Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
52 verses
1کان لگاواے آسمانو ! اور میں بولونگا اور زمی میرے منہ کی باتیں سُنے ۔
2میری تعلیم مینہ کی طرح برسے گی ۔ میری تقریری شبنم کی مانند ٹپکے گی جیسے نرم گھاس پر پھوآر پڑتی ہو اور سبزی پر جھڑیاں ۔
3کیونکہ میں خداوند کے نام کا اشتہار دونگا۔ تُم ہمارے خدا کی تعظیم کرو ۔
4وہ وہی چٹان ہے ۔ اُسکی صنعت کامل ہے کیونکہ اُسکی سب راہیں انصا ف کی ہیں وہ وفادار خدا اور بدی سے مبرا ہے ۔ وہ منصف اور بر حق ہے ۔
5یہ لوگ اُسکے ساتھ بُری طرح پیش آئے ۔ یہ اُسکے فرزند نہیں ۔ یہ اُنکا عیب ہے ۔ یہ سب کجرو اور ٹیڑھی نسل ہیں ۔
6کیا تُم اے بے وقوف اور کم عقل لوگو ! اِس طرح خداوند کو بدلہ دو گے ؟ کیا وہ تمہارا باپ نہیں جس نے تُم کو خریدا ہے ؟ اُس ہی نے تُم کو بنایا اور قیام بخشا ۔
7قدیم ایام کو یاد کرو ۔ نسل در نسل کے برسوں پر غور کرو ۔ اپنے باپ سے پوچھو ۔ وہ تمکو بتائے گا ۔ بزرگوں سے سوال کرو ۔ وہ تُم کو بیان کریں گے ۔
8جب حق تعالیٰ نے قوموں کو میراث بانٹی اور بنی آدم کو جُدا جُدا کیا تو اُس نے قوموں کی سرحدیں بنی اسرائیل کے شمار کے مطابق ٹھہرائیں ۔
9کیونکہ خدوند کا حصہ اُسی کے لوگ ہیں ۔ یعقوب اُسکی میراث کا قرعہ ہے ۔
10وہ خداوند کو ویرانے اور سونے ہولناک بیابان میں ملا ۔ خداوند اُکے چوگرد رہا ۔ اُس نے اُسکی خبر لی اور اُسے اپنی اانکھ کی پُتلی کی طرح رکھا ۔
11جیسے عقاب اپنے گھونسلے کو ہلا ہلا کر اپنے بچوں کو منڈلاتا ہے ویسے ہی اُس نے اپنے بازووں کو پھیلایا اور اُنکو لیکر اپنے پروں پر اُٹھا لیا ۔
12قفط خداوند ہی نے اُنکی راہبری کی اور اُسکے ساتھ کوئی اجنبی معبود نہ تھا ۔
13اُس نے اُسے زمین کی اونچی اونچی جگہوں پر سوار کرایا اور اُس نے کھیت کی پیداوار دکھائی ۔ اُس نے اُسے چٹان میں سے شہر اور سنگ خارا میں سے تیل چُسایا۔
14اور گایوں کا مکھن اور بھیڑ بکریوں کا دودھ اور بروں کی چربی اور بسنی نسل کے مینڈھے اور بکرے اور خالص گیہوں کا آٹا بھی ۔ اور تُو انگور کے خالص رس کی مَے پیا کرتا تھا ۔
15لیکن یسورن موٹا ہو کر لاتیں مارنے لگا تُو موٹا ہو کر لدھڑ ہو گیا ہے اور تجھ پر چربی چھا گئی ہے تب اُس نے خداوند کو جس نے اُسے بنایا چھوڑ دی اور اپنی نجات کی چٹان کی حقارت کی۔
16اُنہوں نے اجنبی معبودوں کے باعث اُسے غیرت اور مکروہات سے اُسے غصہ دلایا ۔
17اُنہوں نے جناب کے لیے جو خدا نہ تھے بلکہ ایسے دیوتاوں کے لیے جن سے وہ واقف نہ تھے یعنی نئے نئے دیوتاوں کے لیے جو حال ہی میں ظاہر ہوئے تھے جن سے اُنکے باپ دادا کبھی ڈر ے نہیں قُربانی کی ۔
