Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
32 verses
1اب بارھویں مہینے یعنی ادار مہینے کی تیرھویں تاریخ کو جب بادشاہ کے حکم اور فرمان پر عمل کرنے کا وقتنزدیک آیا اور اس دن یہودیوں کے دشمنوں کو ان پر غالب ہونے کی امید تھی حالانکہ برعکس اسکے یہ ہوا کہ یہودیوں نے اپنے نفرت کرنے والوں پر غلبہ پایا۔
2تو اخسویرس بادشاہ کے سب صوبوں کے یہودی اپنے اپنے شہر میں اکٹھے ہوئے کہ ان پر جو انکا نقصان چاہتے تھے ہاتھ چلائیں اور کوئی آدمی انکا سامنا نہ کر سکا کیونکہ انکا خوف سب قوموں پر چھا گیا تھا۔
3اور صوبوں کے سب امیروں اور نوابوں اور حاکموں اور بادشاہ کے کار گذاروں نے یہودیوں کی مدد کی اسلئے کہ مردکی کا رعب ان پر چھاگیا تھا۔
4کیونکہ مردکی شاہی محل میں معزز تھا اور سب صوبوں میں اسکی شہرت پھیل گئی تھی اسلئے کہ یہ مرد یعنی مردکی بڑھتا چلاگیا۔
5اور یہودیوں نے اپنے سب دشمنوں کو تلوار کی دھات سے کاٹ ڈالا اور قتل اور ہلاک کیا اور اپنے نفرت کرنے والوں سےجوچاہا کیا۔
6اور قصر سوسن میں یہودیوں نے پانچسو آدمیوں کو قتل اور ہلاک کیا۔
7اور پرشنداتا اور لفون اور اسپاتا۔
8اور پورتا اور ادلیاہ اور اردتا۔
9اور پرمشتا اور اریسی اور اردی اور ویزاتا۔
10یعنی یہودیوں کے دشمن ہامن بن ہمداتا کے دسوں بیٹوں کو انہوں ے قتل کیا پرلوٹ پر انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا۔
11اسی دن ان لوگوں کا شمار جو قصر سوسن میں قتل ہوئے بادشاہ کے حضور پہنچایا گیا۔
12اور بادشاہ نے آستر ملکہ سے کہا یہودیوں نے قصر سوسن ہی میں پانسو آدمیوں اور ہامان کے دسوں بیٹوں کو قتل اور ہلاک کیا ہے تو بادشاہ کے باقی صوبوں میں انہوں نے کیا کچھنہ کیا ہوگا؟اب تیرا کیا سوال ہے؟وہ منظور ہوگااور تیری اور کیا درخواست ہے؟ وہ پوری کی جائیگی۔
13آستر نے کہا اگر بادشاہ کو منظور ہو تو ان یہودیوں کو جو سوسن میں ہیں اجازت ملے کہ آج کے فرمان کے موافق کل بھی کریں اور ہامان کے دسوں بیٹے سولی پر چڑھائے جائیں۔
14سو بادشاہ نے حکم دیا کہ ایسا ہی کیا جائے اور سوسن میں اس فرمان کا اعلان کیا گیا اور ہامان کے دسوں بیٹوں کو انہوں نے ناٹک دیان۔
15اور وہ یہودی جو سوسن میں رہتے تھے اور مہینے کی چودھویں تاریخ کو اکٹھے ہوئے اور انہوں نے سوسن میں تین سو آدمیوں کو قتل کیا پر لوٹ کے مال کو ہاتھ نہ لگایا۔
16اور باقی یہودی جو بادشاہ کے صوبوں میں رہتے تھے اکٹھے ہو کر اپنی اپنی جان بچانے کے لئے مقابلہ کو اڑ گئے اور اپنے دشمنوں سے آرام پایا اور اپنے نفرت کرنے والوں میں سے پچھتر ہزار کو قتل کیا پر لوٹ پر انہوں نے ہاتھ نہ بڑھایا۔
17یہ ادار مہینے کی تیرھویں تاریخ تھی اور اسیکی چودھویں تاریخ کو انہوں نے آرام کیا اور اسے ضیافت اور خوشی کا دن ٹھہرایا۔
