Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
31 verses
1بیلطشضر بادشاہ نے اپنے ایک ہزار اُمرا کی بڑی دُھوم دھام سے ضیافت کی اور اُن کے سامنے مے نوشی کی۔
2بیلطشضر نے مے سے مسرور ہو کر حُکم کیا کہ سونے اور چاندی کے ظروف جو نبُوکدنضر اُس کا باپ یروشیلم کی ہیکل سے نکال لایا تھا لائیں تا کہ بادشاہ اور اُس کے اُمرا اور اُس کی بیویاں اور حرمیں اُن میں مے خواری کریں۔
3تب سونے کے ظروف کو جو ہیکل سے یعنی خُدا کے گھر سے جو یروشیلم میں ہے لے گئے تھے لائے اور بادشاہ اور اُس کے اُمرا اور اُس کی بیویوں اور حرموں نے مے پی۔
4اُنہوں نے مے پی اور سونے اور چاندی اور پیتل اور لوہے اور لکڑی اور پتھر کے بُتوں کی حمد کی۔
5اُسی وقت آدمی کے ہاتھوں کی اُنگلیاں ظاہر ہُوئیں اور اُنہوں نے شمعدان کے مُقابل بادشاہی محل کی دیوار کے گچ پر لکھا اوربادشاہ نے ہاتھ کا وہ حصہ جو لکھتا تھا دیکھا۔
6تب بادشاہ کے چہرہ کا رنگ اُڑ گیا اور اُس کے خیالات اُس کو پریشان کرنے لگے یہاں تک کہ اُس کی کمر کے جوڑ ڈھیلے ہو گئے اور اُس کے گُھٹنے ایک دُوسرے سے ٹکرانے لگے۔
7بادشاہ نے چلا کر کہا کہ نجُومیوں اور کسدیوں اور فال گیروں کو حاضر کریں۔ بادشاہ نے بابل کے حکیموں سے کہا کہ جو کوئی اس نوشتہ کو پڑھے اور اس کا مطلب مجھ سے بیان کرے ارغوانی خلعت پائے گا اور اُس کی گردن میں زرین طوق پہنایا جائے گا اور وہ ممُلکت میں تیسرے درجہ کا حاکم ہوگا۔
8تب بادشاہ کے تمام حکیم حاضر ہُوے لیکن نہ اُس نوشتہ کو پڑھ سکے اور نہ بادشاہ سے اُس کا مطلب بیان کر سکے۔
9تب بیلطشضر بادشاہ بُہت گھبرایا اور اُس کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا اور اُس کے اُمرا پریشان ہوگے۔
10اب بادشاہ اور اُس کے اُمرا کی باتیں سن کر بادشاہ کی والدہ جشن گاہ میں آئی اور کہنے لگی اے بادشاہ ابد تک جیتا رہ۔ تیرے خیالات تجھ کو پریشان نہ کریں اور تیرا چہرہ مُتغیرنہ ہو۔
11تیری مملکت میں ایک شخص ہے جس میں قدُوس الہٰوں کی روح ہے اور تیرے باپ کے ایّام میں نور اور دانش اور حکمت الٰہوں کی حکمت کی مانند اُس میں پائی جاتی رہی اور اُس کو نبُکدنضر بادشاہ تیرے باپ نے ساحروں اور نجومیوں اور کسدیوں اور فال گیروں کا سردار بنایا تھا۔
12کیونکہ اس میں میں ایک فاضل رُوح اور دانش اور عقل اور خوابوں کی تعبیر اور عُقدہ کشائی اور حل مُشکلات کی قُوتّ تھی۔ اُسی دانی ایل میں جس کا نام بادشاہ نے بیلطشضر رکھا تھا۔ پس دانی ایل کو بُلوا۔ وہ مطلب بتائے گا۔
13تب دانی ایل بادشاہ کے حضُور حاضر کیا گیا۔ بادشاہ نے دانی ایل سے پُوچھا کیا تو وُہی دانی ایل ہے جو یہُوداہ کے اسیروں میں سے ہے جن کو بادشاہ میرا باپ یہُوداہ سے لایا؟۔
14میں نے تیری بابت سُنا ہے کہ الٰہوں کی رُوح مجھ میں ہے اور نُور اور دانش اور کامل حکمت تجھ میں ہیں۔
