Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
30 verses
1اور موسیٰ نے جا کر یہ باتیں سب اسرائیلیوں کو سُنائیں ۔
2اور اُنکو کہا کہ میں تو آج کے دن ایک سو بیس برس کا ہوں ۔ میں اب چل پھر نہیں سکتا اور خداوند نے مجھ سے کہا ہے کہ تُو اِس یردن پار نہیں جائے گا ۔
3سو خداوند تیرا خدا ہی تیرے آگے آگے پار جا۴ے گا اور وہی اُن قوموں کو تیرے آگے سے فنا کرے گا اور تُو اُنکا وارث ہو گا اور جیسا خداوند نے کہا ہے کہ یشوع تیرے آگے آگے پار جائے گا ۔
4اور خداوند اُن سے وہی کرے گا جو اُس نے اموریوں کے بادشاہ سیحون اور عوج اور اُنکے ملک سے کیا کہ اُنکو فنا کر ڈالا ۔
5اور خداوند اُنکو تُم سے شکست دلا۴ے گا اور تُم اُن سے اُن کے سب حکموں کے مطابق پیش آناجو میں نے تُم کو دیے ہیں ۔
6تو مضبو ط ہو جا اور حوصلہ رکھ ۔ مت ڈر اور نہ اُن سے خوف کھاکیونکہ خداوند تیرا خدا خود ہی تیرے ساتھ جاتا ہے ۔ وہ تجھ سے دست بردار نہیں ہو گا اور نہ تجھ کو چھوڑے گا ۔
7پھر موسیٰ نے یشوع کو بُلا کر سب اسرائیلیوں کے سامنے اُس سے کہا کہ تُو مضبوط ہو جا اور حو صلہ رکھ کیونکہ تُو اِس قوم کے ساتھ اُس ملک میں جا۴ے گا جسکو خداوند نے اُنکے باپ دادا سے قسم کھا کر دینے کو کہا تھا اور تُو اُنکو اُسکا وارث بنائے گا ۔
8اور خداوند ہی تیرے آگے آگے چلے گا ۔ وہ تیرے ساتھ رہے گا ۔ وہ تجھ سے دستبردار نہ ہو گا نہ تجھے چھوڑے گا سو تُو خوف نہ کر اور بے دل نہ ہو ۔
9اور موسیٰ نے اِس شریعت کو لکھ کر اُسے کاہنوں کے جو بنی لاوی اور خداوند کے رہد کے صندوق کے اُٹھانے والے تھے اور اسرائیل کے سب بزرگوں کے سپرد کیا ۔
10پھر موسیٰ نے اُنکو یہ حکم دیا کہ ہر سات برس کے آخر میں چھٹکارے کے سال کے معین وقت پر عید خیام میں ۔
11جب سب اسرائیلی خداوند تیرے خدا کے حضور اُس جگہ آکر حاضر ہوں جسے وہ خود چُنے گا تو تُو اِس شریعت کو پڑھ کر سب اسرائیلیوں کو سُنانا ۔
12تو سب لوگوں کو یعنی مردوں اور عورتوں اور بچوں اور اپنی بستیوں کے مسافروں کو جمع کرنا تاکہ وہ سُنں اور سیکھیں اور خداوند تمہارے خد ا کا خوف مانیں اور ا،س شریعت کی سب باتوں پر احتیاط رکھ کر عمل کریں ۔
13اور اُنکے لڑکے جنکو کچھ معلوم نہیں وہ بھی سُنیں اور جب تک تُم اُس ملک میں جیتے رہو جس پر قبضہ کرنے کو تُم یردن پار جاتے ہو تب تک وہ برابر خداوند تمہارے خدا کا خوف ماننا سیکھیں ۔
14پھر خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ دیکھ تیرے مرنے کے دن آ پہنچے ۔ سو تُو یشو ع کو بُلا کے اور تُم دونوں خیمہ اجتماع میں حاضر ہو جاو تاکہ میں اُسے ہدایت کروں ۔ چنانچہ موسیٰ اور یشوع روانہ ہو کر خیمہ اجتماع میں حاضر ہوئے ۔
15اور خداوند ابر کے ستون میں ہو کر خیمہ میں نمودار ہوا اور ابر کا ستون خیمہ کے دروازہ پر ٹھہر گیا ۔