18پر وہ یہودی جو سوسن میں تھے اسکی تیرھویں اور چودھویں تاریخ کو اکٹھے ہوئے اور اسکی پندرھویں تاریخ کو آرام کیا اور اسے ضیافت اور خوشی کا دن ٹھہرایا۔
19اسلئے دیہاتی یہودی جو بے فصیل بستیوں میں رہتے ہیں ادار مہینے کی چودھویں تاریخ کو شادمانی اور ضیافت کا اور خوشی کا اور ایک دوسرے کو تحفے بھیجنے کا دن مانتے ہیں
20اور مردکی نے یہ سب احوال لکھکر ان یہودیوں کو جو اخسویرس بادشاہ کے سب صبوں میں کیا نزدیک کیا دور رہتے تھے خط بھیجے۔
21تا کہ انکو تاکید کرے کہ وہ ادار مہینے کی چودھویں تاریخ کو اور اسی کی پندرھویں کو سال بسال۔
22ایسے دنوں کی طرح مانیں جن میں یہودیوں کو اپنے دشمنوں سے چین ملا اور وہ مہینے انکے لئے غم سے شادمانی میں اور ماتم سے خوشی کے دن میں مبدل ہوا اسلئے وہ انکو ضیافت اور خوشی اور آپس میں تحفے بھیجنے اور غریبوں کو خیرات دینے کے دن ٹھہرائیں۔
23یہودیوں نے جیسا شروع کی�� تھا اور جیسا مردکی نے انکو لکھا تھا ویسا ہی کرنے کا ذمہ لیا۔
24کیونکہ اجاجی ہمداتا کے بیٹے ہامان سب یہودیوں کے دشمن نے یہودیوں کے خلاف ان کو ہلاک کرنے کی تدبیرکی تھی اور اس نے پور یعنی قرعہ ڈالا تھا کہ ان کو نابود اور ہلاک کرے۔
25پر جب وہ معاملہبادشاہ کے سامنے پیش ہوا تو اس نے خطوں کے ذریعہ سےحکم کیا کہ وہ بری تجویز جو اس نے یہودیوں کے بر خلاف کی تھی الٹی اس ہی کے سر پر پڑے اور وہ اور اس کے بیٹے سولی پر چڑھائے جائیں۔
26اس لئے انہوں نے ان دنوں کو پور کے نام کے سبب سے پوریم کہا سو اس خط کی سب باتوں کے سبب سے اور جو کچھ انہوں نے اس معاملہ میں خود دیکھا تھا اور جو ان پر گزرا تھا اس کے سبب سے بھی
27یہودیوں نے ٹھہرا دیا اور اپنے اوپر اور اپنی نسل کے لئے اور ان سبھوں کے لئے جو ان کے ساتھ مل گئے تھے ان ذمہ لیا تاکہ بات اٹل ہو جائے کہ وہ اس خط کی تحریر کے مطابق ہر سال ان دونوں دنوں کو مقرر ہ وقت پر مانینگے۔
28اور یہ دن پشت در پشت ہر خاندان اور صبح اور شہر میں یاد رکھے اور مانے جائیں گے ۔اور پوریم کے دن یہودیوں میں کبھی موقوف نہ ہونگے اور نہ یادگار ان کی نسل سے جاتی رہے گی۔
29اور ابیخیل کی بیٹی آستر ملکہ اور یہودی مردکی نے پوریم کے باب کے خط پر زور دینے کے لئے پورے اخیتار سے لکھا ۔
30اور اس نے سلامتی اور سچائی کی باتیں لکھ کر اخسویرس کی مملکت کے ایک سو ستائیں صوبوں میں سب یہودیوں کے پاس خط بھیجے۔
31تاکہ پویم کے ان دنوں کو ان کے مقرر وقت کے لئے برقرار کرےجیسا یہودی مردکی اور آستر ملکہ نے ان کو حکم کیا تھااور جیسا انہوں نے اپنے اور اپنی نسل کے لئے روزہ رکھنے اور ماتم کرنے کے بارے میں ٹھہرایا تھا۔
32اور آستر کے حکم سے پوریم کی ان رسموں کی تصدیق ہوئی اور یہ کتاب میں لکھ لیا گیا۔