15حکیم اور نجُومی میرے حضُور حاضر کئے گے تاکہ اس نوشتہ کو پڑھیں اور اس کا مطلب مجھ سے بیان کریں لیکن وہ اس کا مطلب بیان نہیں کر سکے۔
16اور میں نے تیری بابت سُنا ہے کہ تو تعبیر اور حل مُشکلات پر قادر ہے۔ پس اگر تو اس نوشتہ کو پڑھے اور اس کا مطلب مجھ سے بیان کرے تو ارغوانی خلعت پائے گا اور تیری گردن میں زرین طوق پہنایا جائے گا اور تو ممُلکت میں تیسرے درجہ کا حاکم ہو گا۔
17تب دانی ایل نے بادشاہ کو جواب دیا کہ تیرا انعام تیرے ہی پاس رہے اور اپنا صلہ کسی دُوسرے کو دے تو بھی میں بادشاہ کے لے اس نوشتہ کو پُڑھوں گا اور اس کا مطلب اس سے بیان کُروں گا۔
18اے بادشاہ خُدا تعالیٰ نے نبُدکدنضر تیرے باپ کو سلطنت اور حشمت اور شوکت اور عزت بخشی۔
19اور اس حشمت کے سبب سے جو اس نے اُسے بخشی تمام لوگ اور اُمتیں اور اہل لُغت اس کے حُضور لرزان و ترسان ہُوے۔ اُس نے جس کو چاہا ہلاک کیا اور جس کو چاہا زندہ رکھا۔ جس کو چاہا سرفراز کیا اور جس کو چاہا ذلیل کیا۔
20لیکن جب اُس کی طعبیت میں گُھمنڈ سمایا اور اُس کا دل غُرور سے سخت ہو گیا تو وہ تخت سلطنت سے اُتا دیا گیا اور اُس کی حشمت جاتی رہی۔
21اور وہ بنی آدم کے درمیان سے ہانک کر نکال دیا گیا اور اُس کا دل حیوانوں کا سا بنا اور گورخروں کے ساتھ رہنے لگا اور اسے بیلوں کی طرح گھاس کھلاتے تھے اور اُس کا بدن آسمان کی شبنم سے تر ہُوا جب تک اُس نے معلوم نہ کیا کہ خُدا تعالیٰ انسان کی ممُلکت میں حُکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُس پر قائم کرتا ہے۔
22لیکن تو اے بیلطشضر جو اُس کا بیٹا ہے باوجُودیکہ تو اس سب سے واقف تھا تو بھی تو نے اپنے دل سے عاجزی نہ کی۔
23بلکہ آسمان کے خُداوند کے حضُور اپنے آپ کو بُلند کیا اور اُس کی ہیکل کے ظروف تیرے پاس لائے اور تو نے اپنے اُمرا اور اپنی بیویوں اور حرموں کے ساتھ اُن میں مے خواری کی اور تو نے چاندی اور سونے اور پیتل اور لوہے اور لکڑی اور پتھر کے بُتوں کی حمد کی جو نہ دیکھتے اور نہ سُنتے اور نہ جانتے ہیں۔ اور اُس خُدا کی تمجید نہ کی جس کے ہاتھ میں تیرا دم ہے اور جس کے قابُو میں تیری سب راہیں ہیں۔
24پس اُس کی طرف سے ہاتھ کا وہ حصہ بھیجا گیا اور یہ نوشتہ لکھا گیا۔
25اور وہ نوشتہ یہ ہے منے منے تقیل و فرسین ۔
26اور اس کے معنی یہ ہیں منے یعنی خُدا نے تیری ممُلکت کا حساب کیا اور اُسے تمام کر ڈالا۔
27تقیل یعنی تو ترازو تولا گیا اور کم نکلا۔
28فریس یعنی تیری مملکت مُنقسم ہُوئی اور مادیوں اور فارسیوں کو دی گئی۔
29تب بیلطشضر نے حکم کیا اور دانی ایل کو ارغوانی خلعت پہنایا گیا اور زریں طوق اس کے گلے میں ڈالا گیا اور مُنادی کرائی گے کہ وہ مملکت میں تیسرے درجہ کا حاکم ہو ۔
30اُسی رات کو بیلطشضر کسدیوں کا بادشاہ قتل ہُوا۔
31اور دار مادی نے باسٹھ برس کی عُمر میں اُس کی سلطنت حاصل کی ۔