Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
30 verses
1تب خداوند نے موسیٰ سے کہا کہ اب تُو دِیکھیےگا کہ میں فِرعون کے ساتھ کیا کرتا ہوں ۔ تب وہ زور آور ہاتھ کے سبب سے اُنکو جانے دِیگا اور زورآور ہاتھ ہی کے سبب سے وہ اُنکو اپنے مُلک سے نکال دے گا ۔
2پھر خدا نے موسیٰ سے کہا میں خداوند ہوں ۔
3اور میں ابرہام اور اضحاق اور یعقوب کو خدا یِ قادرِمُطلق کے طور پر دِکھائی دیا لیکن اپنے یہوواہ نام سے اُن پر ظاہر نہ ہو ا ۔
4اور میں نے اُن کے ساتھ اپنا عہد بھی باندھا ہے کہ مُلکِ کعنان جو اُنکی مُسافرت کا مُلک تھا اور جس میں وہ پردیسی تھے اُنکو دُونگا ۔
5اور میں نے بنی اسرائیل کے کراہنے کو بھی سُن کر جنکو مصریوں نے غلامی میں رکھ چھوڑ ا ہے اپنے اُس عہد کو یاد کیا ہے ۔
6سُو تُو بنی اسرائیل سے کہہ کہ میں خداوند ہوں اور میں تُمکو مصریوں کے بوجھوں کے نیچے سے نکال لُونگا ۔اور میں تُمکو اُنکی غُلامی سے آزاد کرونگا اور میں اپنا ہاتھ بڑھا کر اور اُنکو بڑی بڑی سزائیں دیکر تُمکو رہائی دُونگا ۔
7اور میں تُمکو لےلُونگا کہ میری قوم بن جاؤ اور میں تُمہارا خدا ہونگا اور تُم جان لُوں گے کہ میں خداوند تُمہارا خدا ہوں جو تم کو مصریوں کے بوجھوں کے نیچے سے نکالتا ہوں ۔
8اور جس مُلک کو ابراہام اور اضحاق اور یعقوب کو دینے کی قسم میں نے کھائی تھی اُس مین تم کو پہنچا کر اُسے میراث کر دُونگا خداوند میں ہوں ۔
9اور موسیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ بایتں سُنا دی پر اُنہوں نے دل کی کڑھن اور غُلامی کی سختی کے سبب سے موسیٰ کی بات نہ سُنی ۔
10پھر خداوند نے موسیٰ کو فرمایا ۔
11کہ جا کر مصر کے بادشاہ فِرعون سے کہہ کہ بنی اسرائیل کو اپنے مُلک میں سے جانے دے ۔
12موسیٰ نے خداوند سے کہا کہ دِیکھ بنی اسرائیل نے تو میری سُنی نہیں ۔پس میں جو نامختُون ہونٹ رکھتا ہو ں فِرعون میری کیونکر سُنیگا ؟۔
13تب خداوند نے موسیٰ اور ہارُون کو بنی اسرائیل اور مصر کے بادشاہ کے حق میں اِس مضمون کا حُکم دیا کہ وہ بنی اسرائیل کو مُلِک مصر سے نکال لے جائیں ۔
14اُنکے آبائی خاندانوں کے سرداریہ تھے رُوبن جو اسرائیل کا پہلوٹھا تھا ۔ اُسکے بیٹے حنوک اور فلّواور حسرون اور کرمی تھے ۔ یہ رُوبن کے گھرانے تھے ۔
15بنی شمعون یہ تھے ۔ یموئیل اور یمین اور اُہد اور یکین اور صحرا اور ساؤل جو ایک کنعانی عورت سے پیدا ہوا تھا ۔یہ شمعون کے گھرانے تھے ۔
16اور بنی لاوی جن سے اُنکی نسل چلی اُنکے نام یہ ہیں ۔ جیرسون اور قہات اور مراری ۔اور لاوی کی عمر ایک سو سینتیس برس کی ہوئی ۔
17بنی جیرسون لبِنی اور سمعی تھے ۔ اِن ہی سے اِنکے خاندان چلے ۔
18اور بنی قہات عمرام اور اضہار ا ور خُبرون اور عُزِئیل تھے اور قہات کی عُمر ایک سو تینتیس بر س کی ہو ئی ۔
19اور بنی مراری محلی اور موشی تھے ۔لاویوں کے گھرانے جن سے اُنکی نسل چلی یہی تھے ۔
20اور عمرام نے اپنے باپ کی بہن یوکبد سے بیاہ کیا ۔ اُس عورت کے اُس سے ہارُون ا��ر موسیٰ پیدا ہوئے اور عمرام کی عُمر ایک سو سینتیس برس کی ہوئی ۔
21بنی اضہار قورح اور نفج اور زکری تھے ۔
22اور بنی عِزئیل یسائیل اور الصفن اور ستری تھے۔
23اور ہارُون نے نحسون کی بہن عمینداب کی بیٹی الیسبع سے بیاہ کیا ۔اُس سے ندب اور ابہیو اور الیعزر اور اتمِرپیدا ہوئے ۔
24اور بنی قورح اشیر اور القنہ اور ابیاسف تھے اور یہ قورچوں کے گھرانے تھے ۔
25اور ہارُون کے بیٹے الیعزر نے فوطیئل کی بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ بیاہ کیا ۔ اُس سے فینحاس پیدا ہوا ۔ لاویوں کے باپ دادا کے گھرانوں کے سردار جن سے ان کے خاندان چلے یہی تھے ۔
26یہ وہ پارون اور موسیٰ ہیں جن کو خداوند نے فِرمایا کہ بنی اسرائیل کو اُنکے جتھوں کے مُطابق مُلک مصر سے نکال لے جاؤ ۔
27یہ وہ ہیں جنہوں نے مصر کے بادشاہ فِرعون سے کہا کہ ہم بنی اسرائیل کو مصر سے نکا ل لے جائینگے ۔ یہ وہی موسیٰ اور ہارون ہیں ۔
28جب خداوند نے مُلک مصر میں موسیٰ سے باتیں کیں تو یوں ہوا ۔
29کہ خداوند نے موسیٰ سے کہا میں خداوند ہوں ۔ جو کُچھ میں تُجھے کہوں تُو اُسے مصر کے باد شاہ فِرعون سے کہنا ۔
30موسیٰ نے خداوند سے کہا دِیکھ میرے تو ہونٹو ں کا ختنہ نہیں ہو ا ۔ فِرعون کیونکر میری سُنیگا ؟۔