Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
23 verses
1اِس کے بعد موسیٰ اور ہارُون نے جا کر فِرعون سے کہا کہ خداوند اِسرائیل کا خدا یُوں فرماتا ہے کہ میرے لوگو ں کو جانے دے تاکہ وہ بیابان میں میرے لئے عید کریں ۔
2فِرعون نے کہ خداوند کون ہے کہ میں اُسکی بات کو مان کر بنی اِسرائیل کو جانے دُوں ؟میں خداوند کو نہیں جانتا اور میں بنی اسرئیل کو جانے بھی نہیں دُونگا ۔
3تب اُنہوں نے کہا کہ عبرانیوں کا خدا ہم سے ملا ہے سو ہم کو اجازت دے کہ ہم تین دن کی منزل بیابان میں جا کر خداوند اپنے خدا کے لئے قُربانی کریں تانہ ہو کہ وہ ہم میں وبا بھیج دے یا ہمکو تلوار سے مروا دے۔
4تب مصر کے بادشاہ نے اُن کو کہا اے موسیٰ اور ہارون تم کیوں اُن لوگوں کو اُن کے کام سے چھڑواتے ہو؟تم جاکر اپنے اپنے بوجھ کو اُٹھائو۔
5اور فرعون نے یہ بھی کہا دیکھو یہ لوگ اس ملک میں بہت ہو گے ہیں اور تم اُن کو اُن کے کام سے بٹھاتے ہو۔
6اور اُسی دن فرعون بیگار لینے والوں اور سرداروں کو جو لوگوں پر تھے حکم کیا۔
7کہ اب اگے کو تم اُن لوگوں کو اینٹیں بنانے کےلئے بھُس نہ دیناجیسے اب تک دیتے رہے۔وہ خود ہی جا کر اپنے لئے بُھس بٹوریں۔
8اور اُن سے اُتنی ہی اینٹیں بنوانا جتنی وہ اب تک بناتے آئے ہیں۔تم اُس میں سے کچھ نہ گھٹانا کیونکہ وہ کاہل ہو گئے ہیں۔اسی لئے چلا چلا کر کہتے ہیں کہ ہم کو جانے دوکہ ہم اپنے خدا کے لئے قربانی کریں۔
9سو ان سے زیادہ سخت محنت لی جائے تا کہ کام میں مشغُول رہےاور جھوٹی باتوں سے دل نہ لگائیں۔
10تب بیگار لینے والوں اور سرداروں نے جو لوگوں پر تھے جا کر اُن سے کہا کہ فرعون کہتا ہےمیں تم کو بھُس نہیں دینے کا۔
11تم خود ہی جائو اور جہاں کہیں تم کو بھُس ملے وہاں سے لائو کیونکہ تمارا کام کچھ بھی گھٹایا نہیں جائے گا۔
12چنانچہ وہ لوگ تمام مصر میں مارے مارے پھرنے لگے کہ بھُس کے عوض کُھونٹی جمع کریں۔
13اور ایک بیگار لینے والے یہ کہہ کر جلدی کراتے تھے کہ تم اپنا روز کا کام جیسے بُھس پا کر کرتے تھے اب بھی کرو۔
14اور بنی اسرائیل میں سے جو جو فرُعون کے بیگار لینے والوں کی طرف سے اُن لوگوں پر سردار مقرر ہوے تھے اُن پر مار پڑی اور اُن سے پوچھا گیا کہ کیا سبب ہے کہ تم نے پہلے کی طرح آج اور کل پوری پوری اینٹیں نہیں بنوائیں۔
15تب اُن سرداروں نے جو بنی اسرائیل میں سے مقرر ہوے تھے فرُعون کے آگے جا کر فریاد کی اور کہا کہ تُو اپنے خادموں سے ایسا سلوک کیوں کر تا ہے۔
16تیرے خادموں کوبھُس تو دیا نہیں جاتا اور وہ ہم سے کہتے رہتے ہیں کہ اینٹیں بنائواور دیکھ تیرے خادم مار بھی کھاتے ہیں پر قصور تیرے لوگوں کا ہے ۔
17اُس نے کہا تم سب کاہل ہوکاہل۔ اسی لئے تم کہتے ہو کہ ہم کو جانے دے کہ خداوند کے لئے قربانی کریں۔
18سو اب تم جاو کام کرو کیونکہ بُھس تم کو ملے گااور اینٹوں کو تمہیں اسی حساب سے دینا پڑے گا ۔
19جب بنی اسرائیل کہ سرداروں سے یہ کہا گیا کہ تم اپنی اینٹوں اور روزمرہّ کہ کام میں کچھ بھی کمی نہیں کرنے پائو گے تو وہ جان گئے کہ وہ کیسے وبال میں پھنسے ہوئے ہیں۔
20جب وہ فرعون کے پاس سے نکلے آ رہے تھے تو اُنکو موسیٰ اور ہارون ملاقات کےلئے راستہ پر کھڑے ملے۔
21تب اُنھوں نے اُن سے کہہ کہ خداوند ہی دیکھےاور تمہارا انصاف کرے کیونکہ تم نےہم کو فرُعون اور اُس کے خادموں کی نگاہ میں ایسا گھِنونا کیا ہے کہ ہمارے قتل کے لئے اُن کے ہاتھ میں تلوار دے دی ہے۔
22تب موسیٰ خداوند کے پاس لوٹ کر گیا اورکہا کہ اے خداوند تُو نے اُن لوگوں کو کیوں دُکھ میں ڈالا اور مجھے کیو ں بھیجا۔
23کیو نکہ جب سے میں فرُعون کے پاس تیر ے نام سے باتیں کرنے گیا اُس نے اُن لوگوں سے برائی ہی برائی کی اور تُو نے اپنے لوگوں کو ذرا بھی رہائی نہ بخشی ۔