18تُو اپس چٹان سے غافل ہو گیا جس نے تجھے پیدا کیا تھا تُو خدا کو بھول گیا جس نے تجھے خلق کیا ۔
19خداوند نے یہ دیکھ کر اُن سے نفرت کی کیونکہ اُس کے بیٹوں اور بیٹیوں نے اُسے غصہ دلایا ۔
20تب اُس نے کہا میں اپنا منہ اُن سے چھپا لونگا اور دیکھونگا کہ اُن کا انجا م کیسا ہو گا کیونکہ وہ گردن کش نسل اور بے وفا اولا د ہیں ۔
21اُنہوں نے اُس چیز کے باعث جو خدا نہیں مجھے غی��ت اور اپنی باطل باتوں سے مجھے غصہ دلایا ۔ سو میں بھی اُنکے ذریعہ سے جو کوئی امت نہیں اُنکو غیرت اور ایک نادان قوم کے ذریعہ سے اُنکو غصہ دلاونگا ۔
22اِس لیے کہ میرے غصہ کے مارے آگ بھڑک اُٹھی ہے جو پاتال کی تہ تک جلتی جائے گی اور زمین کو اُسکی پیداوار سمیت بھسم کر دے گی او ر پہاڑوں کی بنیادوں میں آگ لگا دے گی ۔
23میں اُن پر آفتوں کا ڈھیر لگاونگا اور اپنے تیروں کو ان پر ختم کرونگا ۔
24وہ بھوک کے مارے گھُل جائیں گے اور شدید حرارت اور سخت ہلاکت کا لقمہ ہو جائیں گے اور میں اُن پر درندوں کے دانت اور زمین پر کے سرکنے والے کیڑوں کا زہر چھوڑ دونگا ۔
25باہر وہ تلوار سے مریں گے اور کوٹھڑیوں کے اندر خوف سے جوان مرد اور کنواریاں دودھ پیتے بچے اور پکے بال والے سب یوں ہی ہلاک ہونگے ۔
26میں نے ہا میں اُنکو دور دور پراگندہ کر دونگا اور اپنکا تذکرہ نوع بشر میں سے مٹا ڈالونگا ۔
27پر مجھے دُشمن کی چھیڑ چھاڑ کا اندیشہ تھا کہ کہیں مخالف اُلٹا سمجھ کر یوں نہ کہنے لگیں کہ ہمارے ہی ہاتھ بالا ہیں اور یہ سب خداوند سے نہیں ہوا
28وہ ایک ایسی قوم ہیں جو مصلحت سے خالی ہو اُن میں کچھ سمجھ نہیں ۔
29کاش وہ عقلمند ہو تے کہ اِسکو سمجھے اور اپنی عاقبت پر غور کرتے !
30کیونکہ ایک آدمی ہزار کا پیچھا کرتا اور دو آدمی دس ہزار کو بھگا دیتے اگر اُنکی چٹان ہی اُن کو بیچ نہ دیتی اور خداوند ہی اُنکو حوالہ نہ کرتا ؟
31کیونکہ اُنکی چٹان ایسی نہیں جیسی ہماری چٹان ہے ۔ خواہ ہمارے دشمن ہی کیوں نہ منصف ہوں ۔
32کیونکہ اُنکی تاک سدوم کی تاکوں میں سے اور عمورہ کے کھیتوں کی ہے اُنکے انگور ہلاہل کے بنے ہوئے ہیں اور اُنکے گچھے کڑوے ہیں ۔
33اُنکی مَے اژدہاوں کا بس اور کالے ناگوں کا زہر قاتل ہے ۔
34کیا یہ میرے خزانوں میں سر بہ مہر ہو کر بھرا نہیں پڑا ہے ؟
35اُس وقت جب اُن کے پاوں پھسلیں تو انتقام لینا اور بدلہ دینا میرا کام ہو گا کیونکہ اُنکی آفت کا دن نزدیک ہے اور جو حادثے اُن پر گذرے ہیں وہ جلد آئیں گے ۔
