Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
46 verses
1یہ وہی باتیں ہیں جو موسیٰ نے یردن کے اُس پار بیابان میں یعنی اُس میدان میں جو سوف کے مقابل اور فاران اور طوفل اور لابن اور حصیرات اور دیذہب کے درمیان ہے سب اسرائیلیوں سے کہیں ۔
2کوہِ شعیر کی راہ سے حورب سے قادس برنیع تک گیارہ دن کی منزل ہے ۔
3اور چالیسیویں برس کے گیارھویں مہینے کی پہلی تاریخ کو موسیٰ نے اُن سب احکام کے مطابق جو خداوند نے اُسے بنی اسرائیل کے لیے دیے تھے اُن سے یہ باتیں کیں ۔
4یعنی جب اُس نے اموریں کے بادشاہ سیحون کو جو حسبون میں رہا تھا مارا اور بسن کے بادشاہ عوج کو جو عستارات میں رہتا تھا اور عی میں قتل کیا۔
5تو اِس کے بعد یردن کے پار موآب کے میدان میں موسیٰ اِس شریعت کو یُوں بیان کنے لگا کہ ۔
6خُداوند ہمارے خدا کے حورب میں ہم سے یہ کہا تھا کہ تُم اِس پہاڑ پر بہت رہ چُکے ہو ۔
7سو اب پھر و اور کُوچ کرو اور اموریوں کے کوہستانی مُلک اور اُس کے آس پاس کے میدان اور پہاڑی قطعہ اور نشیب کی زمین اور جنوبی اطراف میں سمندر کے ساحل تک جو کعنانیوں کا مُلک ہے بلکہ کوہِ لُبنان اور دریای فرات تک جو ایک بڑا دریا ہے چلے جاو۔
8دیکھو میں نے اِس مُلک کو تمہارے سامنے کر دیا ہے پس جاو اور اُس مُلک کو اپنے قبضہ میں کر لو جس کی باب نمبرت خداوند تمہارے باپ دادا ابراہام اور اضحاق اور یعقوب سے قسم کھا کر یہ کہا تھا کہ وہ اُسے اُنکو اور اُنکے بعد اُنکی نسل کو دے گا ۔
9اُس وقت میں نے تُم سے کہا تھا کہ میں اکیلا تمہارا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا ۔
10خداوند تمہارے خُدا نے تُمکو بڑھایا ہے اور آج کے دن آسمان کے تاروں کی مانند تمہاری کثرت ہے ۔
11خداوند تمہارے خدا نے تُمکو اِس سے بھی ہزار چند بڑھائے اور جو وعدہ اُس نے تُم سے کیا ہے اُسکے مطابق تُمکو برکت بخشے ۔
12میں اکیلا تمہارے جنجال اور بوجھ اور جھنجٹ کا کیسے متحمل ہو سکتا ہوں؟
13سو تُم اپنے اپنے قبیلہ سے ایسے آدمیوں کو چُنو جو دانشور اور عقلمند اور مشہور ہوں اور میں اُنکو تُم پر سردار بنا دونگا ۔
14اِس کے جواب میں تُم سے مجھ سے کہا تھا کہ جو کچھ تُو نے فرمایا ہے اُسکا کرنا بہتر ہے ۔
15سو میں نے تمہارے قبیلوں کے سرداروں کو جو دانشور اور مشہور تھے لیکر اُنکو تُم پر مقرر کیا تاکہ وہ تمہارے قبیلوں کے مطابق ہزاروں کے سردار اور سینکڑوں کے سردار اور پچاس پچاس کے سردار اور دس دس کے سردار حاکم ہوں ۔
16اور اُسی موقع پر میں نے تمہارے قاضیوں سے تاکید اً یہ کہا کہ تُم اپنے بھائیوں کے مقدسوں کو سُننا پر خواہ بھائی بھائی کا معاملہ ہو یا پردیسی کا تُم اُنکا فیصلہ انصاف کے ساتھ کرنا ۔
