Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
18 verses
1شاہ یروشیلم داود کے بیٹے واعظ کی باتیں۔
2باطل ہی باطل واعظ کہتا ہے باطل ہی باطل۔ سب کچھ باطل ہے۔
3انسان کو اس ساری محنت سے جو وہ دُنیا میں کرتا ہے کیا حاصل ہے۔
4ایک پُشت جاتی ہے اور دُوسری پُشت آتی ہے پر زمین ہمیشہ قائم رہتی ہے۔
5سُورج نکلتا ہے اور سورج ڈھلتا بھی ہے اور اپنے طُلوع کی جگہ کو جلد چلا جاتا ہے۔
6ہوا جنوب کی طرف چلی جاتی ہے اور چکر کھا کر شمال کی طرف پھرتی ہے۔ یہ سدا چکر مارتی ہے اور اپنی گشت کے مُطابق دورہ کرتی ہے۔
7سب ندیاں سمندر میں گرتی ہیں پر سمندر بھر نہیں جاتا۔ ندیاں جہاں سے نکلتی ہیں اُدھر ہی کو پھر جاتی ہیں۔
8سب چیزیں ماندگی سے پُر ہیں۔ آدمی اس کا بیان نہیں کر سکتا آنکھ دیکھنے سے آسُودہ نہیں ہوتی اور کان سُننے سے نہیں بھرتا۔
9جو ہُوا وُہی پھر ہو گا اور جو چیز بن چُکی ہے وہی ہے جو بنائی جائے گی اور دُنیا میں کوئی چیز نئی نہیں۔
10کیا کوئی چیز ایسی ہے جس کی بابت کہا جاتا ہے کہ دیکھو یہ تو نئی ہے؟ وہ تو سابق میں ہم سے پیشتر کے زمانوں میں موجود تھی۔
11اگلوں کی کوئی یادگار نہیں اور آنے والوں کی اپنے بعد کے لوگوں کے درمیان کوئی یاد نہ ہو گی۔
12میں واعظ یُروشیلم میں بنی اسرائیل کا بادشاہ تھا۔
13اور میں نے اپنا دل لگایا کہ جو کُچھ آسمان کے نیچے کیا جاتا ہے اُس سب کی تفتیش و تحقیق کُروں ۔ خُدا نے بنی آدم کو یہ سخت دُکھ دیا ہے کہ وہ مشقت میں مُبتلا رہیں۔
14میں نے سب کاموں پر جو دُنیا میں کئے جاتے ہیں نظر کی اور دیکھو یہ سب کچھ بُطلان اور ہوا کی چران ہے ۔
15وہ جو ٹیڑھا ہے سیدھا نہیں ہو سکتا اور ناقص کا شُمار نہیں ہو سکتا۔
16میں نے یہ بات اپنے دل میں کہی دیکھ میں نے بڑی ترقی کی بلکہ اُن سبھوں سے جو مجھ سے پہلے یُروشلیم میں تھے زیادہ حکمت حاصل کی۔ ہاں میرا دل حکمت اور دانش میں بڑا کاردان ہُوا۔
17لیکن جب میں نے حکمت کے جاننے اور حماقت و جہالت کے سمجھنے پر دل لگایا تو معلوم کیا کہ یہ بھی ہوا کی چران ہے۔
18کیونکہ بُہت حکمت میں بُہت غم ہے اور علم میں ترقی دُکھ کی فروانی ہے۔