Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
22 verses
1اور موسیٰ اپنے سُسر یترو کی جو مِدیان کا کاہن تھا بھیڑ بکریاں چراتا تھا اور وہ بھیڑ بکریوں کو ہنکاتا ہو ا اُنکو بیابان کی پرلی طرف سے خدا کے پہاڑ کے نزدیک کے آیا ۔
2اور خداوند کا ایک فرشتہ جھاڑی میں سے آک کے شُعلہ میں اُس پر ظاہر ہو ۔ اُس نے نگا ہ کی اور کیا دیکھتا ہے کہ ایک جھاڑی میں آگ لگی ہو ئی ہے پر وہ جھاڑی بھسم نہیں ہو تی ۔
3تب موسیٰ نے کہا کہ میں اب ذرا اُدھر کترا کر اس بڑے منظر کو دیکھوں کہ یہ جھاڑی کیو ں نہیں جل جاتی ہے۔
4جب خداوند نے دِیکھا کہ وہ دیکھنے کو کترا کر آر ہا ہے تو خدا نے اُسے جھاڑی میں سے پُکارا اور کہا اے موسیٰ!اے موسیٰ !اُس نے کہا میں حاضر ہوں ۔
5تب اُس نے کہا کہ اِدھر پاس مت آ ۔ اپنے پاوں سے جوتا اُتار کیونکہ جس جگہ تُو کھڑا ہے وہ مقدس زمین ہے ۔
6پھر اُس نے کہا کہ میں تیرے باپ کا خدا یعنی ابرہام کا خدا اور اضحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں ۔موسیٰ نے اپنا مُنہ چھپایا کیونکہ وہ خدا پر نطر کرنے سے ڈرتا تھا ۔
7اور خداوند نے کہا کہ میں نے اپنے لوگوں کی تکلیف جو مصر میں ہیں خُوب دِیکھی اور اُنکہ فریاد جو بیگار لینے والوں کے سبب سے ہے سُنی اور میں اُن کے دُکھوں کو جانتا ہو ں ۔
8اور میں اُترا ہو ں کے اُن کو مصریوں کے ہاتھ سے چُھڑاوں اور اُس مُلک سے نکال کر اُنکو ایک اچھے اور وسیع مُلک میں جہاں دُودھ اور شہد بہتا ہے یعنی کنعانیوں اور حتیوں اور اموریوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کے مُلک میں پہنچاوں ۔
9دِیکھ بنی اسرائیل کی فریاد مُجھ تک پہنچی ہے اور میں نے وہ ظلم بھی جو مصر ی اُن پر کرتے ہیں دِیکھا ہے ۔
10سواب آمیں تجھے فرعون کے پاس بھیجتا ہو ں کہ تُو میری قوم بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لائے ۔
11موسیٰ نے خدا سے کہا میں کون ہوں جوفرعون کے پاس جاوں اور بنی اسرائیل کو مصر سے نکال لاو ں ؟۔
12اُس نے کہا میں ضرور تیر ے ساتھ رہونگا اور اِسکا کہ میں نے تُجھے بھیجا ہے تیرے لئے یہ نشان ہو گا کہ جب تُو اُن لوگوں کو مصر سے نکال لائیگا تو تُم اِس پہاڑ پر خدا کی عبادت کرو گے۔
13تب موسیٰ نے خدا سے کہا جب میں بنی اسرائیل کے پاس جا کر اُنکو کہوں کہ تمہارے باپ دادا کے خدا نے مجھے تُمہارے پاس بھیجا ہے اور وہ مجھے کہیں کہ اُس کا نام کیا ہے ؟ تو میں اُنکو کیا بتاوں ؟۔
14خدا نے موسیٰ سے کہا میں جو ہو ں سو میں ہوں ۔ سو تُو بنی اسرائیل سے یو ں کہنا کہ میں جو ہو ں نے مجھے تُمہارے پاس بھیجا ہے ۔
15پھر خدا نے موسیٰ سے کہا کہ تُوبنی اسرائیل سے یوں کہنا کہ خدا وند تُمہارے باپ دادا کے خدا ابرہام کے خدا اور اضحاق کے خدا اور یعقوب کے خدا نے مُجھے تُمہارے پاس بھیجا ہے ۔ ابد تک میرا یہی نام ہے اور سب نسلوں میں اِسی سے میرا ذکر ہو گا ۔
16جا کر اسرائیلی بزرگوں ایک جگہ جمع کر اور اُنکو کہہ کہ خداوند تُمہارے باپ دادا کے خدا ابرہام اور اضحاق اور یعقوب کے خدا نے مُجھے دِکھائی دے کر یہ کہا ہے کہ میں نے تُمکو بھی اور جو کُچھ برتاو تُمہارے ساتھ مصر میں کیا جا رہا ہے اُسے بھی خُوب دِیکھا ہے ۔
17اور میں نے کہا ہے کہ میں تُمکو مصر کے دُکھ میں سے نکال کر کنعانیوں اور حتیوں اور اموریوں اور فرزیوں اور حویوں اور یبوسیوں کے مُلک میں لےچُلونگا جہاں دُودھ اور شہد بہتا ہے ۔
18اور وہ رتیر ی بات مائینگے اور تُو اِسرائیلی بزرگوں کو ساتھ لے کر مصر کے بادشاہ کے پاس جانا اور اُس سے کہنا کہ خداوند عبرانیوں کے خد اکی ہم سے ملاقات ہوئی ۔ اب تو ہم کو تین دِن کی منزل تک بیابان میں جانے دے تاکہ ہم خداوند اپنے خدا کے لئے قُربانی کریں ۔
19اور میں جانتا ہو ں کہ مصر کا بادشاہ تُمکو نہ یوں جانے دے گا نہ بڑے زور سے ۔
20سو میں اپنا ہاتھ بڑھاو نگا اور مصر کو اُن سب عجائب سے جو مین اُس میں کرونگا مُصیبت میں ڈالوونگا ۔ اِسکے بعد وہ تُم کو جانے دیگا ۔
21اور مِیں اُن لوگوں کو مصریوں کی نظر میں عزت بخشونگا اور یو ں ہو گا کہ جب تم نکلو گے تو خالی ہاتھ نہ نکلو گے ۔
22بلکہ تُمہاری ایک ایک عورت اپنی اپنی پڑوسن سے اور اپنے اپنے گھر کی مہمان سونے چاندی کے زیور اور لباس مانگ لیگی ۔ اِنکو تم اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کو پہناو گے اور مصریو ں کو لُوٹ لو گے