17تمہارے فیصلہ میں کسی کی رو رعایت نہ ہو ۔ جیسے بڑےے آدمی کی بات سُنو گے ویسے ہی چھوٹے کی سُننا اور کسی آدمی کا منہ دیکھ کر ڈر نہ جانا کیونکہ یہ عدالت خدا کی ہے جو مقدمہ تمہارے لیے مُشکل ہو اُسے میرے پاس لے آنا ۔ میں اُسے سُنوں گا ۔
18اور مَیں نے اُسی وقت سب کچھ جو تُم کو کرنا ہے بتا دیا ۔
19اور ہم خداوند اپنے خدا کے حکم کے مطابق حورب سے کُوچ کر کے اُس بڑے اور ہولناک بیابان میں سے ہو کر گزرے جسے تُم نے اموریوں کے کوہستانی مُلک کے راستہ میں دیکھا ۔پھر ہم قادس برنیع میں پہنچے ۔
20وہاں میں نے تُم کو کہا کہ تُم اموریوں کے کوہستانی مُلک تک آگئے ہو جسے خداوند ہمارا خدا ہمکو دیتا ہے ۔
21دیکھ اُس مُلک کو خداوند تیرے خدا نے تیرے سامنے کر دیا ہے ۔ سو تُو جا اور جیسا خداوند تیرے باپ دادا کے خدا نے تُجھ سے کہا ہے تُو اُس پر قبضہ کر اور نہ خوف کھا نہ ہراساں ہو۔
22تب تُم سب نیرے پاس آکر مجھ سے کہنے لگے کہ ہم اپنے جانے سے پہلے وہاں آدمی بھیجیں جو جا کر ہماری خاطر اُس مُلک کا حال دریافت کریں اور آکر ہمکو بتائیں کہ ہمکو کس راہ سے وہاں سے جانا ہو گا اور کون کون سے شہر ہمارے راستہ میں پڑیں گے ۔
23یہ بات مجھے بہت پسند آئی ۔ چنانچہ میں نے قبیلہ پیچھے ایک ایک آدمی کے حساب سے بارہ آدمی چُنے۔
24اور وہ روانہ ہووئے اور پہاڑ پر چڑھ گئے اور وادیِ اِسکال میں پہنچ کر اُس مُلک کا حال دریافت کیا ۔
25اور اُس مُلک کا کچھ پھل ہاتھ میں لیکر اُسے ہمارے پاس لائے اور ہمکو یہ خبر دی کہ جو مُلک خداوند ہمارا خدا ہمکو دیتا ہے وہ اچھا ہے ۔
26تو بھی تُم وہاں جانے پر راضی نہ ہوئے بلکہ تُم نے خداوند اپنے خدا کے حکم سے سرکشی کی ۔
27اور اپنے خیموں میں کُڑکُڑانے اور کہنے لگے کہ خداوند کو ہم سے نفرت ہے اِسی لیے وہ ہمکو مُلکِ مصر سے نکال لایا تاکہ وہ ہمکو اموریوں کے ہاتھ میں گرفتار کرا دے اور وہ ہمکو ہلاک کر ڈالیں ۔
28ہم کدھر جا رہے ہیں ؟ ہمارے بھائیوں نے تو یہ بتا کر ہمارا حوصلہ توڑ دیا ہے کہ وہاں کے لوگ ہم سے بڑے بڑے اور لمبے ہیں اور یہ اُنکے شہر بڑے بڑے اور اُنکی فصلیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں ، ماسوائے اِس کے ہم نے وہاں عناقیم کی اولاد کو بھی دیکھا ۔
29تب میں نے تُمکو کہا کہ خوفزدہ مت ہو اور نہ اُن سے ڈرو ۔
30خداوند تمہارا خدا جو تمہارے آگے آگے چلتا ہے وہی تمہاری طرف سےجنگ کرے گا جیسے اُس نے تمہاری خاطر مصر میں تمہاری آنکھوں کے سامنے سب کچھ کیا ۔
