Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
37 verses
1اور جیسا خداوند نے مجھے حکم دیا تھا اُسکے مطابق ہم لَوٹے اور بحرِ قُلزم کی راہ سے بیابان میں آئے اور بہت دنوں تک کوہِ شعیر کے باہر باہر چلتے رہے ۔
2تب خُداوند نے مجھ سے کہا کہ ۔
3تُم اِس پہاڑ کے باہر باہر بہت چل چُکے ۔ شمال کی طرف مُڑ جاو ۔
4اور تُو اِن لوگوں کو تاکید کر دے کہ تُمکو بنی عیسو تمہارے بھائی جو شعیر میں رہتے ہیں اُنکی سرحد کے پاس سے ہو کر جانا ہے اور وہ تُم سے ہراسان ہو نگے سو تُم خُوب احتیاط رکھنا ۔
5او ر اُن کو مت چھیڑنا کیونکہ میں اُنکی زمین میں سے پاوں دھرنے تک کی جگہ بھی تُمو نہیں دونگا ۔ اِس لیے کہ میں نے کوہِ شعیر عیسو کو میراث میں دیا ہے ۔
6تُم روپے دیکر اپنے کھانے کے لیے اُن سے خورش خریدنا اور پینے کے لیے پانی بھی روپے دیکر اُن سے مول لینا ۔
7کیونکہ خداوند تیرا خُدا تیرے ہاتھ کی کمائی میں برکت دیتا رہا ہے اور اِس بڑے بیابان میں جو تیرا چلنا پھرنا ہے وہ اُسے جانتا ہے ۔ اِن چالیس برسوں میں خداوند تیرا خدا برابر تیرے ساتھ رہا اور تُجھ کو کسی چیز کی کمی نہیں ہوئی ۔
8سو ہم اپنے بھائیوں بنی عیسو کے پاس سے جو شعیر میں رہتے ہیں کترا کر میدان کی راہ سے ایلاتؔ اور عصیون جابر ہوتے ہوئے گزرے ۔ پھر ہم مُڑے اور موآب کے بیابان کے راستہ سے چلے ۔
9پھر خداوند نے مجھ سے کہا کہ موآبیوں کو نہ تو ستانا اور نہ اُن سے جنگ کرنا اِس لیے کہ میں تُجھ کو اُنکی زمین کا کوئی حصہ ملکیت کے طور پر نہیں دونگا کیونکہ میں نے عارؔ کو بنی لوط کی میراث کر دیا ہے ۔
10( وہاں پہلے ایمیم بس ہوئے تھے جو عناقیم کی مانند بڑے بڑے اور لمبے لمبے او ر شمار میں بہت تھے ۔
11اور عناقیم ہی کی طرح وہ بھی رفائم میں گنے جاتے تھے لیکن موآبی اُنکو ایمیم کہتے ہیں ۔
12اور پہلے شعیر میں حوری قوم کے لوگ بسے ہوئے تھے لیکن بنی عیسو نے اُنکو نکال دیا اور اُنکو اپنے سامنے سے نیست و نابود کر کے آپ اُنکی جگہ بس گئے جیسے اسرائیل نے اپنی میراث کے مُلک میں کِیا جسے خداوند نے اُنکو دیا )
13اب اُٹھو اور وادیِ زرد کے پار جاو ۔ چنانچہ ہم وادیِ زرد سے پار ہوئے ۔
14اور ہمارے قادس ؔ برنیع سے روانہ ہونے سے لیکر وادیِ زرد کے پار ہونے تک اڑتیس برس کا عرصہ گذرا۔ اِس اثنا میں خداوند کی قسم کے مطابق اُس پُشت کے سب جنگی مرد لشکر میں سے مر کھپ گئے ۔
15اور جب تک وہ نابود نہ ہوئے تب تک خداوند کا ہاتھ اُنکو لشکر میں سے ہلاک کرنے کو اُنکے خلاف بڑھا ہی رہا ۔
16جب سب جنگی مرد مر گئے اور قوم میں سے فنا ہو گئے ۔
17تو خداوند نے مجھ سے کہا ۔
18آج تجھے عارؔ شہرسے ہو کر موآب کی سرحد سے گذرنا ہے ۔
19اور جب تُو بنی عمون کے قریب جا پہنچے تو اُنکو مست ستانا اور نہ اُنکو چھیڑنا کیونکہ میں بنی عمون کی زمین کا کوئی حصہ تجھے میراث کے طور پر نہیں دونگا اِس لیے کہ اُسے میں نے بنی لوط کو میراث میں دیا ہے ۔
