Loading Bible Translation
First-time download in progress. This may take a few seconds…
Urdu Holy Bible Wordproject Bible
28 verses
1تیسویں برس کے چوتھے مہینے کی پانچویں تاریخ کو یوں ہوا کہ جب میں نہر کبار کے کنارے پر اسیروں کے درمیان تھا تو آسمان کھل گیا اور میں نے خدا کی رویتیں دیکھیں۔
2اس مہینے کی پانچویں تاریخ کو یہویاکین بادشاہ کی اسیری کے پانچویں برس میں ۔
3خداوند کا کلام بوزی کے بیٹے حزقی ایل کاہن پر جو کسیدیوں کے ملک میں نہر کبار کے کنارے پر تھا نازل ہوا اور وہاں خداوند کا ہاتھ اس پر تھا۔
4اور میں نے نظر کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ شمال سے آندھی اٹھی۔ایک بڑی گھٹا اور لپٹتی ہوئی آگ اور اس کے گرد روشنی چمکتی تھی اور اس کے بیچ سے یعنی اس آگ میں سے صیقل کئے ہوئے پیتل کی سی صورت جلوہ گر ہوئی ۔
5اور اس میں سے چار جانداروں کی ایک شبیہ نظر آئی اور ان کی شکل یوں تھی کہ وہ انسان سے مشابہ تھے۔
6اور ہر ایک کے چار چہرے اور چار پر تھے۔
7اور انکی ٹانگیں سیدھی تھیں اور ان کے پاﺅں کے تلوے بچھڑے کے پاﺅں کے تلوے کی مانند تھے اور وہ منجھے ہوئے پیتل کی مانند جھلکتے تھے۔
8اور انکی چاروں طرف پروں کے نیچے انسان کے ہاتھ تھے اور چاروں کے چہرے اور پر یوں تھے۔
9کہ ان کے پر ایک دوسرے سے باہم پیوستہ تھے اور وہ چلتے ہوئے مڑتے نہ تھے بلکہ سب سیدھے آگے بڑھے چلے جاتے تھے۔
10ان کے چہروں کی مشابہت یوں تھی کہ ان چاروں کا ایک ایک چہرہ انسان کا۔ ایک ایک شیر ببر کا انکی دہنی طرف اور ان چاروں کا ایک ایک چہرہ سانڈ کا بائیں طرف اور ان کا ایک ایک چہرہ عقاب کا تھا۔
11ان کے چہرے تویوں تھے اور ان کے پر اوپر سے الگ الگ تھے۔ ہر ایک کے دو پر دوسرے کے دو پروں سے ملے ہوئے تھے اور دو دو سے ان کا بدن ڈھنپا ہوا تھا۔
12جدھر کو جانے کی کوشش ہوتی تھی وہ جاتے تھے۔ وہ چلتے ہوئے مڑتے نہ تھے ۔
13رہی ان جانداروں کی صورت سو ان کی شکل آگ کے سلگے ہوئے کوئلوں اور مشعلوں کی مانند تھی۔ وہ ان جانداروں کے درمیان ادھر اُدھر آتی جاتی تھی اور وہ آگ نورانی تھی اور اس میں سے بجلی نکلتی تھی۔
14اور وہ جاندار ایسے ہٹتے بڑھتے تھے جیسے بجلی کوند جاتی ہے۔
15جب میں نے ان جانداروں پر نظر کی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ان چار چار چہروں والے جاندار وںکے ہر چہرے کے پاس ایک پہیہ ہے۔
16ان پہیوں کی صورت اور بناوٹ زبر جد کی سی تھی اور وہ چاروں ایک ہی وضع کے تھے اور ان کی شکل اور ان کی بناوٹ ایسی تھی گویا پہیہ پہیے کے بیچ میں ہے۔
17وہ چلتے وقت اپنے چاروں پہلوﺅں پر چلتے تھے اور پیچھے نہیں مڑتے تھے۔
18اور ان کے حلقے بہت انچے اور ڈراﺅنے تھے اور ان چاروں کے حلقوں کے گردا گرد آنکھیں ہی آنکھیں تھیں۔
19جب وہ جاندار چلتے تھے تو پہیے بھی ان کے ساتھ چلتے تھے اور جب وہ جاندار زمین پر سے اٹھائے جاتے تھے تو پہئے بھی ا��ھا ئے جاتے تھے۔
20جہاں کہیں جانے کی خواہش ہوتی تھی وہ جاتے تھے۔ انکی خواہش ادھر ہی ان کو لے جاتی تھی اور پہئے ان کے ساتھ اٹھائے جاتے تھے کیونکہ جاندار کی روح پہیوں میں تھی۔
21جب وہ چلتے تھے یہ چلتے تھے اور جب وہ ٹھہرتے تھے یہ ٹھہرتے تھے اور جب وہ زمین پر سے اٹھائے جاتے تھے تو پہیے بھی ان کے ساتھ اٹھائے جاتے تھے کیونکہ پہیوں میں جاندا کی روح تھی۔
22جانداروں کے سروں کے اوپر کی فضا درخشان تھی اور ان کے سروں کے اوپر پھیلی تھی۔
23اور اس فضا کے نیچے ان کے پر ایک دوسرے کی سیدھ میں تھے۔ ہر ایک کے دو پروں سے ان کے بدنوں کا ایک پہلو اور دوپروں سے دوسرا پہلو ڈھنپا تھا۔
24اور جب وہ چلے تو میں نے ان کے پروں کی آواز سنی گویا بڑے سیلاب کی آواز یعنی قادر مطلق کی آواز اور ایسی شور کی آواز ہوئی جیسی لشکر کی آواز ہوتی ہے ۔ جب وہ ٹھہرتے تھے تو اپنے پروں کو لٹکا دیتے تھے۔
25اور اس فضا کے اوپر سے جو ان کے سروں کے اوپر تھی ایک آواز آتی تھی اور جب وہ ٹھہرتے تھے تو اپنے بازوﺅں کو لٹکا دیتے تھے۔
26اور اس فضا سے اوپر جو ان کے سروں کے اوپر تھی تخت کی صورت تھی اور اسکی صورت نیلم کے پتھر کی سی تھی اور اس تخت نما صورت پر کسی انسان کی سی شبیہ اس کے اوپر نظر آئی۔
27اور میں نے اس کی کمر سے لیکر اوپر تک صیقل کئے ہوئے پیتل کا سارنگ او رشعلہ سا جلوہ اسکے درمیان اور گردا گرد دیکھا اور اس کی کمر سے لیکر نیچے تک میں نے شعلہ کی سی تجلی دیکھی اور اسکی چاروں طرف جگمگاہٹ تھی۔
28جیسی اس کمان کی صور ت ہے جو بارش کے دن بادلوں میں دکھائی دیتی ہے ایسی ہی آس پاس کی اس جگمگاہٹ کی نمود تھی یہ خداوند کے جلال کا اظہار تھا اور دیکھتے ہی میں اوندھے منہ گرا اور میں نے ایک آواز سنی جیسے کوئی باتیں کرتاہے۔