Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
28 verses
1دارا کو پسند آیا کہ ممُلکت پر ایک سو بیس ناظم مُقرر کرے جو تمام مملکت پر حکومت کریں۔
2اور اُن پر تین وزیر ہو جن میں سے ایک دانی اٰیل تھا تا کہ ناظم اُن کو حساب دیں اور بادشاہ خسارت نہ اُٹھائے۔
3اور چُونکہ دانی ایل میں فاضل رُوح تھی اس لئے وہ اُن وزیروں اور ناظموں پر سبقت لے گیا اور بادشاہ نے چاہا کہ اُسے تمام مُلک پر مُختار ٹھہرائے۔
4تب اُن وزیروں اور ناظموں نے چاہا کہ مُلک داری میں دانی ایل پر قصُور ثابت کریں لیکن وہ کوئی یا قصُور نہ پا سکے کیونکہ وہ دیانت دار تھا اور اُس میں کوئی خطا یا تقصیر نہ تھی۔
5تب انُہوں نے کہا کہ ہم اس دانی ایل کو اُس کے خُدا کی شریعت کے سوا کسی اور بات میں قصور وار نہ پائیں گے۔ تب اُنہوں نے کہا کہ ہم اس دانی ایل کو اُس کے خُدا کی شریعت کے سوا کسی اور بات میں قصور وار نہ پائیں گے۔
6پس یہ وزیر اور ناظم بادشاہ کے حضُور جمع ہُوئے اور اُس سے یُوں کہنے لگے کہ اے دارا بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔
7مملکت کے تمام وزیروں اور حاکموں اور ناظموں اور مُشیروں اور سرداروں نے باہم مشورت کی ہے کہ ایک خُسروانہ آئین مُقرر کریں اور ایک امتناعی فرمان جاری کریں تا کہ اے بادشاہ تیس روز تک جو کوئی تیرے سوا کسی معبُود یا آدمی سے کوئی درخواست کرے شیروں کی ماند میں ڈال دیا جائے۔
8اب اے بادشاہ اس فرمان کو قائم کر اور نوشتہ پر دستخط کرتا کہ تبدیل نہ ہو جیسے مادیوں اور فارسیوں کے آئین جو تبدیل نہیں ہوتے۔
9پس دارا بادشاہ نے اُس نوشتہ اور فرمان پر دستخط کر دے۔
10اور جب دانی ایل نے معلوم کیا کہ اُس نوشتہ پر دستخط ہو گئے تو اپنے گھر میں آیا اور اُس کی کوٹھری کا دریچہ یروشلیم کی طرف کُھلا تھا وہ دن میں تین مرتبہ حسب معمول گھنٹے ٹیک کر خُدا کے حضُور دُعا اور اُس کی شکر گُزاری کرتا رہا۔
11تب یہ لوگ جمع ہُوئے اور دیکھا کہ دانی ایل اپنے خُدا کے حضُور دُعا اور التماس کر رہا ہے ۔
12پس انُہوں نے بادشاہ کے پاس آکر اُس کے حُضور اُس کے فرمان کا یُوں ذکر کیا کہ اے بادشاہ کیا تو نے اس فرمان پر دستخط نہیں کئے کہ تیس روز تک جو کوئی تیرے سوا کسی معبُود یا آدمی سے کوئی درخواست کرے شیروں کی ماند میں ڈال دیا جائے گا؟ بادشاہ نے جواب دیا کہ مادیوں اور فارسیوں کے لا تبدیل آئین کے مُطابق یہ بات سچ ہے۔
13تب اُنہوں نے بادشاہ کے حضُور عرض کی کہ اے بادشاہ یہ دانی ایل جو یہُوداہ کے اسیروں میں سے ہے نہ تیری پروا کرتا ہے اور نہ اُس امتناعی فرمان کو جس پر تونے دستخط کئے ہیں خاطر میں لاتا ہے بلکہ ہر روز تین بار یہ دُعا کرتا ہے۔