16تب خداوند نے موسیٰ سے کہا دیکھ تُو اپنے باپ دادا کے ساتھ سو جائے گا اور یہ لوگ اُٹھ کر اُس ملک کے اجنبی دیوتاوں کی پیروی میں جنکے بیچ وہ جا کر رہیں گے زنا کار اہو جائیں گے اور مجھ کو چھوڑ دیں گے اور اُس عہد کو جو میں نے اُنکے ساتھ باندھا ہے توڑ ڈالیں گے ۔
17تب اُس وقت میرا قہر اُن پر بھڑکے گا اور میں اُنکو چھوڑ دونگا اور اُن سے اپنا منہ چھپا لونگا اور وہ نگل لیے جائیں گے اور بہت سی بلائیں اور مصیبتیں اُن پر آئیں گی چنانچہ وہ اُس دن کہیں گے کیا ہم پر یہ بلائیں اِسی سبب سے نہیں آئیں کہ ہمارا خدا ہمارے درمیان نہیں ؟
18اُس وقت اُن سب بدیوں کے سبب سے جو اور معبودوں کی طرف مائل ہو کر اُنہوں نے کی ہونگی میں ضرور اپنا منہ چھپا لونگا ۔
19سو تُم یہ گیت اپنے لیے لکھ لو اور تُو اُسے بنی اسرائیل کو سکھانا اور اُنکو حفظ کرا دینا تاکہ یہ گیت بنی اسرائیل کے خلاف میرا گواہ رہے ۔
20اِس لیے کہ جب میں اُنکو اُس ملک میں جسکی قسم میں نے اُنکے باپ دادا سے کھا۴ی اور جہاں دودھ اور شہد بہتا ہے پہنچا دونگا اور وہ خوب کھا کھا کر موٹے ہو جائیں گے تب وہ اور معبودوں کی طرف پھر جائیں گے اور اُنکی عبادت کریں گے اور مجھے حقیر جانیں گے اور میرے عہد کو توڑ ڈالیں گے ۔
21اور یوں ہو گا کہ جب بہت سی بلائیں اور مصیبتیں اُن پر آئیں گی تو یہ گیت گواہ کی طرح اُن پر شہادت دے گا اِس لیے کہ اِسے اِنکی اولاد کبھی نہیں بھولیگی کیونکہ اِس وقت بھی اُنکو اُس ملک میں پہنچانے سے پیشتر جسکی قسم میں نے کھائی ہے میں اُنکے خیال کو جس میں رہ ہیں جانتا ہوں ۔
22سو موسیٰ نے اُسی دن اِس گیت کو لکھ لیا اور اُسے بنی اسرائیل کو سکھایا ۔
23اور اُس نے نون کے بیٹے یشوع کو ہدایت کی اور کہا مضبوط ہو جا اور حوصلہ رکھ کیونکہ تُو بنی اسرائیل کو اُس ملک میں لے جائے گا جس کی قسم میں نے اُن سے کھائی تھی اور میں تیرے ساتھ رہونگا ۔
24اور ایسا ہوا کہ جب موسیٰ اِس شریعت کی باتوں کو ایک کتاب میں لکھ چُکا اور وہ ختم ہو گئیں ۔
25تو موسیٰ نے لاویوں سے جو خداوند کے عہد کے صندوق کو اُٹھایا کرتے تھے کہا کہ ۔
26اِس شریعت کی کتاب کو لیکر خداوند اپنے خدا کے عہد کے صندوق کے پاس رکھ دو تاکہ وہ تیرے بر خلاف گواہ رہے ۔
27کیونکہ میں تیری بغاوت اور گردن کشی کو جانتا ہوں ۔ دیکھو ابھی تو میرے جیتے جی تُم خداوند سے بغاوت کرتے رہے ہو تو میرے مرنے کے بعد کتنا زیادہ نہ کرو گے ؟
28تُم اپنے قبیلوں کے سب بزرگوں اور منصبداروں کو میرے پاس جمع کرو تاکہ میں یہ باتیں اُنکے کانوں میں ڈال دوں اور آسمان اور زمین کو اُنکے بر خلاف گواہ بناوں ۔
29کیونکہ میں جانتا ہوں کہ میرے مرنے کے بعد تُم اپنے آپ بگاڑ لو گے اور اپس طریقی سے جسکا میں نے تُم کو حکم دیا ہے پھر جاو گے ۔ تب آخری ایام میں تُم پر آفت ٹوٹے گی کیونکہ تُم اپنی کرنیوں سے خداوند کو غصہ دلانے کے لیے وہ کام کرو گے جو اُسکی نظر میں بُرا ہے ۔
30سو موسیٰ نےاِس گیت کی باتیں اسرائیل کی ساری جماعت کو آخر تک کہہ سُنا ئیں ۔