Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
37 verses
1نبُوکدنضر بادشاہ کی طرف سے تمام لوگوں اُمتوں اور اہل لُغت کے لے جو تمام رُوی زمین پر سکُونت کرتے ہیں تمہاری سلامتی افزون ہو۔
2میں نے مُناسب جانا کہ اُن نشانوں اور عجائب کو ظاہر کرُوں جو خُدا تعالیٰ نے مجھ پر آشکارا کے ہیں ۔
3اس کے نشان کیسے عظیم اور اُس کے عجائب کیسے مُہیب ہیں! اُس کی ممُلکت ابدی ممُلکت ہے اور اُس کی سلطنت پُشت در پُشت۔
4میں نبُوکدنضر اپنے گھر میں مُطمن اور اپنے قصر میں کامران تھا ۔
5میں نے ایک خواب دیکھا جس سے میں ہراسان ہو گیا اور اُن تصُورات سے جو میں نے پلنگ پر کئے اور اُن خیالوں سے جو میرے دماغ میں آے مُجھے پریشانی ہُوئی ۔
6اس لئے میں نے فرمان جاری کیا کہ بابل کے تمام حکیم میرے حضُور حاضر کئے جائیں تا کہ مجھ سے اُس خواب کی تعبیر بیان کریں۔
7چُنانچہ ساحر اور نجومی اور کسدی اور فال گیر حاضر ہُوے اور میں نے اُن سے اپنے خواب کا بیان کیا پر اُنہوں نے اُس کی تعبیر مجھ سے بیان نہ کی۔
8آخر کار دانی ایل میرے سامنے آیا جس کا نام بیلطشضر ہے جو میرے معبُود کا بھی نام ہے۔ اُس میں مُقدس الٰہوں کی رُوح ہے ۔ پس میں نے اُس کے رُوبرُو خواب کا بیان کیا اور کہا ۔
9اے بیلطشضر ساحروں کے سردار چُونکہ میں جانتا ہُوں کہ مُقدس الٰہوں کی رُوح تجھ میں ہے اور کہ کوئی راز کی بات تیرے لے مُشکل نہیں اس لے جو خواب میں نے دیکھا اُس کی کیفیت اور تعبیر بیان کر۔
10پلنگ پر میرے دماغ کی رویا یہ تھی ۔ میں نے نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہُوں کہ زمین کے وسط ایک نہایت اُونچا درخت ہے ۔
11وہ درخت بڑھا اور مُضبوط ہُوا اور اُس کی چوٹی آسمان تک پُہنچی اور وہ زمین کی انہتا تک دکھائی دینے لگا۔
12اُس کے پتے خُوش نما تھے اور میوہ فراوان تھا اور اُس میں سب کے لئے خُوراک تھی۔ میدان کے چرندے اُس کے سایہ میں اور ہوا کے پرندے اُس کی شاخوں پر بسیرا کرتے تھے اور تمام بشر نے اُس سے پرورش پائی۔
13میں نے اپنے پلنگ پر اپنی دماغی رویا پر نگاہ کی اور کیا دیکھتا ہوں کہ ایک نگہبان ہاں ایک قُدسی آسمان سے اُترا۔
14اُس نے بُلند آواز سے پُکار کر یُوں کہا کہ درخت کو کاٹو۔ اُس کی شاخیں تراشو اور اُس کے پتے جھاڑو اور اُس کا پھل بکھیر دو چندے اُس کے نیچے سے چلے جائیں اور پرندے اُس کی شاخوں پر سے اُڑ جائیں ۔
15لیکن اُس کی جڑوں کا کُندہ زمین میں باقی رہنے دو۔ ہاں لوہے اور تابنے کے بندھن سے بندھا ہُوا میدان کی ہری گھاس میں رہنے دو اور وہ آسمان کی شبنم سے تر ہو اور اُس کا حصہ زمین کی گھاس میں حیوانوں کے ساتھ ہو۔
16اُس کا دل انسان کا دل نہ رہے بلکہ اُس کو حیوان کا دل دیا جاے اور اُس پر سات رود گُزر جائیں ۔
17یہ حُکم نگہبانوں کے فیصلہ سے ہے اور یہ امر قُدسیوں کے کہنے کے مُطابق ہے تاکہ سب دی حیات پہچان لیں کہ حق تعالیٰ آدمیوں کی مملکت میں حُکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُسے دیتا ہے بلکہ آدمیوں میں سے ادنیٰ آدمیوں کی مُملکت میں حُکمرانی کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے اُسے دیتا ہے بلکہ آدمیوں میں سے آدنیٰ آدمی کو اُس پر قائم کرتا ہے۔
18میں نبُوکدنضر بادشاہ نے یہ خواب دیکھا ہے اے بیلطشضر تو اس کی تعبیر بیان کر کیونکہ میری مملکت کے تمام حکیم مجھ سے اُس کی تعبیر بیان نہیں کر سکتے لیکن تو کر سکتا ہے کیونکہ مُقدس الہٰوں کی رُوح تجھ میں مُوجود ہے۔
19تب دانی ایل جس کا نام بیلطشضر ہے ایک ساعت تک سراسیمہ رہا اور اپنے خیالات میں پریشان ہُوا۔ بادشاہ نے اُس سے کہا اے بیلطشضر خواب اور اُس کی تعبیر سے تو پریشان نہ ہو۔ بیلطشضر نے جواب دیا اے میرے خُداوند یہ خواب تجھ سے کینہ رکھنے والوں کے لے اور اُس کی تعبیر تیرے دُشمنوں کے لئے ہو۔