36کیونکہ خداوند اپنے لوگوں کا انصاف کرے گا اور اپنے بندوں پر ترس کھائے گا جب وہ دیکھے گا کہ اُنکی قوت جاتی رہی اور کوئی بھی ۔ نہ قیدی اور نہ آزاد ۔ باقی بچا۔
37اور وہ کہے گا اُنکے دیوتا کہاں ہیں ؟ وہ چٹان کہاں جس پر اُنکا بھروسا تھا ۔
38جو اُنکے ذبیحوں کی چربی کھاتے اور اُنکے تپاون کی مَے پیتے تھے ؟ وہی اُٹھ کر تمہاری مدد کریں ۔ وہی تمہاری پناہ ہوں ۔
39سو اب تُم دیکھ لو کہ میں ہی وہ ہوں اور میرے ساتھ کوئی دیوتا نہیں ۔ میں ہی مار ڈالتا اور میں ہی جلاتا ہوں ۔ میں ہی زخمی کرتا اور میں ہی چنگا کرتا ہوں اور کوئی نہیں جو میرے ہاتھ سے چھڑائے۔
40کیونکہ میں اپنا ہاتھ آسمان کی طرف اُٹھا کر کہتا ہوں کہ چونکہ میں ابدلآباد زندہ ہوں ۔
41اِس لیے اگر میں اپنی جھلکتی تلوار کو تیز کروں اور عدالت کو اپنے ہاتھ میں لے لوں تو اپنے مخالفوں سے انتقام لونگا ۔ اور اپنے کینہ رکھنے والوں کو بدلہ دونگا ۔
42میں اپنے تیروں کو خون پلا پلا کر مست کر دونگا اور میری تلوار گوشت کھائے گی ۔ وہ خون مقتولوں اور اسیروں کا اور وہ گوشت دشمنوں کے سردارو کے سر کا ہو گا ۔
43اے قومو ! اُسکے لوگوں کے ساتھ خوشی مناو کیونکہ وہ اپنے بندوں کے خون کا انتقام لے گا اور اپنے مخالفوں کو بدلہ دے گا اور اپنے ملک اور لوگوں کے لیے کفارہ دے گا ۔
44تب موسیٰ او ر نون کے بیٹے ہوسیع نے آکر اِس گیت کی سب باتیں لوگوں کو کہہ سُنائیں ۔
45اور جب موسیٰ یہ سب باتیں سب اسرائیلیوں کو سُنا چُکا ۔
46تو اُس نے اُن سے کہا کہ جو باتیں میں نے تم سے آج کے دن بیان کی ہیں اُن سب سے تُم دل لگا نا اور اپنے لڑکو کو حکم دینا کہ وہ احتیاط رکھ کر اِس شریعت کی سب باتوں پر عمل کریں ۔
47کیونکہ یہ تمہارے لیے کوئی بے سود بات نہیں بلکہ یہ تمہاری زندگانی ہے اور اِسی سے اُس ملک میں جہاں تُم یردن پار جا رہے ہو کہ اُس پر قبضہ کرو تمہاری عمر دراز ہو گی ۔
48اور اُسی دن خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ
49تُو اِس کوہ عباریم پر چڑھ کر نبو کی چوٹی کو جا ھو یرحیو کے مقابل مُلک موآب میں ہے اور کعنا ن کے ملک کو جسے میں میراث کے طور پر بنی اسرائیل کو دیتا ہوں دیکھ لے ۔
50اور اُسی پہاڑ پر جہاں تُو جائے وفات پا کر اپنے لوگوں میں شامل ہو جیسے تیرا بھائی ہارون ہور کے پہاڑ پر مرا او ر اپنے لوگوں میں جا مِلا ۔
51اِس لیے کہ تُم دونوں نے بنی اسرائیل کے درمیان دشت صین کے قادس میں مریبہ کے چشمہ پر میرا گناہ کیا کیونکہ تُم نے بنی اسرائیل کے درمیان میری تقدیس نہ کی ۔
52سو تُو اُس ملک کو اپنے آگے دیکھ لے گا لیکن تُو وہاں اُس ملک میں جو مں بنی اسرائیل کو دیتا ہوں جانے نہ پائے گا ۔