Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
31 verses
1تب موسیٰ نے جواب دیا لیکن وہ تو میرا یقین ہی نہیں کرنیگے نہ میری بات سُنینگے ۔وہ کہے گے خداوند تُجھے دِکھائی نہیں دیا ۔
2اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ یہ تیر ے ہاتھ میں کیا ہے ؟اُس نے کہا لاٹھی ۔
3پھر اُس نے کہا کہ اِسے زمین پر ڈال دے اُس نے اُسے زمین پر ڈالا اور وہ سانپ بن گئی اور موسٰ اُس کے سامنے سے بھا گا ۔
4تب خداوند نے موسیٰ سے کہا ہاتھ بڑھا کر اُسکی دم پکڑ لے (اُس نے ہاتھ بڑھایا اور اُسے پکڑلیا ۔ وہ اُس کے ہاتھ میں لا ٹھی بن گیا )۔
5تاکہ وہ یقین کریں کہ خداوند اُن کے با پ دادا کا خدا ابرہام کا خدا اور یعقوب کا خدا تُجھکو دِکھائی دِیا ۔
6پھر خداوند نے اُسے یہ بھی کہا کہ تُو اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھکر ڈھانک لے ۔ اُس نے اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لیا اور جب اُس نے اُسے نکالکر دِیکھا تو اُس کا ہاتھ کوڑھ سے برف کی مانند سفید تھا ۔
7اُس نے کہا کہ تُو اپنا ہاتھ پھر اپنے سینہ پر ر کھ کر ڈھانک لے ( اُس نے پھر اُسے سینہ پر رکھ کر ڈھانک لیا ۔ جب اُس نے اُسے باہر نکال کر دِکھا تو وہ پھر اُسے باقی جسم کی مانند ہو گیا )۔
8اور یو ں ہو گا کہ اگر وہ تیرا یقین نہ کر یں اور پہلے مُعجزہ کو بھی نہ مانیں تو وہ دُوسرے مُعجزے کے سبب سے یقین کر نیگے ۔
9اور اگر وہ اِن دونوں مُعجزوں کے سبب سے یقین نہ کریں اور تیر ی بات نہ سُنیں توتُو دریا کا پانی لے کر خشک جگہ پر چھڑک دِینا اور وہ پانی جو تُو دریا سے لے گا خشک زمین پر خُون ہو جائیگا ۔
10تب موسیٰ نے خداوند سے کہا اے خداوند ! میں فصیح نہیں ۔ نہ تو پہلے ہی تھا اور نہ جب سے تُو نے اپنے بند ے سے کلام کیا بلکہ رُک رُک کر بولتا ہو ں اور میر ی زبان کُندہے ۔
11تب خدا وند نے اُسے کہا کہ آدمی کا مُنہ کس نے بنایا ہے ؟ اور کون گونگا یا بہرا یا بینایا اندھا کر تا ہے ؟ کیا میں ہی جو خداوند ہو ں یہ نہیں کرتا ؟۔
12سو اب تُو جا اور میں تیری زبان کا ذمہ لیتا ہو ن اور تجھے سیکھا تا رہونگا کہ تُو کیا کیا کہے ۔
13تب اُس نے کہا کہ اے خدا وند میں تیری منت کرتا ہو ں کسی اور کے ہاتھ سے جِسے تُو چاہے یہ پیغام بھیج ۔
14تب خداوند کا قہر موسیٰ پر بھڑکا اور اُس نے کہا کیا لادیو ں میں سے ہارون تیرا بھائی نہیں ہے ؟ میں جانتا ہوں کہ وہ فصیح ہے اور وہ تیری ملاقات کو بھی آ رہا ہے اور تجھے دِیکھ کر دل میں خو ش ہو گا ۔
15سو تُو اُسے سب کُچھ بتانا اور یہ سب با تیں اُ سے سکھاتا اور میںتیر ی اوراُس زبان کا ذمہ لیتا ہو ں اور تمکو سکھاتا رہونگا کہ تم کیا کیا کرو ۔
16اور وہ تیری طرف سے لوگوں سے باتیں کریگا اور وہ تیرا مُنہ بنیگا اور تُو اُ س کے لئے گویا خدا ہو گا ۔
17اور تُو اِس لاٹھی کو اپنے ہاتھ میں لئے جا اور اِسی سے اِن مُعجزوں کو دِکھانا ۔
18تب موسٰی لوٹ کر اپنے سُسر یترو کے پاس گیا اور اُس سے کہا کہ مجھےذرا اِجازت دے کہ اپنےبھایئوں کے پاس جو مصر میں ہیں جا وں اور دیکھوں کہ وہ اب تک جیتے ہیں کہ نہیں ۔ یترو ��ے موسیٰ سے کہا سلامت جا۔
19اور خداوند نے مِدیان میں موسیٰ سے کہا کہ مصر کو لوٹ جا کیونکہ وہ سب جو تیری جان کے خواہاں تھے مر گئے ۔
20تب موسیٰ اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں کو لےکر اور اُنکو ایک گدھے پر چڑھا کر مصر کو لوٹا اور موسیٰ نے خدا کی لاٹھی اپنے ہاتھ میں لے لی ۔
21اور خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ جب تُو مصر میں پہنچے تو دیکھ وہ سب کرامات جو میں نے تیرے ہاتھ میں رکھی ہیں فِرعون کے آگے دِکھا نا لیکن میں اُس کے دل کو سخت کرونگا اور وہ اُن لوگوں کو جا نے نہیں دیگا ۔
22اور تُو فِرعون سے کہنا کہ خداوند یوں فرماتا ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا بلکہ میرا پہلوٹھا ہے ۔
23اور میں تُجھے کہہ چکا ہو ں کہ میرے بیٹے کو جانے دے تاکہ وہ میری عبادت کریں اور تُو نے اب تک اُسے جانے دینے سے انکار کیا ہے ۔ سو دیکھ میں تیرے بیٹے کوبلکہ تیرے پہلوٹھے کو مار ڈالونگا ۔
24اور راستہ میں منزل پر خداوند اُسے مِلا اور چاہا کہ اِسے مار ڈالے ۔
25تب صفورہ نے چقمق کا ایک پتھر لے کر اپنے بیٹے کی کھلڑی کاٹ ڈالی اور اُسے موسیٰ کے پاوں پر پھینک کر کہا تُو بیشک میرے لئے خُونی دُلہا ٹھہرا ۔
26تب اُس نے اُسے چھوڑ دیا ۔ پس اُس نے کہا کہ ختنہ کے سبب سے تُو خُونی دُلہا ہے ۔
27اور خداوند نے ہارُون سے کہا کہ بیابان میں جا کر موسیٰ سے مُلا قات کر ۔ وہ گیا اور خدا کے پہاڑ پر اُس سے مِلا اور اُسے بوسہ دیا ۔
28اور موسیٰ نے ہارُون کو بتا یا کہ خدا نے کیا کیا با تیں کہہ کر اُسے بھیجا اور کون کون سے مُعجزے دِکھانے کا اُسے حُکم د یا ہے ۔
29تب موسیٰ اور ہارُون نے جا کر بنی اسرائیل کے سب بزرگوں کو ایک جگہ جمع کیا ۔
30اور ہارُون نے سب باتیں جو خداوند نے موسیٰ سے کہی تھین اُن کو بتائیں اور لوگوں کے سامنے مُعجزے کئے ۔
31تب لوگوں نے اُن کا یقین کیا اور یہ سُن کر خداوند نے بنی اسرائیل کی خبر لی اور اُنکے دُکھوں پر نظر کی اُنہوں نے اپنے سر جُھکا کر سجدہ کیا ۔