Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
26 verses
1میں نے اپنے دل سے کہا آ میں تجھ کو خُوشی میں آزماوں گا۔ سو عشرت کر لے۔ لو یہ بھی بُطلان ہے۔
2میں نے ہنسی کو دیوانہ کہا اور شادمانی کے بارے میں کہا اس سے کیا حاصل؟۔
3میں نے دل میں سوچا کہ جسم کو مے نوشی سے کیوں کر تازہ کُروں اور اپنے دل کو حکمت کی طرف مائل رکھوں اور کیوں کر حماقت کو پکڑے رہُوں جب تک معلوم کُروں کہ بنی آدم کی بہُبودی کس بات میں ہے کہ وہ آسمان کے نیچے عُمر بھر یہی کیا کریں۔
4میں نے بڑے بڑے کام کئے ۔ میں نے اپنے لئے عمارتیں بنائیں اور میں نے اپنے لے تاکستان لگائے۔
5میں نے اپنے لے باغیچے اور باغ تیار کئے اور اُن میں ہر قسم کے میوہ دار درخت لگائے۔
6میں نے اپنے لے تالاب بناے کہ اُن میں سے باغ کے درختوں کا ذخیرہ سینچوں۔
7میں نے غلامُوں اوت لُونڈیوں کو خریدا اور نوکر چا کر میرے گھر میں پیدا ہُوئے اور جتنے مجھ سے پہلے یُروشلیم میں تھے اُن سے کہیں زیادہ گائے بُیل اور بھیڑیوں کا مالک تھا۔
8میں نے سونااور چاندی اور بادشاہوں اور صوبوں کا خاص خزانہ اپنے لے جمع کیا۔ میں نے گانے والوں اور گانے والیوں کو رکھا اور بنی آدم کے اسباب عیش یعنی لونڈیوں کو اپنے لے کثرت سے فراہم کیا۔
9سو میں بزرگ ہُوا اور اُن سبھوں سے جو مجھ سے پہلے یروشلیم میں تھے زیادہ بڑھ گیا۔ میری حکمت بھی مجھ سے قائم رہی۔
10اور سب کچھ جو میری آنکھیں چاہتی تھیں میں نے اُن سے باز نہ رکھا ۔ میں نے اپنے دل کو کسی طرح کی خُوشی سے نہ روکا کیونکہ میرا دل میری ساری محنت سے شادمان ہوا اور میری ساری محنت سے میرا بخرہ یہی تھا۔
11پھر میں نے ان سب کاموں پر جو میرے ہاتھوں نے کئے تھے اور اُس مشقت پر جو میں نے کام کرنے میں کھینچی تھی نظر کی اور دیکھا کہ سب بُطلان اور ہوا کی چران ہے اور دُنیا میں کُچھ فائدہ نہیں ۔
12اور میں حکمت اور دیوانگی اور حماقت کے دیکھنے پر متوجہ ہوا۔ کیونکہ وہ شخص جو بادشاہ کے بعد آئے گا کیا کرے گا؟ وہی جو چلا آتا ہے۔
13اور میں نے دیکھا کہ جیسی روشنی کو تاریکی پر فضیلت ہے ویسی ہی حکمت حماقت سے افضل ہے ۔
14دانشور اپنی آنکھیں اپنے سر میں رکھتا ہے پر احمق اندھیرے میں چلتا ہے۔ تو بھی میں جان گیا کہ ایک ہی حادثہ اُن سب پر گُزرتا ہے۔
15تب میں نے دل میں کہا جیسا احمق پر حادثہ ہوتا ہے ویسا ہی مجھ پر بھی ہو گا۔ پھر میں کیوں زیادہ دانشور ہُوا؟ سو میں نے دل میں کہا کہ یہ بھی بُطلان ہے۔
16کیونکہ نہ دانشوار اور نہ احمق کی یادگار ابد تک رہے گی۔ اس لے کہ آنے والے دنوں میں سب کچھ فراموش ہو چُلے گا اور دانشور کیوں کر احمق کی طرح مرتا ہے!۔
17پس میں زندگی سے بیزار ہُوا کیونکہ جو کام دُنیا میں کیا جاتا ہے مُجھے بُہت بُرا معلوم ہُوا کیونکہ سب بُطلان اور ہوا کی چران ہے۔
18بلکہ میں اپنی ساری محنت سے جو دُنیا میں کی تھی بیزار ہُوا کیونکہ ضُرور ہے کہ میں اُسے اُس آدمی کے لے جو میرے بعد آئے گا چھوڑ جاوں ۔
19اور کون جانتا ہے کہ وہ دانشور ہو گا یا احمق؟ بہر حال وہ میری ساری محنت کے کام پر جو میں نے کیا اور جس میں میں نے دُنیا میں اپنی حکمت ظاہر کی ضابط ہو گا۔ یہ بھی بُطلان ہے۔
20تب میں نے پھر ا کہ اپنے دل کو اُس سارے کام سے جو میں نے دُنیا میں کیا تھا نا اُمید کُروں ۔
21کیونکہ ایسا شخص بھی ہے جس کےکام حکمت اور دانائی اور کامیابی کے ساتھ ہیں لیکن وہ اُن کو دوسرے آدمی کے لے جس نے اُن میں کچھ محنت نہیں کی اُس کی میراث کے لے چھوڑ جائے گا۔ یہ بھی بُطلان اور بلای عظیم ہے۔
22کیونکہ آدمی کو اُس کی ساری مشقت اور جانفشانی سے جو اُس نے دُنیا میں کی کیا حاصل ہے؟۔
23کیونکہ اُس کے لے عُمر بھر غم ہے اور اُس کی محنت ماتم ہے بلکہ اُس کا دل رات کو بھی آرام نہیں پاتا۔ یہ بھی بُطلان ہے۔
24پس انسان کے لے اس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ کھائے اور اپنے اور اپنی ساری محنت کے درمیان خُوش ہو کر اپنا جی بہلاے۔ میں نے دیکھا کہ یہ بھی خُدا کے ہاتھ سے ہے۔
25اس لے کہ مجھ سے زیادہ کون کھا سکتا اور کون مزہ اُڑا سکتا ہے؟۔
26کیونکہ وہ اُس آدمی کو جو اُس کے حضور میں اچھا ہے حکمت اور دانائی اور خُوشی بخشتا ہے لیکن گُہنگار کو زحمت دیتا ہے کہ وہ جمع کرے اور انبار لگائے تاکہ اُسے دے جو خُدا کا پسندیدہ ہے۔ یہ بھی بُطلان اور ہوا کی چران ہے۔