دور زندہ رہے۔
13میں نے رات کو رویا میں دیکھا اور کیا دیکھتا ہُوں کہ ایک شخص آدم زاد کی مانند آسمان کے بادلوں کے ساتھ آیا اور قدیم الایّام تک پُہنچا۔ وہ اُسے اُس کے حضُور لائے۔
14اور سلطنت اور حشمت اور مملکت اُسے دی گئی تا کہ سب لوگ اور اُمتیں اور اہل لُغت اُس کی خدمت گُزاری کریں ۔ اُس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے جو جاتی نہ رہے گی اور اُس کی مملکت لازوال ہو گئ۔
15مجھ دانی ایل کی رُوح میرے بدن میں ملُول ہُوئی اور میرے دماغ کے خیالات نے مُجھے پریشان کر دیا۔
16س جو میرے نزدیک کھڑے تھے اُن میں سے ایک کے پاس گیا اور اُس سے ان سب باتوں کی حقیقت دریافت کی۔ پس اُس نے مُجھے بتایا اور ان باتوں کا مطلب سمجھا دیا۔
17یہ چار بڑے حیوان چار بادشاہ ہیں جو زمین پر برپا ہوں گے۔
18لیکن حق تعالیٰ کے مُقدس لوگ سلطنت لے لیں گے اورابد تک ہاں ابد الاآباد تک اُس سلطنت کے مالک رہیں گے۔
19تب میں نے چاہا کہ چوتھے حیوان کی حقیقت سُمجھوں جو اُن سب سے مختلف اور نہایت ہولناک تھا۔ جس کے دانت لوہے کے ناخن پیتل کے تھے۔ جو نگلتا اور ٹکرے ٹکرے کرتا اور جو کچھ باقی بچتا اُس کو پاوں سے لتاڑ��ا تھا۔
20اوردس سینگوں کی حقیقت جو اُس کے سر پر تھے اور اُس سینگ کی جو نکلا اور جس کے آگے تین گر گئے یعنی جس سینگ کی آنکھیں تھیں اور ایک مُنہ تھا جو بڑے گھمنڈ کی باتیں کرتا تھا اور جس کی صُورت اُس کے ساتھیوں سے زیادہ رُعب دار تھی۔
21میں نے دیکھا کہ وہی سینگ مُقدسوں سے جنگ کرتا اور اُن پر غالب آتا رہا۔
22جب تک کہ قدیم الایّام نہ آیا اور حق تعالیٰ کے مُقدسوں کا انصاف نہ کیا گیا اور وقت آنہ پُہنچا کہ مُقدس لوگ سلطنت کے مالک ہوں۔
23اُ س نے کہا کہ چوتھا حیوان دُنیا کی چوتھی سلطنت ہے جو تمام سلطنتوں سے مُختلف ہے اور تمام زمین کو نگل جائے گی اور اُسے لتاڑ کر ٹکرے ٹکرے کرے گی۔
24اور وہ دس سینگ دس بادشاہ ہے جو اس سلطنت پر برپا ہوں گے اور اُن کے بعد ایک اور برپا ہو گا اور وہ پہلوں سے مُختلف ہو گا اور تین بادشاہوں کو زیر کرے گا۔
25اور وہ حق تعالٰی کے مُقدسوں کو تنگ کرے گا اور مُقررہ اُوقات و شریعت کو بدلنے کی کوشش کرے گا اور وہ ایک دور اور دوروں اور نیم دور تک اُس کے حوالہ کئے جائیں گے۔ تب عدالت قائم ہوگی اور اُس کی سلطنت اُس سے لے لیں گے کہ اُسے ہمیشہ کے لے نیست و نابُود کریں ۔
27اور تمام آسمان کے نیچے سب مُلکوں کی سلطنت اور ممُلکت اور سلطنت کی حشمت حق تعالٰی کے مُقدس لوگوں کو بخشی جائے گی ۔ اُس کی سلطنت ابدی سلطنت ہے اور تمام مُملکتیں اُس کی خدمت گُزار اور فرما نبردار ہوں گی۔
28یہاں پر یہ امر تمام ہُوا۔ میں دانی ایل اپنے اندیشوں سے نہایت گھبرایا اور میرا چہرہ مُتغیر ہُوا لیکن میں نے یہ بات دل ہی میں رکھی۔