20( وہ مُلک بھی رفائیم کا گِنا جاتا تھا کیونکہ پہلے رفائیم جنکو عمونی لوگ زمزمیمؔ کہتے تھے وہاں بسے ہوئے تھے ۔
21یہ لوگ بھی عناقیم کی طرح بڑے بڑے اور لمبے لمبے اور شمار میں بہت تھے لیکن خداوند نے اُنکو عمونیوں کے سامنے سے ہلاک کیا اور وہ اُنکو نکالکر اُنکی جگہ آپ بس گئے ۔
22ٹھیک ویسے ہی جیسے اُس نے بنی عیسو کے سامنے سے جو شعیر میں رہتے تھے حوریوں کو ہلاک کیا اور وہ اُنکو نکالکر آج تک اُن ہی کی جگہ بسے ہوئے ہیں ۔
23ایسے ہی عویوں کو جو اپنی بستیوں میں غزہ تک بسے ہوئے تھے کفتوریوں ؔنے جو کفتورہ سے نکلے تھے ہلاک کیا اور اُنکی جگہ آپ بس گئے ۔
24سو اُٹھو اور وادیِ ارنون کے پار جاو ۔ دیکھو میں نے حسبون کے بادشاہ سیحون کو جو اموری ہے اُسکے مُلک سمیت تمہارے ہاتھ میں کر دیا ہے ۔ سو اُس پر قبضہ کرنا شروع کرو اور اُسے جنگ چھیڑ دو۔
25میں آج ہی سے تیرا خوف اوررعب اُن قوموں کے دل میں ڈالنا شروع کر دونگا جو رویِ زمیں پر رہتی ہیں ۔ وہ تیری سُنے گیں اور کانپیں گیں اور تیرے سبب سے بیتاب ہو جائیں گی ۔
26اور میں نے دشتِ قدیمات سے حسبون کے بادشاہ سیحون کے پاس صلح کے پیغام کے ساتھ ایلچی روانہ کئے اور کہلا بھیجا کہ ۔
27مجھے اپنے مُلک سے گذر جانے دے ۔ میں شاہراہ سے ہو کر چلونگا اور دہنے اور بائیں ہاتھ نہیں مُڑونگا ۔
28تُو روپے لیکر میرے ہاتھ میرے کھانے کے لیے خورش بیچنا اور میرے پینے کے لیے پانی بھی مجھے رو لیکر دینا ۔ فقط مجھے پاوں پاوں نکل جانے دے ۔
29جیسے بنی عیسو نے جو شعیر میں رہتے ہیں اور موآبیوں نے جو عار شہر میں بستے ہیں میرے ساتھ کیا ۔ جب تک کہ میں یردن کو عبور کر کے اُس مُلک میں پہنچ نہ جاوں جو خداوند ہمارا خُدا ہم کو دیتا ہے ۔
30لیکن حسبون کے بادشاہ سیحون نے ہمکو اپنے ہاں سے گذرنے نہ دیا کیونکہ خداوند تیرے خدا نے اُسکا مزاج کڑا اور اُسکا دل سخت کر دیا تاکہ اُسے تیرے ہاتھ میں حوالہ کر دے جیسا آج ظاہر ہے ۔
31اور خداوند نے مجھ سے کہا دیکھ میں سیحون اور اُس کے مُلک کو تیرے ہاتھ میں حوالہ کرنے کو ہوں سو تُو اُس پر قبضہ کرنا شروع کر تاکہ وہ تیری میراث ٹھہرے ۔
32تب سیحون اپنے سب آدمیوں کو لیکر ہمارے مقابلہ میں نکلا اور جنگ کرنے کے لیے یہض میں آیا ۔
33اور خداوند ہمارے خدا نے اُسے ہمارے حوالہ کر دیا اور ہم نے اُسے اُس کے بیٹوں کو اور اُس کے سب آدمیوں کو مار لیا ۔
34اور ہم نے اُسی وقت اُسکے سب شہروں کو لے لیا اور ہر آباد شہر کو عورتوں اور بچوں سمیت بالکل نابو د کر دیا اور کسی کو باقی نہ چھوڑا ۔
35لیکن چوپایوں کو اور شہروں کے مال کو جو ہمارے ہاتھ لگا لُوٹ کر ہم نے اپنے لیے رکھ لیا ۔
36اور عروعیر سے جو وادی ارنون کے کنارے ہے اور اُس شہر سے جو وادی میں ہے جلعاد تک ایسا کوئی شہر نہ تھا جسکو سر کرنا ہمارے لیے مُشکل ہوا ۔ خداوند ہمارے خدا نے سب کو ہمارے قبضہ میں کر دیا ۔
37لیکن بنی عمون کے مُلک کے نزدیک اور دریایِ یبوق کی نواحی اور کوہستان کے شہروں میں اور جہاں جہاں خداوند ہمارے خدا نے ہمو منع کیا تھا تُو نہیں گیا ۔