14جب بادشاہ نے یہ باتٰیں سُنیں تو نہایت رنجیدہ ہُوا اور اُس نے دل میں چاہا کہ دانی ایل کو چُھڑائے اور سورج ڈُوبنے تک اُس کے چُھڑانے میں کوشش کرتا رہا ۔
15پھر یہ لوگ بادشاہ کے حُضور فراہم ہُوئے اور بادشاہ سے کہنے لگے کہ اے بادشاہ تو سمجھ لے کہ مادیوں اور فارسیوں کا آئین یُوں ہے کہ جو فرمان اور قانُون بادشاہ مُقرر کرے کبھی نہیں بدلتا۔
16تب بادشاہ نے حُکم دیا اور وہ دانی ایل کو لائے اور شیروں کے ماند میں ڈال دیا پر بادشاہ نے دانی ایل سے کہا تیرا خُدا جس کی تو ہمیشہ عبادت کرتا ہے تجھے چُھڑائے گا۔
17اور ایک پتھر لا کر اُس کے مُنہ پر رکھ دیا گیا اور بادشاہ نے اپنی اور اپنے امیروں کی مُہر اُس پر کر دی تا کہ وہ بات جو دانی ایل کے حق میں ٹھہرائی گئی تھی تبدیل نہ ہو۔
18تب بادشاہ اپنے قصر میں گیا اور اُس نے ساری رات فاقہ کیا اور مُوسیقی کے ساز اُس کے سامنے نہ لائے اور اُس کی نیند جاتی رہی۔
19اور بادشاہ صُبح بُہت سویرے اُٹھا اور جلدی سے شیروں کی ماند طرف چلا۔
20اور جب مان�� پر پُہنچا تو غم ناک آواز سے دانی ایل کو پُکارا۔ بادشاہ نے دانی ایل کو خطاب کر کے کہا اے دانی ایل زندہ خُدا کے بندے کیا تیرا خُدا جس کی تو ہمیشہ عبادت کرتا ہے قادر ہُوا کہ تجھے شیروں سے چُھڑائے؟۔
21تب دانی ایل نے بادشاہ سے کہا اے بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔
22میرے خُدا نے اپنے فرشتہ کو بھیجا اور شیروں کے مُنہ بند کر دے اور اُنہوں نے مُجھے ضرر نہیں پُہنچایا کیونکہ میں اُس کے حُضور بے گُناہ ثابت ہُوا اور تیرے حُضور بھی اے بادشاہ میں نے خطا نہیں کی۔
23پس بادشاہ نہایت شادمان ہُوا اور حُکم دیا کہ دانی ایل کو اُس ماند سے نکالیں ۔ پس دانی ایل اُس ماند سے نکالا گیا اور معلوم ہُوا کہ اُسے کُچھ ضرر نہیں پُہنچا کیونکہ اُس نے اپنے خُدا پر توکل کیا تھا۔
24اور بادشاہ نے حُکم دیا اور وہ اُن شخصوں کو جہنوں نے دانی ایل کی شکایت کی تھی لائے اور اُن کے بچوں اور بیویوں سمیت اُن کو شیروں کی ماند میں ڈال دیا اور شیر اُن پر غالب آے اور اس سے پیشتر کہ ماند کی تہ تک پُہنچیں شیروں نے اُن کی سب ہڈیوں توڑ ڈالیں۔
25تب دارا بادشاہ نے سب لوگوں اور قوموں اور اہل لُغت کو جو رُوی زمین پر بستے تھے نامہ لکھا۔ تمہاری سلامتی افزون ہو۔
26میں یہ فرمان جاری کرتا ہُوں کہ میری ممُلکت کے ہر ایک صُوبہ کے لوگ دانی ایل کے خُدا کے حضُور ترسان و لرزان ہوں کیونکہ وُہی زندہ خُدا ہے اور ہمیشہ قائم ہے اور اُس کی سلطنت لازوال ہے اور اُس کی ممُلکت ابد تک رہے گی۔
27وُہی چُھڑاتا اور بچاتا ہے اور آسمان اور زمین میں وہی نشان اور عجائب دکھاتا ہے اُسی نے دانی ایل کو شیروں کے پنجوں سے چُھڑایا ہے ۔
28پس یہ دانی ایل دارا کی سلطنت اور خورس فارسی کی سلطنت میں کامیاب رہا۔