20وہ درخت جو تونے دیکھا کہ بڑھا اور مضبوط ہوا جس کی چوٹی آسمان تک پہُنچی اور زمین کی انتہا تک دکھائی دیتا تھا۔
21جس کے پتے خُوش نما تھے اور میوہ فراوان تھا ۔ جس میں سب کے لئے خوراک تھی۔ جس کے سایہ میں میدان کے چرندے اور شاخوں پر ہوا کے پرندے بسیرا کرتے تھے۔
22اے بادشاہ وہ تو ہی ہے جو بڑھا اور مُضبوط ہُوا کیونکہ تیری بُزرگی بڑھی اور آسمان تک پُہنچی اور تیری سلطنت زمین کی انتہا تک ۔
23اور جو بادشاہ نے دیکھا کہ ایک نگہبان ہاں ایک قُدسی آسمان سے اُترا اور کہنے لگا کہ درخت کو کاٹ ڈالو اور اُسے برباد کرو لیکن اُس کی جڑوں کا کُندہ زمین میں باقی رہنے دو بلکہ اُسے لوہے اور تابنے کے بندھن سے بندھا ہُوا میدان کی ہری گھاس میں رہنے دو کہ وہ آسمان کی شبنم سے تر ہواور جب تک اُس پر سات دور نہ گُزر جائیں اُس کا بخرہ زمین کے حیوانوں کے ساتھ ہو۔
24اے بادشاہ اس کی تعبیر اور حق تعالیٰ کا وہ حُکم جو بادشاہ میرے خُداوند کے حق میں ہُوا ہے یہی ہے۔
25کہ تجھے آدمیوں میں سے ہانک کر نکال دیں گے اور تو میدان کے حیوانوں کے ساتھ رہے گا اور تو بیل کی طرح گھاس کھائے گا اور آسمان کی شبنم سے تر ہوگا اور تجھ پر سات دور گزر جائیں گے۔ تب تجھ کو معلوم ہو گا کی حق تعالیٰ انسان کی مملُکت میں حُکمرانی کرتا ہے اور اُسے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے ۔
26اور یہ جو انُہوں نے حُکم کیا کہ درخت کی جڑوں کے کُندہ کو باقی رہنے دُو اُس کا مطلب یہ ہے کہ جب تو معلوم کر چُکے گا کہ بادشاہی کا اقتدار آسمان کی طرف سے ہے تو تو اپنی سلطنت پر پھر قائم ہو جائے گا۔
27اس لئے اے بادشاہ تیرے حُضور میری صلاح قبُول ہو اور تو اپنی خطاوں کو صداقت سے اور اپنی بدکرداری کو مسکینوں پر رحم کرنے سے دُور کر۔ مُمکن ہے کہ اس سے تیرا اطمینان زیادہ ہو۔
28یہ سب کچھ نبُوکدنضر بادشاہ پر گُزرا۔
29ایک سال کے بعد وہ بابل کے شاہی محل میں ٹہل رہا تھا۔
30بادشاہ نے فرمایا کیا یہ بابل اعظم نہیں جس کو میں نے اپنی توانائی کی قُدرت سے تعمیر کیا ہے کہ داراُلسّلطنت اور میرے جاہ و جلال کا نمونہ ہُو؟۔
31بادشاہ یہ بات کہہ ہی رہا تھا کہ آسمان سے آواز آئی کہ اے نبُوکدنضر بادشاہ تیرے حو میں یہ فتٰوی ہے کہ سلطنت تجھ سے جاتی رہی۔
32اور تجھے آدمیوں میں سے ہانک کر نکال دیں گے اور تو میدان کے حیوانوں کے ساتھ رہے گا اور بیل کی طرح گھاس کھائے گا اور سات دور تجھ پر گُزریں گے تب تجھ کو معلوم ہو گا کہ حق تعالیٰ آدمیوں کی ممُلکت میں حکمرانی کرتا ہے اور اُسے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔
33اُسی وقت نبُوکدنضر بادشاہ پر یہ بات پُوری ہُوئی اور وہ آدمیوں میں سے نکالا گیا اور بیلوں کی طرح گھاس کھاتا رہا اور اُس کا بدن آسمان کی شبنم سے تر ہُوا یہاں تک کہ اُس کے بال عُقاب کے پروں کی مانند اور اُس کے ناخن پرندوں کے چنگل کی مانند بڑھ گئے۔
34اور ان ایّام کے گُزرنے کے بعد میں نبُوکدنضر نے آسمان کی طرف آنکھیں آٹھائیں اور میری عقل مجھ میں پھر آئی اور میں نے حق تعالیٰ کا شُکر کیا اور اُس حیّ القیوم کی حمدو ثنا کی جس کی سلطنت ابدی اور جس کی مملکت پُشت در پُشت ہے۔
35اور زمین کے تمام باشندے ناچیز گنے جاتے ہیں اور وہ آسمانی لشکر اور اہل زمین کے ساتھ جو کچھ چاہتا ہے کرتا ہے اور کوئی نہیں جو اُس کا ہاتھ روک سکے یا اُس سے کہے کہ تو کیا کرتا ہے؟۔
36اُسی وقت میری عقل مجھ میں آئی اور میری سلطنے کی شوکت کے لے میرا رُعب اور دبدبہ پھر مجھ میں بحال ہو گیا اور میرے مُشیروں اور امیروں نے مُجھے پھر ڈھونڈا اور میں اپنی ممُلکت میں قائم ہُوا اور میری عظمت میں افزونی ہُوئی۔
37اب میں نبُوکدنضر آسمان کے بادشاہ کی ستائش اور تکریم و تعظیم کرتا ہُوں کیونکہ وہ اپنے کاموں میں راست اور اپنی سب راہوں میں عادل ہے اور جو مغروری میں چلتے ہیں اُن کو ذلیل کر سکتا ہے۔