Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
31 verses
1اور خُداوند نے موسیٰ سے فرمایا ۔کہ
2بنی اسرائیل کو حُکم دے کے وہ لَوٹکر مجدال اور سُمندر کے بیچ فی ہخیروت کے مُقابل لعبل صفون کے آگے ڈیرے لگایئں ۔ اُسی کے آگے سُمندر کے کنارے کنارے ڈیرے لگانا ۔
3فِرعون بنی اسرائیل کے خق میں کہے گا کہ وہ زمین کی اُلجھنوں میں آکر بیابان میں گِھر گئے ہیں ۔
4اور مَیں فِرعون کے دل کو سخت کرونگا اور وہ اُن کا پیچھا کریگا اور مَیں فِرعون اور اُس کے سارے لشکر پر ممُتاز ہونگا اور مصری جان لینگے کہ خداوند مَیں ہوں اور اُنہوں نے ایسا ہی کیا ۔
5جب مصر کے بادشاہ کو خبر ملی کہ وہ لوگ چل دئے تو فِرعون اور اُس کے خادموں کا دل اُن لوگوں کی طرف سے پھر گیا اور وہ کہنے لگے کہ ہم نے یہ کیا کیا کہ اسرائیلیوں کواپنی خدمت سے چُھٹی دے کر اُن کو جانے دیا ۔
6تب اُس نے اپنا رتھ تیار کروایا اور اپنی قوم کے لوگوں کو ساتھ لیا ۔
7اور اُس نے چھے سو چُنے ہو ئے رتھ بلکہ مصر کے سب رتھ لیے اور ان سبھوں میں سرداروں کو بٹھایا۔
8اور خداوند نے مصر کے بادشاہ فرعون کے دل کو سخت کر دیا اور اُس نے بنی اسرائیل کا پیچھا کیا کیو نکہ بنی اسرائیل بڑے فخر سے نکلے تھے۔
9اور مصری فوج نے فرعون کے سب گھوڑوں اور رتھوں اور سواروں سمت اُن کا پیچھا کیا اور اُن کو جب وہ سمندر کے کنارے فی ہخیروت کے پاس بغل صفون کے سامنے ڈیرا لگا رہے تھے جا لیا ۔
10اور جب فرعون نزدیک آ گیا تب بنی اسرائیل نے آنکھ اُٹھا کر دِیکھا کہ مصری اُن کا پیچھا کیے چلے آتے ہیں اور وہ نہایت خوف ذدہ ہو گئے تب بنی اسرائیل نے خداوند سے فریاد کی ۔
11اور موسیٰ سے کہنے لگے کیا مصر میں قبریں نہ تھیں جو تُو ہم کو وہاں سے مرنے کے لئے بیا بان میں لے آیا ہے ، تُو نے ہم سے یہ کیا کیا کہ ہم کو مصر سے نکال لایا ۔
12کیا ہم تُجھ سے مصر میں یہ بات نہ کہتے تھے کہ ہم کو رہنے دے کہ ہم مصریوں کی خدمت کریں ؟ کیونکہ ہمارے لئے مصریوں کی خدمت کرنا بیابان میں مرنے سے بہتر ہو تا ۔
13تب موسیٰ نے لوگوں سے کہا ڈرو مت چُپ چاپ کھٹر ے ہو کر خداوند کی نجات کے کام کو دِیکھو جو وہ آج تُمہارے لئے کریگا کیو نکہ جن مصریوں کو تم آج دِیکھتے ہو اُن کو پھر کبھی ابدتک نہ دِیکھوگے ۔
14خداوند تمہاری طرف سے جنگ کریگا اور تم خاموش رہوگے ۔
15اور خداوند نے ماسیٰ سے کہا کہ تُو کیوں مُجھ سے فریاد کر رہا ہے ؟ بنی اسرائیل سے کہہ کہ وہ آگے بڑھیں ۔
16اور تُو اپنی لاٹھی اُٹھا کر اپنا ہاتھ سمندر کے اُوپر بڑھا اور اُسے دو حصے کر اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چل کر نکل جائینگے ۔