31اور بیابان میں بھی تُو نے یہی دیکھا کہ جس طرح انسان اپنے بیٹے کو اُٹحائے ہوئے چلتا ہے اُسی طرح خداوند تیرا خدا تیرے اِس جگہ پہنچنے تک سارے راستے جہاں جہاں تُم گئے تمکو اُٹھائے رہا ۔
32تو بھی اِس بات میں تُم نے خداوند اپنے خدا کا یقین نہ کیا ۔
33جو راہ میں تُم سے آگے آگے تمہارے واسطے ڈیرے ڈالنے کی جگہ تلاش کرنے کے لیے رات کو آگ میں اور دن کو ابر میں ہو کر چلا تاکہ تُم کو وہ راستہ دکھائے جس سے تُم چلو ۔
34اور خداوند تمہاری باتیں سُنکر غضبناک ہوا اور اُس نے قسم کھا کر کہا کہ ۔
35اِس بڑی پُشت کے لوگوں میں سے ایک بھی اُس اچھے مُلک کو دیکھنے نہیں پائے گا جسے اُنکے باپ دادا کو دینے کی قسم مَیں نے کھائی ہے ۔
36سو ایفنہ کے بیٹے کالب کے ۔ وہ اُسے دیکھے گا اور جس زمین پر اُس نے قدم مارا ہے اُسے مَیں اُسکو اور اُسکی نسل کو دونگا اِس لیے کہ اُس نے خداوند کی پیروی پورے طور پر کی ۔
37اور تمہارے ہی سبب سے خداوند مجھ پر بھی غصہ ہوا اور یہ کہا کہ تُو بھی وہاں جانے نہ پائے گا ۔
38نون کا بیٹا یشوع جو تیرے سامنے کھڑا رہتا ہے وہاں جائے گا ۔ سو تُو اُسکی حوصلہ افزائی کر کیونکہ وہی بنی اسرائیل کو اُس مُلک کا مالک بنائے گا ۔
39اور تمہارے بال بچے جنکےبارے میں تُم نے کہا تھا کہ لُوٹ میں جائیں گے اور تمہارے لڑکے بالے جنکو آج بھلے اور بُرے کی بھی تمیز نہیں ۔ یہ وہاں جائیں گے اور یہ مُلک میں اِن ہی کو دونگا اور یہ اُس پر قبضہ کریں گے ۔
40پر تمہارے لیے یہ ہے کہ تُم لوٹو اور بحرِ قُلزم کی راہ سے بیابان میں جاو۔
41تب تُم نے مجھے جواب دیا کہ ہم نے خداوند کا گناہ کیا ہے اور اب جو کچھ خداوند ہمارے خدا نے ہمکو حک دیا ہے اُس کے مطابق ہم جائیں گے اور جنگ کریں گے ۔ سو تُم سب اپنے اپنے جنگی ہتھیار باندھ کر پہاڑ پر چڑھ جانے کو ا ٓمادہ ہو گئے ۔
42تب خداوند نے مجھ سے کہا کہ اُن سے کہہ دے کہ اوپر مت چڑھو اور نہ جنگ کرو کیونکہ میں تمہارے درمیان نہیں ہوں تا ایسا نہ ہو کہ تُم اپنے دُشمنوں سے شکست کھاو۔
43اور میں نے تُم سے کہہ بھی دیا پر تُم نے میری نہ سُنی بلکہ تُم نے خداوند کے حکم کی سرکشی کی اور شوخی سے پہاڑ پر چڑھ گئے۔
44تب اموری جو اُس پہاڑ پر رہتے تھے تمہارے مقابلہ کو نکلے اور اُنہوں نے شہد کی مکھیوں کی مانند تمہارا پیچھا کیا اور شعیر میں مارتے مارتے تُمکو حُرمہ تک پہنچا دیا ۔
45تب تُم لوٹ کر خداوند کے آگے رونے لگے پر خداوند نے تمہاری فریاد نہ سُنی اور نہ تمہاری باتوں پر کان لگایا ۔
46سو تُم قادس میں بہت دنوں تک پڑے رہے یہاں تک کہ ایک مُدت ہو گئی ۔