17اور دِیکھ مَیں مصریوں کے دل سخت کر دونگا اور وہ اُن کا پیچھا کریں گے اور مَیں فرعون اور اُس کی سپاہ اور اُس کے رتھوں اور سواروں پر ممتاز ہونگا ۔
18اور جب مَیں فرعون اور اُسکے رتھوں اور سواروں پر ممتاز ہو جائونگا تو مصری جان لینگے کہ مَیں ہی خداوند ہوں ۔
19اور خدا کا فرشتہ جو اسرائیلی لشکرکے آگے آگے چلا کرتا تھا جا کر اُن کے پیچھے ہو گیا اور بادل کا ستون اُن کے سامنے سے ہٹکر اُنکے پیچھے جا ٹھہرا ۔
20یُوں وہ مصریوں کے لشکر اور اسرائیلی لشکر کے بیچ میں ہو گیا ۔ سو وہاں بادل بھی تھا اور اندھیرا بھی تو بھی رات کو اُس سے روشنی رہی۔ پس وہ رات بھر ایک دُوسرے کے پاس نہیں آئے ۔
21پھر موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اوپر بڑھایا اور خداوند نے رات بھر تُندپُوربی آندھی چلا کر اور سمندر کو پیچھے ہٹا کر اُسے خشک زمین بنا دیا اور پانی دوحصے ہو گیا ۔
22اور بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چلکر نکل گئے اور اُنکے دہنے اور بائیں ہاتھ پانی دیوار کی طرح تھا ۔
23اور مصریوں نے تعاقُب کیا اور فرعون کے سب گھوڑے اور رتھ اور سوار اُنکے پیچھے پیچھے سمندر کے بیچ میں چلے گئے ۔
24اور رات کے پچھلے پہر خداوند نے آگ اور بادل کے ستون میں سے مصریوں کے لشکر پر نظرکی اور اُنکے لشکر کو گھبرا دیا ۔
25اور اُس نے اُنکے رتھوں کے پہیوں کو نکال ڈالا ۔ سو اُنکا چلانا مُشکل ہو گیا ۔ تب مصڑی کہنے لگے آؤ ہم اسرائیلیوں کے سامنے سے بھاگیں کیو نکہ خداوند اُنکی طرف سے مصریوں کے ساتھ جنگ کرتا ہے ۔
26اور خاوند نے ماسیٰ سے کہا کہ اپنا ہاتھ سمندر کے اُوپر بڑھا تاکہ پانی مصریوں اور اُنکے رتھوں اور سواروں پر پھر بہنے لگے ۔
27اور موسیٰ نے اپنا ہاتھ سمندر کے اُوپر بڑھایا اور صبح ہوتے ہو تے سمندر پھر اپنی اصلی قُّوت پر آ گیا اور مصری اُلٹے بھاگنے لگے ساور خداوند نے سمندر کے بیچ ہی میں مصریوں کو تہ وبالا کر دیا ۔
28اور پانی پلٹ کر آیا اور اُس نے رتھوں اور سواروں اور فرعون کے سارے لشکر کو جو اسرائیلیوں کا پیچھا کرتا ہوا سمندر میں گیا تھا غرق کر دیا اور ایک بھی اُن میں سے باقی نہ چُھو ٹا ۔
29پر بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں سے خشک زمین پر چلکر نکل گئے اور پانی اُنکے دہنے اور بایئں ہاتھ دیوار کی طرح رہا ۔
30سو خداوند نے اُس دن اسرائیلیوں کو مصریوں کے ہاتھ سے اِس طرح بچایا اور اسائیلیوں نے مصریوں کو سمندر کے کنارے مرے ہوئے پڑے دِیکھا ۔
31اور اسرائیلیوں نے وہ بڑی قدرت جو خداوند نے مصریوں پر ظاہر کی دِیکھی اور وہ لوگ خداوند سے ڈرے اور خداوند پر اور اُسکے بندہ موسیٰ پر ایمان لائے ۔